اسلام آباد (ای پی آئی ) معروف اینکر پرسن و صحافی سید طلعت حسین نے سابق وزیر اعظم میاں شہباز شریف کے لندن جانے اورنواز شریف کے موجودہ اسٹیبلشمنٹ پر تحفظات کے حوالے سے بڑے انکشافات کئے ہیں ۔

اپنے تازہ وی لاگ میں طلعت حسین نے کہا ہے کہ لندن سے آنے کے 48 گھنٹے کے بعد ایک اور لندن کی جانب فلائٹ اور اس کے بعد مریم نواز کی فلائٹ اب زیر بحث ہے اور اب بڑی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ یہ کیوں ہوا ۔ایک تو یہ کہ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے میاں محمد نواز شریف کی واپسی کے انتظامات سے وہ سارے کے سارے ایک عوامی بحث ہے جو پارٹی کے اندر طویل عرصے سے جاری اور اب اس کا باقاعدہ پلان مرتب ہو رہا ہے دوسری بات یہ ہے کہ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے آنے والےا نتخابات میں پاکستان مسلم لیگ کی الیکشن پالیسی کیونکہ وہ پالیسی پارٹی کے اندر کی ایک بحث ہے کیونکہ بہت سارے لوگ شامل ہونگے تو وہ بحث مکمل ہوتی تیسری بات یہ ہے کہ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے کہ کس پارٹی کے ساتھ آپ نے اتحاد کرنا ہے کس پارٹی کے ساتھ اتحاد نہیں کرنا اس کے اندر بھی دوسرے نقطے کی طرح وہ لوگ ملوث ہیں جنھوں نے گراؤنڈ کے اوپر مسلم لیگ ن کی نمائندگی کرنی ہے اور اگر وہ اس دورے کا حصہ نہیں ہیں جو کہ نہیں تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس کا تعلق نہ نواز شریف کی وطن واپسی سے ہے اور نہ انتخابی لائحہ عمل سے ہے اس کا تعلق براہ راست شریف فیملی کے جو معاملات ہیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان سے ان کا تعلق ہے

طلعت حسین نے کہا ہے کہ میاں محمد نواز شریف نے جب یہ بیان دیا کہ ان کی نظر میں مجرم کون ہیں قوم کے اور ان کے تو انھوں نے نام لئے جس کے اندر جنرل باجوہ کا نام لیا ثاقب نثار کا نام لیا ایک حاضر سروس جج صاحب ہیں ان کا نام لیاسابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض کا نام لیا اور پھر انھوں نے اس کے احتساب کی بھی بات کی یہ کہا کہ میں انتقام نہیں چاہتا لیکن احتساب کی بھی بات کہ جب وہ یہ بات کر رہے تھے تو لوگوں نے یہ بھی نوٹس لیا اس ویڈیو کلپ کے اندر کہ وہ کافی جذباتی ہو رہے تھے اور کافی پرانا نواز شریف والا انداز انھوں نے اپنایا ہوا تھا اس کے بیان کے اوپر پھر بہت سے تجزیے ہوئےہم نے اس پر تجزیہ کیا

طلعت حسین کا کہنا تھا کہ پھر جو رد عمل آیا مقتدر حلقوں کی طرف سے وہ بڑا واضح تھا کہ اس ایجنڈے کے ساتھ اس بیانیے کے ساتھ اگر آپ اپنی سیاست کو آگے چلائیں گے تو اس سے پھر مسائل جنم دے سکتے ہیں احتساب کا عمل جو ہے اس کے اندر اگر آپ پڑیں گے تو انتخاب کے عمل کے اندر جو معاملات ہیں وہ بھی اس سے اثر انداز ہونگے تو شہباز شریف صاحب چونکہ تھرتھلی ماسٹر ہیں اس سے مراد یہ ہے ذرا سی اسٹیبلشمنٹ کی کوئی بات ہوتی ہے تو شہباز شریف صاحب کو بہت تھرتھلی پڑتی ہے میں نے آپ کو بتایا تھا کہ جب آپ یہ بیانیہ لے کر چلیں گے نواز شریف کے حوالے سے تو پھر ادھر سے جب جواب آئے گا تو پتہ چلے گا کہ (خزان) کے اپنے کون کون سے لوگ جو ہیں اسی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل بیٹھ کر کیا کیا باتیں کیا کرتے تھے تو پھر بات وہاں پر جائے گی جہاں نواز شریف صاحب جو ہیں وہ یہ بات سننا نہ چاہتے ہوں  عوامی سطح پر ظاہر ہے ان کو ذاتی طور پر بھی ان کو پتہ ہے لیکن عوامی سطح پر سننا نا چاہتے ہوں

