رولپنڈی میں میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ 8 اپریل کے بعد پہلی ملاقات بیرسٹر سلمان صفدر کی ہوئی، یہ خوش آئند ہے، 380 دن کے بعد یہ ملاقات ہوئی، ملاقاتیں بند ہونےکی وجہ سے تناؤ ہے، قیدی کو 15دن میں فیملی سے نہ ملوانا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے،ملاقاتیں ہوتیں توبہتری آتی،کے پی میں ایمرجنسی اورگورنر راج کی نوبت نہ آتی۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ہونے والی یہ ملاقات ہماری بھی ضرورت تھی، ملاقات میں بانی پی ٹی آئی سے زیادہ سیاسی بات نہیں ہوئی، سلمان صفدرکوئی ایسی بات نہیں لے کر آئے جس سے سیاسی خبربنے، سلمان صفدر نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، بانی پی ٹی آئی نے ایسا نہیں کہا کہ اچھا ہوا کے پی حکومت ختم ہوگئی۔

ملاقاتیں ہوتی تو بہتری آئی اور یہ تنا نہ ہوتا اور خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کی نوبت بھی نہ آتی۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ملاقات کے لئے میرے نام کے فائنل ہونے کی تردید کرچکا ہوں، میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ سیاسی لوگوں کی ملاقات ہو، میں نے اپنے سمیت علامہ ناصر عباس کے نام کی بھی کوشش کی جبکہ سیاسی ملاقات نہ ہونے پر سلمان صفدر کی ملاقات کی کوشش کی جو ہو گئی۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ وزیر اعلی کے پی اور سپیکر کی بازیابی کا کہا آج پشاور ہائیکورٹ میں سماعت تھی، جس کو لارجر بینچ بیھجا ہے اور امید ہے کہ اس درخواست پر جلد سماعت ہوگی، وزیر اعلی کے پی اور سپیکر کا لاپتہ ہو جانا سمجھ سے باہر ہے۔
انہوں نے سلمان صفدر کی اڈیالہ میں ملاقات پر کہا کہ بانی سے ہونے والی یہ ملاقات ہماری بھی ضرورت تھی جبکہ سلمان صفدر نے بتایا کہ بانی ایمرجنسی اور گورنر راج کے بارے میں آگاہ تھے .
چیئرمین پی ٹی آئی نےکہا سیاسی انتقام عروج پر ہے جس سے جمہوریت کو خطرہ ہے، ہم نے بارہا کہا ہم ریاست اور پاکستان کے ساتھ ہیں، غیر سیاسی بہنوں کے جیل میں ہونے کو گناہ سمجھتا ہوں، میری گزارش پر نورین نیازی کو ایک دن زیادہ اسپتال میں رکھا گیا.