ہمارے معاشرے میں ماں باپ کی قربانی کا کوئی نعم البدل نہیں۔ وہ راتوں کی نیند قربان کرتے ہیں، اپنی خواہشیں دباتے ہیں اور بیٹی کی تعلیم، تربیت اور مستقبل کے لیے برسوں کی کمائی لگا دیتے ہیں۔ پھر ایک دن وہی بیٹی خاندان کو بتائے بغیر گھر چھوڑ دیتی ہے اور کورٹ میرج کر لیتی ہے۔ ماں باپ کو یہ خبر اکثر عدالت، پریس کلب یا سوشل میڈیا سے ملتی ہے۔

والدین کا دکھ
اس سانحے کے بعد اکثر والدین ہی کٹہرے میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ بیٹی پریس کانفرنس میں اپنے ہی گھر والوں سے خطرہ ظاہر کرتی ہے اور وہ ماں باپ، جنہوں نے اسے پالا، ایک لمحے میں ملزم بن جاتے ہیں۔ محلے اور برادری میں ان کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور وہ برسوں سر اٹھانے سے کتراتے ہیں۔ بیٹی کے مستقبل کے جو خواب انہوں نے دیکھے تھے، وہ ٹوٹ جاتے ہیں۔

فیصلہ جذبات میں نہیں، مشاورت سے ہو۔ کم عمری اور ناتجربہ کاری میں کیے گئے فیصلے اکثر جذباتی ہوتے ہیں۔ والدین زندگی کا تجربہ رکھتے ہیں اور لڑکے کے خاندان، کردار اور ذریعۂ معاش کی تحقیق کر سکتے ہیں۔
شادی دو افراد کا نہیں، دو خاندانوں کا رشتہ ہے۔ ہماری روایت میں نکاح خاندانوں کی رضامندی سے مضبوط ہوتا ہے، اور جو رشتہ والدین کی دعاؤں کے بغیر شروع ہو، وہ اکثر تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔دھوکے اور استحصال کا خطرہ۔ بعض نوجوان محض میٹھی باتوں سے لڑکیوں کو گھر چھوڑنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ بعد میں جب حقیقت کھلتی ہے تو واپسی کا راستہ بند ہو چکا ہوتا ہے۔

اسلامی تعلیمات میں ولی کا کردار۔ ان کے نزدیک نکاح میں ولی کی شمولیت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، اور قانون کو اس روایت کی حفاظت کرنی چاہیے۔کورٹ میرج کا غلط استعمال۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالتی نکاح بعض اوقات جلد بازی میں، والدین کو اطلاع دیے بغیر اور مشکوک حالات میں ہوتے ہیں۔مطالبہ صدرِ پاکستان، وزیرِ اعظم اور چیف جسٹس سے اپیل ہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ایسی قانون سازی پر غور ہو جس میں شادی سے پہلے والدین کو اطلاع دینے اور ان کی شمولیت کو یقینی بنانے کا نظام ہو۔ یہ محض ایک بل کا نہیں، والدین کی عزت، آنسوؤں اور عمر بھر کی کمائی کا سوال ہے۔

نوٹ  یہ تحریر راقم کی اپنی رائے ہے ضروری نہیں کہ ادارہ اس سے متفق ہو