صوبہ سندھ کے ضلع دادو میں کلاس نہم کی طالبہ آمنہ رند کی جانب سے اپنے والد پرعائد کیے گئے جنسی زیادتی کے سنگین الزامات نے پورے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک خاندان کا معاملہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی، اخلاقی اور خاندانی نظام کے لیے بھی ایک بڑا لمحۂ فکریہ ہے۔

آخر ہمارا معاشرہ کس سمت جا رہا ہے؟ وہ رشتے جو تحفظ، محبت اور اعتماد کی علامت سمجھے جاتے ہیں، ان کے حوالے سے اس نوعیت کے الزامات سامنے آنا انتہائی تکلیف دہ اور تشویش ناک ہے۔اس معاملے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ طالبہ کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات میں کتنی سچائی ہے اور اصل حقیقت کیا ہے؟ اس کا فیصلہ سوشل میڈیا کی بحث، عوامی جذبات یا کسی کے ذاتی مؤقف کی بنیاد پر نہیں بلکہ شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کے ذریعے ہونا چاہیے۔

اگر طالبہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو ملوث شخص کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جانی چاہیے، تاکہ معاشرے میں ایسے سنگین جرائم کی روک تھام ہو اور کسی بھی کم عمر بچی کے ساتھ اس نوعیت کی زیادتی کا تصور بھی نہ کیا جا سکے۔دوسری جانب اگر اس معاملے میں بلیک میلنگ، ذاتی دشمنی یا کسی دوسرے عنصر کے شواہد سامنے آتے ہیں تو ان پہلوؤں کی بھی آزادانہ اور مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ کسی کو محض الزام کی بنیاد پر مجرم قرار دینا درست نہیں، اسی طرح کسی بااثر شخص کو قانون سے بالاتر سمجھنا بھی ناقابل قبول ہے۔

یہاں سب سے بڑی ذمہ داری متعلقہ پولیس، تحقیقاتی اداروں اور عدالتی نظام پر عائد ہوتی ہے کہ وہ کسی دباؤ، سفارش یا اثرورسوخ کے بغیر حقائق سامنے لائیں۔ بالخصوص طالبہ کی عزت، تحفظ اور ذہنی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے مکمل قانونی اور انسانی تحفظ فراہم کیا جائے۔اسلامی معاشرے میں والدین اور اولاد کا رشتہ احترام، شفقت اور اعتماد کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔

اگر اس رشتے کے حوالے سے ایسے سنگین الزامات سامنے آئیں تو یہ پوری قوم کے لیے سوچنے کا مقام ہے۔ ہمیں جذباتی فیصلوں کے بجائے انصاف، قانون اور سچائی کا ساتھ دینا ہوگا۔آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا اس حساس معاملے کی شفاف تحقیقات کے ذریعے اصل حقیقت سامنے لائی جائے گی؟ کیا طالبہ کو انصاف اور تحفظ مل سکے گا؟ اور کیا قانون کے مطابق ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی؟

معاشرے کو قیاس آرائیوں نہیں، سچائی اور انصاف کی ضرورت ہے۔ اس معاملے میں خاموشی یا جلد بازی نہیں بلکہ غیرجانبدارانہ تحقیقات اور قانون کی بالادستی ہی واحد راستہ ہے۔

یاد رہے کہ دادو میں نویں کلاس کی 16 سالہ طالبہ آمنہ رند نے اپنے سگے والد علی نواز رند پر مبینہ طور پر جنسی زیادتی کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ متاثرہ لڑکی نے دادو پریس کلب پہنچ کر ایک ویڈیو بیان کے ذریعے انکشاف کیا کہ اس کا والد گزشتہ کئی ماہ سے اسے زیادتی کا نشانہ بنا رہا تھا۔ لڑکی کے مطابق اس نے اس ظلم کے بارے میں اپنی والدہ اور گھر کے دیگر افراد کو بھی بتایا، لیکن داد رسی کرنے کے بجائے اسے خاموش رہنے کا کہا گیا، جس کے بعد اس نے ثبوت کے طور پر ویڈیو ریکارڈ کی اور پولیس سے رابطہ کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایس ایس پی دادو، کیپٹن (ر) صدام حسین خاصخیلی نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے لڑکی کو تحفظ فراہم کرنے اور ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا۔
پولیس نے متاثرہ لڑکی کی مدعیت میں اس کے والد علی نواز رند سمیت 6 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کارروائی کے دوران مزاحمت کرنے والے 4 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

پولیس کی جانب سے ملزم کے گھر پر چھاپہ مارا گیا تاہم مرکزی ملزم (والد) فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اور متاثرہ لڑکی کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی اپیل کی جا رہی ہے۔