اسلام آباد (عابدعلی آرائیں) سپریم کورٹ آف پاکستان نے13جماعتی پی ڈی ایم حکومت کی طرف سےنیب قانون میں کی گئی ترامیم کو کالعدم قراردینے کا تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے دو ایک کے تناسب سے جاری کیا گیافیصلہ 58صفحات پر مشتمل ہے چیف جسٹس عمر عطابندیال اور جسٹس اعجازالاحسن کی جانب سے دیا گیا متفقہ اکثریتی فیصلہ 55صفحات اور جسٹس منصور علی شاہ کا اختلافی نوٹ دو صفحات پر مشتمل ہے جبکہ 58ویں صفحہ پر عدالت نے درخواست گزار عمران خان کی درخواست دو ایک کی اکثریت سے منظور کرنے کا ڈیڑھ لائن پر مشتمل فیصلہ سنایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ نے اس فیصلے سے اختلاف کیا ہے

اکثریتی فیصلے میں قراردیا ہے کہ چیئر مین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی درخواست قابل سماعت ہے کیونکہ نیب قانون میں کی گئی ترامیم شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل9، عام شہری کے عزت وقار کے تحفظ کے آئینی آرٹیکل14، پراپرٹی کے تحفظ کے آئینی آرٹیکل24اور شہریوں کیساتھ مساوی سلوک کے آرٹیکل سے متصادم ہے ۔
عدالت نے لکھا ہے کہ نیب قانون میں کی گئی یہ ترامیم عوامی مفاد کو بڑے پیمانے پر متاثر کرتی ہیں کیونکہ ترقیاتی منصوبوں سے ریاستی وسائل کا رخ غیر قانونی طور پرنجی استعمال کی جانب موڑنے سے ملک میں غربت بڑھتی ہے ، معیار زندگی بدترہوتا ہے اور ناانصافی فروغ پاتی ہے۔

عدالت نے قراردیا ہے کہ دوسری ترمیم میں نیب قانون کی شق 3میں ترمیم کے ذریعے نیب کو 50کروڑ سے زائد کی کرپشن کی تحقیقات کا اختیار دیا گیا جبکہ شق 2 میں ترمیم کرکے عوامی عہدیداروں کے خلاف اب تک دائر کئے گئے تمام ریفرنسز کالعدم قراردے دیئے گئے تھے۔حالانکہ یہ ریفرنسز منتخب عوامی عہدیداروں اور سروس آف پاکستان میں موجود اشخاص کے خلاف نیب آرڈیننس کی شق 9کے تحت دائر کئے گئے تھے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نیب آرڈیننس کی شق 9میں through corrupt and dishonest meansکی ایک phrase شامل کرکے اس شق کی وضاحت بھی پہلی ترمیم کی تاریخ سے ختم کردی گئی تاکہ عوامی عہدیداروں کے خلاف ریفرنسزکو ختم کیا جاسکے، اس حد تک پہلی ترمیم کی شق 8میں کی گئی ترمیم کو کالعدم قراردیا جاتا ہے ۔

عدالت نے لکھاہے کہ سروس آف پاکستان میں موجود شخصیات کے خلاف دائر کئے گئے ریفرنسزکے حوالے سے کی گئی ترمیم برقراررکھی جاتی ہے ۔

فیصلے میں کہا گیاہے کہ نیب آرڈیننس کی شق 14اور شق 21جی میں کی گئی ترامیم کوپہلی ترمیم کے دن سے بحال کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں پہلی ترمیم کی شق 10اورشق 14 کالعدم ہوجائیں گے۔
عدالت نے لکھا ہے کہ نیب آرڈیننس کی شق 25 بی کو دوسری ترمیم کے دن سے کالعدم کیاجاتا ہے اس لئے دوسری ترمیم کی شق 14بھی کالعدم قرارپائے گی۔

عدالت اپنے فیصلے کے پیراگراف 49میں لکھتی ہے کہ ہمارے اس فیصلے سے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد نیب اور احتساب عدالتوں کی طرف سے جاری کئے گئے تمام احکامات کالعدم قرارپاگئے ہیں اور ان کا کوئی قانونی اثر باقی نہیں رہااس لئے وہ تمام انکوائریز، تمام انوسٹی گیشنز اور ریفرنسز جو ان ترامیم کے بعد نمٹادیئے گئے وہ تمام 2022میں کی گئی ترامیم سے قبل اپنی پہلی صورت میں بحال ہوجائیں ان تمام انکوائریز ، انوسٹی گیشنز اور ریفرنسز کو متعلقہ فورمز پرزیرالتوا سمجھا جائے۔
عدالت نے نیب اور تمام احتساب عدالتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام بحال کی گئی کارروائیوں کو قانون کے مطابق آگے بڑھائیں۔
عدالت نے کہا ہے کہ نیب اور دیگر تمام فورمز آج سے سات روز کے اندر تمام ریکارڈ متعلقہ فورمز کو واپس بھجوائیں اس میں کسی صورت تاخیر نہ کی جائے ، عدالت نے کہا ہے کہ ان تمام مقدمات میں قانون کے مطابق اسی سطح سے کارروائی کوآگے بڑھایا جائے گا جس سطح سے ان کونمٹایاگیا، بندکیا گیا یا واپس کیا گیا تھا ۔ ان شرائط کے ساتھ یہ درخواست منظور کی جاتی ہے ۔

