وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ اس پارلیمان میں ایسی بلیک میلنگ ہو رہی ہے کہ بلیک میلر بھی شرما جائے، ہماری مائیں ہمیں بلے اور چڑی چھکے سے بھی مارا کرتی تھیں، رات کی تاریکی میں بھی اپنی ماں کو کوئی تھو نہیں کہہ سکتا۔

قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ احادیث اور قرآنی آیات کا استعمال اپنے ذاتی مفاد کے لیے نہ کریں، یہ پاکستان شہداء کا ہے ، یہ پاکستان ان کا نہیں ہے جنھوں نے بنگلے بنا لیے اور بڑی بڑی گاڑیاں لے لیں، یہ پاکستان ان فوجی جوانوں کا ہے جو سرحد پر کھڑے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کیا ہمیں جیلوں میں نہیں ڈالا گیا تو کیا ہم عزت دینے والے پاکستان کو بھول جائیں ، یہاں کبھی ہم پختون، سرائیکی، پنجابی اور بلوچ بن جاتے ہیں، جنھوں نے برا بھلا کہا ان کے اپوزیشن لیڈر بن گئے یہ حال مولانا صاحب کا ہے، اچکزئی صاحب آپ وہی ہیں جنھوں نے کہا تھا بلوچ اپنی فوج بنائیں۔

عباسی نے کہا کہ افغانستان اور ہندوستان آپ کو پاکستان سے زیادہ اچھا لگتا ہے، آئیں دہشتگردی کی اس جنگ میں، کل مولانا نے انتہا ہی کر دی کہ آپ کے اور میرے شہید، آپ کے کون سے شہید ہیں؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی تقاریر سے پاکستان ٹوٹ جائے گا۔

حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ کیا ہمیں جیلوں میں نہیں ڈالا گیا، تو کیا ہم عزت دینے والے پاکستان کو بھول جائیں؟ یہاں کبھی ہم پختون، سرائیکی، پنجابی اور بلوچ بن جاتے ہیں۔ جنہوں نے برا بھلا کہا، وہ ان کے اپوزیشن لیڈر بن گئے، یہی مولانا صاحب کا حال ہے۔ انہوں نے محمود خان اچکزئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ وہی ہیں جنہوں نے کہا تھا کہ بلوچ اپنی فوج بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ جو اٹھتا ہے کہتا ہے کہ کشمیر جا رہا ہوں، خیبر پختونخوا جا رہا ہوں یا بلوچستان جا رہا ہوں، کسی مائی کے لال میں ایسا کرنے کی ہمت نہیں۔ پوری دنیا میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ڈنکے بج رہے ہیں۔ وزیر اعظم کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ انہیں کون پوچھتا ہے، درست نہیں، انہیں سب پوچھتے ہیں اور دنیا بھر کے حکمران ان سے ملنا چاہتے ہیں۔

حنیف عباسی نے کہا کہ فوج میں بلوچ، پنجابی، پشتون اور سندھی سب شامل ہیں۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گرد آج منہ چھپا رہے ہیں اور بھاگ رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبر پختونخوا پولیس کے جوانوں کو آپ کی سیاست کے لیے کیوں کٹوایا جائے؟
آج پاکستان اس خطے کا محفوظ ملک ہے اور سب کو پاکستان کے جھنڈے تلے اکٹھا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تفریق کرنے والوں کو وہ نہیں مانتے۔