لاہور (ای پی آئی ) نگران حکومت کی جانب سے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈائوں کے احکامات پر ملک گیر چھاپے جاری ہیں .
لاہور سے پشاور اورکراچی سے کوئٹہ تک چینی کے اسمگلروں اورذخیرہ اندوزوں کیخلاف کارروائی کے دوران مزید ہزاروں بوریاں برآمد کرلی گئیں ہیں جبکہ کئی شہروں میں فی کلوقیمت 165تک گرگئی ہے۔
پنجاب حکومت نے ضلع رحیم یار خان، ڈی جی خان،راجن پور،میانوالی، بھکر اور اٹک کے ڈپٹی کمشنرز کو چینی کی نقل و حرکت پر مکمل نظر رکھنے کی ہدایت کی ہے، اس نے اسمگلنگ اور سٹہ بازی میں ملوث شوگر ڈیلروں کی فہرست ایف آئی اے کو فراہم کر دی ہے۔
کلرسیداں کے علاقہ چبوترہ میں واقع اسلام آباد کمیشن شاپ میں چھاپہ مارکرچینی کی 1428 بوریاں برآمدکرلی گئیں۔ اسسٹنٹ کمشنر نے گودام سر بمہر کر کے ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کو رپورٹ بھیج دی۔
ذرائع کے مطابق پچنند میں 5ہزار سے زائد بوریاں موجود ہیں جو 45سو سے 5 ہزارروپے تک خریدی گئیں اور 85سو سے 9ہزار روپے تک بیچی جا رہی ہے۔
کراچی میں چینی 10روپے سستی ہوکر165 روپے تک آگئی ہے۔سکھر میں 2 ہزار سے زائد چینی کی بوریاں برآمد کرلی گئیں۔جیکب آباد بائی پاس پر درجن ٹرک پکڑ کر چینی، گندم اور کھاد کی 15ہزار سے زائد بوریاں برآمد کرلی گئیں۔یہ ٹرک سندھ اور پنجاب سے جیکب آباد کے راستے کوئٹہ منتقل کیے جارہے تھے، جہاں سے یہ اشیاء افغانستان سمگل کی جاناتھیں۔
باجوڑکے علاقے عنایت کلے بازار میں دو گوداموں سے52 سوبوریاں برآمد کرلی گئیں۔ تیمرگرہ میں 2950 برآمدکرکے 2گودام سیل کردیئے گئے۔
پاک افغان سرحد بند ہونے کے باعث پشاور میں چینی کی بوری ہزارروپے کمی کے بعد8ہزار روپے کی ہوگئی کسٹمز حکام اورایف سی نے کوئٹہ ژوب روٹ پر 6 ٹرکوں سے چینی کے 26سو تھیلے برآمدکرلیے۔