جسٹس منصور علی شاہ کا اختلافی نوٹ
پیراگراف ایک
جسٹس منصور علی شاہ کا اختلافی نوٹ دو صفحات اور چار پیراگراف پر مشتمل ہے

جس میں جسٹس منصور علی شاہ کاکہنا ہے کہ فاضل چیف جسٹس عمر عطابندیال کی جانب سے اس کیس کا فیصلہ تحریرکیا گیا ہے جس سے جسٹس اعجازالاحسن نے بھی اتفاق کیا ہے یہ فیصلہ مجھے گذشتہ رات بھجوایا گیا اور میں نے اس کو پڑھا ،
جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا ہے کہ انتہائی ادب کے ساتھ میں چیف جسٹس کے فیصلے سے اتفاق نہیں کرتا کم وقت کی وجہ سے میں اپنے اختلافی نوٹ کی وجوہات نہیں لکھ سکا تفصیلی وجوہات بعد میں اپنے تفصیلی اختلافی نوٹ میں دوں گا۔ تاہم اپنے فاضل ساتھی ججز اور ان کی رائے کے احترام مختصر رائے میں بتانا چاہتا ہوں کہ کیوں میں ان سے اتفاق نہیں کرتا۔

پیراگراف 2
میری مودبانہ رائے کے مطابق اس مقدمہ میں بنیادی سوال پارلیمنٹ کی طرف سے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کا نہیں بلکہ اصل سوال پارلیمنٹ کی اہمیت/بالادستی کاہے جوکہ پاکستان کے 24کروڑ عوام کے منتخب نمائندوں کا ایوان ہے ۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ یہ معاملہ پارلیمانی جمہوریت کی آئینی اہمیت اور آئین میں ریاست کے تینوں ستونوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا ہے ۔
جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا ہے کہ یہ معاملہ غیر منتخب ججز پر مشتمل عدالت کے دائرہ اختیار کا ہے ، دوسرا یہ کہ اس میں پارلیمنٹ کی جانب سے بنائی گئی پالیسی کو دیکھاجارہاہے حالانکہ اس میں آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کی کو واضح خلاف ورزی بھی نظر نہیں آرہی۔
جسٹس منصور علی شاہ لکھتے ہیں کہ میں رائے میں اس اکثریتی فیصلے میں خامی ہے کیونکہ آئینی کمانڈ یہ ہے کہ ریاست اپنے اختیارات اپنے عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی ،اس ضمن میں سہہ جہتی تقسیم اختیارات کو مدنظر رکھا جائے گاجو پارلیمانی جمہوریت کی بنیاد ہے ۔
جسٹس منصور علی شاہ لکھتے ہیں کہ اکثریتی فیصلہ غیر آئینی اس لئے بھی ہے کیونکہ اس فیصلے سے پارلیمینٹرین والا کام کیا گیاہے جس سے سیاسی بحث اور پالیسی بنانے کا کام پارلیمنٹ سے سپریم کورٹ کے عدالتی ہاؤس میں منتقل ہوا ہے ۔ یہ طے کئے بغیر کہ آئین کے تحت پارلیمنٹیرینز کا احتساب بنیادی حقوق کا اہم حصہ ہے اکثریتی فیصلہ اس نتیجے پر پہنچ گیا ہے کہ یہ ترامیم بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں ۔
جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا ہے کہ اکثریتی فیصلے میں پارلیمنٹ نے جو کیااس کی تعریف نہیں کی ، پارلیمنٹ کچھ بھی ختم کرسکتی ہے پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیار کو کسی صورت ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اگر پارلیمنٹ نیب قانون بنا سکتی ہے تو پارلیمنٹ اس پورے قانون کو ختم یا اس میں ترمیم بھی کرسکتی ہے ۔
ان تمام وجوہات کی بنا پر میں اپنے فاضل ساتھی ججزکی رائے سے اختلاف کرتاہوں تاہم تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