اسلام آباد- مانسہرہ, ناران, جھل کھنڈ،چلاس موٹر وے کو چینی سرحد سے ملانے کے آپشن پر بھی غور

حکومت پاکستان کی جانب سے مری مظفرآباد ایکسپریس وے سمیت 4 بڑے منصوبے پرائیویٹ پارٹنر شپ کے زریعے شروع کرنے کا فیصلہ، تعمیراتی کام شروع کرنے کے حوالے سے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور وزیراعظم پاکستان کے مشیر محمد علی کی مشترکہ صدارت میں اعلیٰ سطحی اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، اجلاس میں این 75 کو توسیع دینے پر اہم مشاورت مکمل، اس مقصد کے لئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو 500 ارب تا 1 کھرب تک کی خود کفیل ادارہ بنانے کے لئے تجاویز کو حتمی بنادیا گیا ہے. وفاقی وزیر برائے مواصلات علیم خان نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور پرائیویٹائزیشن کمیشن سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے ساتھ مل کر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کے چار بڑے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اہم ہدایات جاری کی، جس میں مری ایکسپریس وے کو 70 کلومیٹر مظفرآباد تک توسیع شامل ہے ، عبدالعلیم خان نے کہا کہ مری ایکسپریس وے کی تعمیر کا مقصد آزاد جموں و کشمیر کو پاکستان کے مرکزی موٹروے اور ایکسپریس وے نیٹ ورک سے براہِ راست منسلک کرنا ہے، جس سے مقامی رہائشیوں، سیاحوں اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے سفر کو محفوظ اور آسان بنایا جا سکے گا۔ اجلاس کے دوران شرکاء نے نجی شعبے کی ممکنہ شمولیت کے لیے مختلف ہائی وے نیٹ ورکس کے مالی امکانات اور تجارتی امکانات کا جائزہ لیا۔ زیر بحث تجاویز میں ایم 10 موٹر وے کے 169 کلومیٹر کے حصے کو پی پی پی فریم ورک کے تحت عملدرآمد کے لیے زیر غور لایا گیا۔ میٹنگ میں مانسہرہ – ناران – جھل کھنڈ – چلاس موٹر وے کو چینی سرحد سے ملانے کے آپشن پر بھی غور کیا گیا۔