سینئر صحافی نے اپنے وی لاگ میں مزید کہا کہ شہباز شریف صاحب تھرتھلی ماسٹر ہیں ان کو پڑی تھرتھلی وہ فوراً یہاں سے گئے اور مریم نواز کا جانا بڑا ضروری ہے اس وجہ سے کہ مریم نواز جو شہباز شریف کی آواز میں آواز اگر ملاتی ہیں تو وہ آواز زیادہ معتبر ہو جاتی ہے میاں محمد نواز شریف آزاد ذرائع سے بھی سننا چاہیں گے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جو معاملات ہیں وہ کس حد تک خراب ہو سکتے ہیں اگر اس بیانیے کو لیکر چلیں اسٹیبلشمنٹ کا دوسرا نقط جو ہے جس کا تعلق اس دورے سے ہے لیکن عمومی میں آپ کو معلومات دے رہا ہوں جو بڑا واضح ہے ان کے خیال کے مطابق کہ عمران خان کے ساتھ جو بھی ایشوز ہوئے وہ تو ہونے ہی تھے وہ اسٹیبلشمنٹ کے کسی ایک فرد سے ان کا تعلق نہیں ہے

طلعت حسین نے کہا ہے کہ آپ کو اچھے طریقے سے یاد ہوگا کہ عمران خان نے جو پہلا حرف تنقید بنایا وہ موجود آرمی چیف نہیں تھے وہ وہ آرمی چیف تھے جن کو عمران خان سر پر بٹھایا کرتے تھے تو جب انھوں نے ان کا ہاتھ چھوڑ دیا تو عمران خان نے ان کو سر سے اتار کر زمین پر پٹخنے کی کوشش کی جن کا نام جنرل قمر جاوید باجوہ تھا تو عمران خان کی لڑائی اگر کسی فرد کے ساتھ تھی قمر جاوید باجوہ کے ساتھ تھی اس آرمی چیف کی تو تعیناتی میں ابھی تقریباً ایک سال باقی تھا جب عمران خان کی لڑائی باقاعدہ اس آرمی چیف کے ساتھ شروع ہو گئی تو اگر عمران خان کا ماننا یہ ہے کہ موجودہ قیادت نے بھی وہی پالیسی اپنائی ہے جو جنرل باجوہ نے اپنائی ہے تو اس سے آپ کو پتہ چلے گا کہ انفرادی یا افرادی پالیسی نہیں ہے یہ بنیادی طور پر ایک ادارے کا فیصلہ ہے کیونکہ عمران خان جس نہج پر نکل گئے تھے اس کے بعد افراد کے ساتھ تعلقات ان کے جیسے بھی ہوں وہ قابل قبول آپ کو نظر نہیں آتے اور پھر ایک ایسا شخص جس کو بنایا اپنے ہاتھوں سے ہو جب وہ سینہ چوڑا کر کے دوبارہ سے دھمکیاں دینے لگ گیا تو پھر جو بنانے والا ہے تو وہ بگاڑنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے تو یہ تو ہوا ادارے کا فیصلہ ،لیکن اسٹیبلشمنٹ کا بھی اب یہ ماننا ہے کہ اس ادارے کے فیصلے اور عمران خان کی اپنی غلطیوں کے وزن کے نیچے اگر نواز شریف کا سب سے بڑا سیاسی مخالف یعنی عمران خان چورا چور ہو گیا تو پھر اس کے اوپر نواز شریف کو خوشی کا اظہار کرنا چاہیے ان کے راستے اگر صاف ہوئے ہیں تو خوشی کا اظہار کرنا چاہیے اگر نیب کے کیسز ختم ہوئے ہیں جو کہ اب دوبارہ کھل جائیں گے وہ میں آپ کو بتاؤں گا بعد میں تفصیل کے نواز شریف کا اس پر پوائنٹ آف ویو کیا ہے تو اس اوپر ان کو خوشی کا اظہار کرنا چاہیے

