اسلام آباد(ای پی آئی )امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ڈیجیٹل مردم شماری کب ہوئی ہے، اتنا عرصہ گزر گیا حکومت اتنا عرصہ گزا ر نے کے بعد اب جاگ گئی، جب ایک حکومت کی مدت آئینی لحاظ سے مکمل ہو رہی ہے،
انھوں نے کہا کہ اس سارے پراسیس کو یہ زیادہ سے زیادہ انتخابات کو تاخیر کاشکار کرنے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ جماعت اسلامی کاموقف ہے کہ جلد ازجلد انتخابات ہونے چاہیں اور کم ازکم مدت میں آئینی اورقانونی تقاضوں کو پورا کر کے عوام کو نیا مینڈیٹ دینے کا موقع دینا چاہیئے۔
اب ہمارا مطالبہ یہی ہے کہ جتنا جلد ازجلد اورکم ازکم وقت میں یہ پراسیس مکمل ہوسکتا ہے مکمل کرنا چاہیئے اورنیا الیکشن ہو۔
سراج الحق کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ چھ ماہ پہلے یہ سب کچھ ہوا ہے اور چھ مہینے تک یہ خاموش رہے ، اب اگر مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوا ہے تو یہ چھ ماہ قبل کیوں نہیں ہوا، اس سے پتا چلتا ہے کہ موجودہ حکومت کی کارکردگی چونکہ صفر ہے ، عوام کا سامنا نہیں کرسکتے ، مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے عوام متنفر ہے ،
انہوں نے اس چیز کو استعمال کیا جو بہر حال ایک قانونی جواز ہے ، مردم شماری ہوجائے اور سی سی آئی میں اس پر اتفاق ہوجائے تو پھر نئی حلقہ بندیاں ہوجاتی ہیں ، اس لئے بڑی چالاکی کے ساتھ حکومت نے اس چیز کو استعمال کیا ، اب ہمارا مطالبہ یہی ہے کہ جتنا جلد ازجلد اورکم ازکم وقت میں یہ پراسیس مکمل ہوسکتا ہے مکمل کرنا چاہیئے اورنیا الیکشن ہو۔
حکومت نے چھ ماہ کی تاخیر اس لئے کی کیونکہ انہوں نے آئی ایم ایف کے دبائو میں کچھ کام کرنے تھے، اس کی وجہ سے ان کی پوزیشن بہت کمزور ہو گئی ،اب بھی جتنی تاخیر ہو یہ اپنے لئے اسے چھا سمجھتے ہیں، جان بوجھ کر انہوں نے تاخیری حربے استعمال کئے ہیں۔


