اسلام آباد(ای پی آئی)پاکستاان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ ماضی کی طرح دو ہزار بائیس میں بھی قوم کی توجہ کا مرکز رہی۔۔۔اس سال عدالت عظمیٰ سے کئی تاریخی فیصلے سامنے آئے۔۔۔ قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پر فیصلے ملکی تاریخ میں اہم تصور کئے گئے۔۔۔ رواں سال تین اپریل کو قومی اسمبلی میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر رات بارہ بجے عدالت کے دروازے کھولے گئے۔۔ سپریم کورٹ میں جسٹس عائشہ ملک پہلی خاتون جج کی تقرری بھی عمل میں لائی گئی۔

سال دو ہزار بائیس میں سپریم کورٹ نے جہاں سیاسی کشمکش کے دوران پیدا ہونے والے آئینی بحران پر آئینی ذمہ داری ادا کی وہیں ملک کی سب سے بڑی عدالت بطور ثالث بھی اپنا کردار ادا کرتے دکھائی دی.

سابق وزیر اعظم عمران خان نے جب اپنے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو کامیاب ہوتے دیکھا تو غیر ملکی سازش کا بہانہ بنا کر رولنگ کے زریعے اسمبلی تحلیل کر دی گئی،،،عام انتخابات کا اعلان کیاگیا،،آئینی بحران سے نمٹنے کیلئے رات بارہ بجے سپریم کورٹ کے تالے کھولے گئے،،،عدالت عظمیٰ نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ غیر آئینی قرار دی اور نو اپریل کو عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کرانے کا حکم دیدیا،،،عمران خان آئینی عمل کے تحت وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہاتھ دو بیٹھے۔

پنجاب اسمبلی میں میں آئینی بحران پیدا ہوا تو سپریم کورٹ ثالث کا کردار ادا کرتے دکھائی دی،،عدالت نے پنجاب اسمبلی میں نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب پر ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دیا تو حمزہ شہباز کو وزارت اعلیٰ کا منصب پرویز الٰہی کے حوالے کرنا پڑا۔ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے صدارتی ریفرنس پر 17 مئی کو فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ منحرف رکن اسمبلی کا ووٹ شمار نہیں ہوگا.

پچیس مئی کو سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو ایچ نائن گراؤنڈ میں احتجاج کی اجازت دی لیکن عمران خان عدالتی احکاما ت کو روندتے ہوئے ڈی چوک جا پہنچے،،،عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کا کیس چلایا گیا جو آج بھی زیر سماعت ہے،،،اٹھارہ اکتوبر کو شاہ زیب قتل کیس میں متاثرہ خاندان سے صلح کے بعد مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی سمیت دیگر ملزمان کو بری کردیا۔۔ پچیس نومبر کو فیصل واوڈا کی الیکشن کمیشن کی جانب سے تاحیات نااہلی کی سزا ختم کرتے ہوئے تریسٹھ ون سی کے تحت پانچ سال کیلئے نااہل کیا۔ اپنی نشست سے فوری مستعفی ہونے کی شرط پر فیصل واوڈا کی سینیٹ کی ممبر شب بحال کی۔۔۔عدالت عظمیٰ نے نو دسمبر کو ریکوڈک صدارتی ریفرنس پر رائے دیتے ہوئے معاہدہ قانونی قرار دیا۔

سپریم کورٹ میں نیب حالیہ ترامیم، عمران خان توہین عدالت، صحافی ارشد شریف قتل کیس سمیت کئی اہم مقدمات زیر سماعت ہیں۔ سال2022 میں سینیارٹی اصول کے بجائے جونیئر جج صاحبان کی سپریم کورٹ میں تعیناتیوں پر عدلیہ میں شدید اختلافات ابھر کر سامنے آئے،،، جوڈیشل کمیشن اراکان میں عدم اتفاق خبروں کی زینت بنارہا،،، تاہم اس کے باوجود پانچ نئے ججز کی تقرری عمل میں لائی گئی،،،پہلی خاتون جج جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تعیناتی ہوئی.