طلعت حسین کا مزید کہنا تھا کہ ایک طرح سے اسٹیبلشمنٹ یہ کہہ رہی ہے کہ ہم نے کیا تو نہیں ہے نواز شریف کیلئے لیکن نواز شریف بینفشری ہے اس تمام معاملے کا جو عمران خان کے ساتھ ہوا اب نواز شریف کے سامنے عمران خان کے بغیر ایکسیاسی میدان ہے جس کے اپنے چیلنجز ہیں مہنگائی ایک چیلنج ہے ان کا ایک اپنے بھائی کی حکومت کی کارکردگی ایک چیلنج ہے سیاسی جوڑ توڑ ایک چیلنج ہے لیکن وہ سیاستدان جو نپٹنا چاہیے تو اب کسی قسم کی ضمانت کوئی دینے کو تیار نہیں ہے یہ لوگ کہا کرتے تھے کہ لندن پلان ہے وہ محض ہوا کی اڑایا کرتے تھے کوئی لندن پلان نہیں ہے کوئی بھی آرمی چیف کسی کا بندہ نہیں ہوتا مطلب یہ بات اگر اتنے عرصے کے بعد بھی مجھے سمجھانی پڑے یا دوبارہ سے دہرانی پڑے تو ہمیں اس پر حیرت ہوگی کہ کون سی چیز ہے کہ جو اس سوچ پر لوگوں کو مجبور کرتی ہے کہ یہ کسی کا بندہ ہے آرمی چیف کسی کا آدمی نہیں ہوتا آرمی چیف صرف اپنے ادارے کا آدمی ہوتا اس کے علاوہ آرمی چیف کی کوئی تعلق نہیں ہوتا تو اگر کسی کا خیال تھا کہ کوئی لندن پلان ہے انھوں نے آپس میں بیٹھ کر طے کر لیا وہ سب ہوا کی باتیں ہیں

انھوں نے کہا کہ اصل معاملہ یہ تھا کہ عمران خان کے تعلقات خراب ہوئے اسٹیبلشمنٹ سے عمران خان اپنی غلطیوں کی وجہ سے گرا اسٹیبلشمنٹ نے اس کو اٹھانے کی کوشش نہیں نواز شریف کے لئے رستہ صاف ہوا اور اب نواز شریف اگر صاف رستے سے گزرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کا ماننا یہ ہے ایک ایسا ایجنڈا لیکر پاکستان کے اندر آتے ہیں جس سے تعلقات ان کے اور اسٹیبلشمنٹ کے حقیقت میں خراب ہو سکتے ہیں تو یہ کوئی اچھی بات نہیں ہوگی نواز شریف کو شکر ادا کرنا چاہیے ناکہ ان کو مزید ڈیمانڈز کے اندر اضافہ کرنا چاہیے دوسری بات الیکشن پراسس کے اندر جو بھی پارٹی سامنے آئے گی جو بھی نتائج آئیں گے ان کے اوپر سب کو مہر ثبت کرنی ہے یہ بڑا ضروری ہے اب اس کی کوئی ضمانت اسٹیبلشمنٹ دینے کو تیار نہیں ہے کہ کس قسم کے نتائج سامنے آئیں گے

