خبر نمبر 1
بنیادی سوال یہ ہے کہ اپیل فراہم کی جا سکتی ہے یا نہیں، بنیادی سوال یہ ہے کہ اس کا طریقہ کار کیا ہو ؟جسٹس اعجاز الاحسن کا سوال، کہا 184 کی اپیل اگر 185آرٹیکل میں نہیں دی تو یہ آئین سازوں کی منشا تھی ، اگر اب یہ اپیل فراہم کرنی ہے تو اس کے لیے آئینی ترمیم کرنا ہوگی ، چیف جسٹس نے کہا اگر سپریم کورٹ نے ظفرعلی شاہ کیس میں فردواحد کو اختیار دیا، کیا وہ ٹھیک تھا آپ بار بار ترمیم کا کہہ رہے ہیں، نصرت بھٹو ظفرعلی شاہ کیس میں سپریم کورٹ نے کہہ دیا کھل کر کھلواڑ کرو پارلیمان کی عزت کرنی چاہیے ، فرد واحد نے اس ملک کو تباہ کیا تاریخ مدنظر رکھیں، پارلیمان پر حملہ کر دیا کہ یہ قانون شخصی فائدے کے لیے ہے ، چیف جسٹس کے فائدے کو چھوڑ دیں یہ بتائیں کہ کیا قانون عوام کے لیے فائدہ مند ہے ؟
خبر نمبر 2
سپریم کورٹ میں پی ٹی ائی کے وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ آرٹیکل 142کے مطابق پارلیمنٹ فیڈرل لیجسلیٹیو لسٹ کے اندر انٹریز پر قانون بنا سکتی ہے ، چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ کیا پارلیمنٹ لیجسلیٹیو لسٹ میں درج نکات سے باہر قانون سازی نہیں کر سکتی ؟کیا مصنوعی ذہانت، خلا، سماجی رابطوںپر قانون سازی نہیں کر سکتی ۔ کیونکہ یہ فیڈرل لیجسلیٹیو لسٹ میں نہیں ہے ، پاکستان خلائی مشن شروع نہیں کرسکتا کیونکہ اس کا تذکرہ لیجسلیٹیو لسٹ میں خلائی مشن شروع کرنے کے لیے پارلیمنٹ کون سا اختیار استعمال کرے گی ؟ خلائی مشن سے متعلق تو کیس تیار کر کے نہیں آئے ، وکیل پی ٹی آئی عزیر بھنڈاری ، معذرت خواہ ہیں اپنے دلائل جاری رکھیں، چیف جسٹس آف پاکستان
خبر نمبر 3
چیئرمین پی ٹی آئی نے 190ملین پائونڈ اسکینڈل کی ضمانت مسترد ہونے کا فیصلہ چیلنج کر دیا ، دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ 5اگست کو چیئرمین پی ٹی ائی کو توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس میں سزا سنائی گئی ، 5اگست کو ہی چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار کر کے جیل منتقل کردیا گیا، 10اگست کو احتساب عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی عدم حاضری پر 2مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں مسترد کیں، ضمانت مسترد کرنے کے 10اگست کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے عبوری ضمانت دی جائے ،


