اسلام آباد(ای پی آئی) اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر افغانستان میں خواتین کی تعلیم اور ملازمتوں پر پابندیوں اور ایران میں خواتین کے احتجاج پر تشدد کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا.

مظاہرین نے افغانستان اور ایران میں خواتین کے حق میں اور ان پر پابندیوں کے خلاف نعرے بازی کی ،ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں خواتین کی تعلیم اور ملازمتوں پر پابندیاں عائد کر نا انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی لاف ورزی ہے عالمی برادری اس کا نوٹس لے.

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ایکشن فار امپیکٹ کی سی ای او زرتاشہ نیازی نے کہا کہ افغانستان اور ایران میں مشکلات کا شکار خواتین اور نوجوان لڑکیوں کے انسانی حقوق کے لیے دنیا کو بیدار کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ہمارے احتجاج کا مقصدا ن تمام خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی کر ناہے جو ان ممالک میں مشکلات کا شکار ہیں اور اپنے بنیادی حقوق کا سے محروم ہیں ،افغان حکومت نے کام کرنے والی خواتین پر انسانی امداد ی کے اداروں کے ساتھ کام کرنے پر بھی پابندی لگا دی ہے۔ یہ اقدامات بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم سب اپنی خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ کھڑے ہوں جو ظالم حکومت کے تحت افغانستان میں مصائب کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران میں مہسا جینا امینی پر تشدد اور حملہ کے واقعہ نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایران میں خواتین بنیادی انسانی حقوق کے خلاف آواز اٹھانے پر بدسلوکی اور خاموشی کا بری طرح شکار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں مون سون کے سیلاب نے 116اضلاع کو تباہ کیا اور پاکستان میں 33ملین افراد متاثر ہوئے۔ چھ ماہ گزرنے کے بعد بھی آفت زدہ علاقوں میں صورتحال اب بھی بوجھل ہے۔ نوجوان لڑکیاں، بچے اور خواتین بیماریوں کا بہت زیادہ شکار ہیں اور انہیں تحفظ سے متعلق کئی مسائل کا سامنا ہے۔ آفت زدہ علاقوں میں انفراسٹرکچر کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔ تعلیم اور صحت کا نظام بری طرح درہم برہم ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم ان تمام لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوں جو ان ممالک میں مصائب کا شکار ہیں۔ ایکشن فار امپیکٹ کے سی ای او نے نوجوان لڑکیوں میں خواتین کے بنیادی انسانی حقوق کے لیے ہر سطح پر اجتماعی آواز پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ جب تک ہماری بہن، ماں اور بیٹیاں امن سے نہیں رہیں گے ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ ہمارا دل ان خواتین اور نوجوان لڑکیوں کے ساتھ ہے جو افغانستان، ایران اور پاکستان کے آفت زدہ علاقوں میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