سینئر اینکر پرسن نے اپنے وی لاگ میں کہا کہ کیا پنجاب جو ہے ن لیگ کے پاس جائے گا اتحادی حکومت ہو گی یا مرکز جو ہے ن کے پاس جائے گا یا اتحادی حکومت ہو گی کوئی اس کی ضمانت دینے کو تیار نہیں ہے نتائج کی ضمانت دینے کو تیار نہیں لیکن توقع اسٹیبلشمنٹ کی یہ ہے کہ چونکہ انتخابات موجودہ آرمی چیف اور موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی موجودگی میں ہو رہے ہونگے اور عموماً اگرچہ براہ راست ان کا تعلق نہیں ہوتا تو انتخابات کے نتائج اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے ہی معتبر ہوتے ہیں یا قابل اعتراض ہوتے ہیں تو توقع یہ کی جا رہی ہے کہ ان انتخابات کے نتائج کو اگر کسی جماعت کے لئے قابل قبول نہیں ہیں تو ان کورن ڈاؤن کرنے کی ضرورت نہیں ہے تو اسٹیبشلمنٹ کوئی ضمانت نہیں دے رہی کسی کو کہ آپ طاقت میں آجائیں گے لیکن توقع یہ کر رہی ہے کہ آپ اسٹیبلشمنٹ کے ذریعےیا ان کی موجودگی میں انتخابی نتائج کو اس کے اوپر سوالیہ نشان ہی ڈالیں گے ورنہ تو پھر 2013 والا معاملہ شروع ہو جائے گا 2018 والا معاملہ شروع ہو جائے گا اور یہاں پر اسٹیبلشمنٹ تمام کی تمام پاکستان کی مضبوطی کی بات کر رہی ہے

طلعت حسین کا کہنا تھا کہ ایشین ڈیویلپمنٹ بینک جو ہے اس نے بھی اپنی رپورٹ کے اندر پاکستان کی معیشت کو براہ راست سیاسی استحکام کے ساتھ جوڑ دیا ہے جس کے مراد یہ ہے کہ انتخابات ہونے کے باوجود انتخابات ہونا ایک بہت بڑا کھڑاک ہوگا اس کھڑا ک کے باوجود اگر ہر وقت کھڑکا ہی ہوتا رہے پاکستان کے اندر تو سیاسی استحکام تو نہیں آئے گی تو اسٹیبلشمنٹ ضمانت نہیں دینا چاہتے لیکن یہ بھی توقع کرتے ہے کہ لوگ سیاسی جماعتیں ان کی قیادت ن سمیت ان انتخابات کے نتائج کے اوپر اعتراض نہیں کرے گی

انھوں نے کہا کہ ن لیگ کے مسائل سمجھ لیں میاں محمد نواز شریف ایک تو نیب کیسز کے حوالے سے خوش نہیں یہ نہیں ہے کہ پرانے کیسز کھل رہے یہ ہے کہ نئے کیسز جو ہیں ان کے کھلنے کا مکان بڑھ گیا ہے آج ٹھڈیا ں جو ہیں کیسز کی کورٹس کے اندر آئی ہیں اور جج بشیر مشہور زمانہ جو ہیں انھوں نے کہا جی یہ تو ٹرک بھر بھر کے کیسز ہمارے پاس آئے ہیں نیب نے اس سپریم کورٹ کے فیصلے کو جس میں 2 جج ایک طرف ایک تو خیر ریٹائر ہو کر گھر بیٹھ گئے اپنے آپ کو شاباش دے رہے ہیں دوسرے ابھی تک موجود ہیں تیسرے نے اختلافی نوٹ کیا بہر حال دو ایک کا فیصلہ تھا اس کے مطابق انھوں نے اپنے ادارے کے اندر مختلف اداروں سے لوگوں کو واپس بلانا شروع کر دیا

