96 سالہ لیلین ڈرونیاک، جو اپنے سوشل میڈیا فالوورز میں گرینڈما ڈرونیاک کے نام سے جانی جاتی ہیں، جون میں اُس وقت وائرل ہو گئیں جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے ریٹائرمنٹ ہوم نے پارٹیاں کرنے پر انھیں نکالنے کی دھمکی دی تھی۔

بعد ازاں ریٹائرمنٹ ہوم نے اس دھمکی کی تصدیق کی، لیکن ڈرونیاک کے ساتھ ایک سمجھوتہ کر لیا جس کے تحت انھیں پارٹیاں جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی، تاہم وہ ان میں نشہ آور مشروبات فراہم نہیں کر سکتیں۔
ایک کروڑ 50 لاکھ فالوورز کے ساتھ، ڈرونیاک نے اپنی شخصیت کو ایک منافع بخش کاروبار میں بدل دیا ہے اور سوشل میڈیا سے اتنی آمدنی حاصل کرتی ہیں کہ اپنے نرسنگ ہوم کی ماہانہ 12 ہزار ڈالر فیس ادا کر سکیں۔

امریکی ریاست کنیکٹیکٹ کی رہائشی ڈرونیاک ان بہت سی عمر رسیدہ خواتین میں شامل ہیں جو آن لائن غیر متوقع شہرت حاصل کر رہی ہیں، جبکہ ان کے سامعین میں اکثر ایسے لوگ شامل ہوتے ہیں جو عمر میں ان کے پوتے پوتیوں جتنے ہوتے ہیں۔
برطانیہ کے شہر کارڈف کی رہائشی 82 سالہ ویو ٹروران بھی اتنی ہی شوخ اور خوش مزاج ہیں۔

انھوں نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر پوسٹس کرنا شروع کیں، جب ان کی پڑوسن نے مشورہ دیا کہ ان کے رنگا رنگ لباس کی ویڈیوز بنائی جائیں۔
انھوں نے اپنے سونے کے کمرے کو سٹوڈیو میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہاں سے وہ روزانہ دو ویڈیوز بناتی ہیں، جن میں وہ اپنے کپڑے، چشموں کے 22 جوڑے اور سکارفوں سے بھرے دو دراز دکھاتی ہیں۔
وہ اپنے فالوورز اور ویوز کا ریکارڈ رکھنے کے لیے ایک نوٹ بک بھی استعمال کرتی ہیں، اور اب وہ پانچویں نوٹ بک تک پہنچ چکی ہیں۔
انفلوئنسر مارکیٹنگ ایجنسی ’وی آر سوشل‘ سے وابستہ نومی بارکر کا کہنا ہے کہ زیادہ عمر کے تخلیق کار برینڈز کے لیے پُر کشش ہوتے ہیں کیونکہ ان کے پاس اکثر فالوورز کی ’انتہائی وفادار‘ کمیونٹیز ہوتی ہیں جن کی خریداری کی قوت زیادہ ہوتی ہے، اور اس چیز کی بہت قدر (ویلیو) ہے۔

،تصویر کا کیپشننونا گریسی کو ’انٹرنیٹ کی اطالوی دادی‘ کا لقب دیا گیا ہے
83 سالہ گریس جیرامیٹا کے لاکھوں فالوورز ہیں۔ وہ ان کے سامنے کھانا پکانے کی وہ تراکیب پیش کرتی ہیں، جو وہ خود کئی دہائیوں سے استعمال کر رہی ہیں۔

نونا گریسی کے نام سے معروف جیرامیٹا 18 برس کی عمر میں اٹلی سے امریکہ منتقل ہوئیں اور اپنی دو بیٹیوں کی کفالت کے لیے بیک وقت کئی ملازمتیں کیں۔ اب وہ اس سے زیادہ کماتی ہیں جتنا انھوں نے اپنی کسی بھی سابقہ ملازمت میں کمایا تھا۔
انفلوئنسر مارکیٹنگ ایجنسی ’وی آر سوشل‘ کی نومی بارکر کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک کی نانیوں دادیوں کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جہاں ایک طرف دنیا میں ہر جانب غیر یقینی کی سی صورتحال پائی جاتی ہے، ایسی دنیا میں وہ لوگوں کو سکون اور اطمینان فراہم کرتی ہیں۔

ان کے مطابق، ان کا صاف ستھرا اور مثبت مواد فالوورز کے لیے ایک ’ورچوئل دادی‘ کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔فالوورز بتاتے ہیں کہ باربرا کو دیکھ کر انھیں اپنی مائیں اور نانیاں دادیاں یاد آ جاتی ہیں۔