بنگلادیشی میڈیا کے مطابق چٹاگانگ ڈویژن کی انڈر 18 ٹیم کے رکن مہدی حسن ہردوئے خون کے سرطان میں مبتلا تھے، انہیں بہتر علاج کے لیے ڈھاکا منتقل کیا جا رہا تھا تاہم وہ اسپتال پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ گئے۔
بائیں ہاتھ سے فاسٹ بولنگ کرنے والے مہدی حسن ہردوئے کو چٹاگانگ کی جونیئر کرکٹ میں ایک باصلاحیت اور ابھرتا ہوا کھلاڑی سمجھا جاتا تھا۔
رپورٹ کے مطابق کرکٹ بورڈ (بی سی بی) اور وزارتِ امورِ نوجوانان و کھیل نے ان کے علاج کے لیے 5، 5 لاکھ ٹکا فراہم کیے تھے، تاہم طبی کوششوں کے باوجود ان کی جان نہ بچائی جاسکی۔