طلعت حسین کا مزید کہنا تھا کہ نیب کیلئے ایک بہت بڑا موقع دوبارہ سے بنتا ہوا نظر آیا ہے کہ دوبارہ سے وہ ایک چوہدری کی صورت میں سامنے آئے پاکستان کے اندر ادارے جو ہیں اپنے آپ کو چوہدری تصور کرتے ہیں ان کا خیال ہے کہ ان کے پاس وسائل ہوتے ہیں ان کے پاس دوسروں کے گردن کو ناپنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے جب لوگ ہوتے ہیں اور جب آشیرباد بھی ہوتی ہے آئینی اور قانونی طور پر تو وہ پھر مزید سر چڑھ کر بولتے ہیں نیب کو یکدم نظر آرہا ہے کہ ہم تو بھیگی بلی بن گئے تھے شیر سے اب بھیگی بلی نے دوبارہ سے اگر شیر بننے کی صلاحیت لینی ہے تو پھر ظاہر ہے ان کو کارکردگی بھی دکھانی ہوگی

انھوں نے کہا کہ نواز شریف صاحب نیب کے نئے رول سے بالکل بھی خوش نہیں ہیں اس کے ساتھ ساتھ خاموشی کے ساتھ نواز شریف کا ایک اور بھی اعتراض ہے کہ یہ بزنس کمیونٹی سے بات کرنا معاشی پالیسی ترتیب دینا بین الاقوامی تعلقات کو اپنے ہاتھ میں لینا اگر یہ سب کچھ کرنا ہے تو پھر میں نے آکر کیا کرنا ہے میری جماعت نے آکر کیا کرنا ہے کسی بھی جماعت نے آکر کیا کرنا ہے

طلعت حسین نے اپنے وی لاگ میں اس بات کا بھی دعویٰ کیا کہ پی آئی اے کی پرائیویٹائزیشن کا معاملہ طے ہو گیا ہے جو نئے پرائیویٹائزیشن کے وزیر ہیں فواد حسن فواد صاحب انھوںنے اس شخص کے ساتھ رابطہ کیا ہے جس شخص کو ممکنہ طور پر پی آئی اے کی پرائیویٹائزیشن کے بعد یہ حوالے کی جائے گی یہ ایئرلائن اور اس سے پہلے اس شخص کی ملاقات جو ہے وہ پنڈی میں ہو چکی ہے تو اس سے آپ کو پتہ چلے گا کہ جو معاشی ،خارجی،دفاعی امور جو ہیں وہ کتنے اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہیں

انھوں نے کہا کہ نواز شریف کے پوائنٹ آف ویو سے اگر آپ دیکھیں نظر آتے ہیں اگر بیچ میں نئی سیاسی جماعتیں بھی بننے لگ جائیں اور سیاسی ضمانتیں بھی نئی ہوں نواز شریف کی طرف سے پریشانی ان کے نقطہ نظر سے بنتی ہے نواز شریف اس بات سے بھی خوش نہیں ہیں کہ نئی جماعتوں کے بننے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں جس میں ان کے پارٹی کے اراکین کے حوالے بھی موجود ہیں خاقان عباسی کا حوالہ موجود ہے مفتاح اسماعیل کا حوالہ موجود نواز شریف کا ماننا یہ ہے کہ جب بھی جماعتیں بنتی ہیں تو از خود نہیں بنتی ہیں ان کو بنایا جاتا ہے اور بنانے والوں کا ایجنڈاہوتا ہے تو نواز شریف اس کے اوپر بھی ضمانت چاہتے ہیں کہ جی پارٹیوں کو بنانا بگاڑنا یہ کیا ہورہا ہے نیب کے کیسز کھل رہے ہیں یہ کیا ہو رہا ہے احتساب کی جب میں بات کرتا ہوں اس کے اوپر اعتراض ہوتا ہے یہ کیا ہو رہا ہے تو ان کے ذہن میں تین چار سوال ہیں جن کے جواب دینے کیلئے شہباز شریف تھرتھلی ماسٹر جو ہیں وہ وہاں پر جا رہے ہیں اور وہاں پر جا کر دیکھیں اب کیا بات کرتے ہیں ان کو کیا سمجھاتے ہیں لیکن اسٹیبلشمنٹ اور میاں نواز شریف کے درمیان خلیج حائل نہیں ہے وہ خلیج پاکستان پیپلزپارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ہے ۔ تو یہ دوران جو ہے یہ سوالیہ نشانوں سے متعلق ہے