اسلام آباد (ای پی آئی)اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی دو درخواستوں پر سماعت مکمل ہوگئی ہے
پہلا مقدمہ سائفر کیس میں عمران خان کا ٹرائل روکنے جبکہ دوسری درخواست سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی روکنے کیلئے لئے دائر کی گئی تھی
اسلام آباد ہائی کورٹ نےچیئرمین پی ٹی آئی کی سائفر کیس کا ٹرائل روکنے اور فرد جرم عائد کرنے کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست کو سائفر کیس کے اخراج مقدمہ کی درخواست کے ساتھ یکجا کردیا
چیف جسٹس عامر فاروق نے قرار دیا کہ ان درخواستوں کو سائفر کیس کے اخراج کی درخواست کے ساتھ لگانے کے احکامات جاری کردونگا ،
چھ منٹ کی سماعت کے دوران وکیل چیئرمین پی ٹی آئی سردار لطیف کھوسہ روسٹرم پر آ ئے اور موقف اختیار کیا کہ
سائفر کیس کی ٹرائل کورٹ میں کاروائی روکنے اور فرد جرم عائد کرنے کے فیصلے کے خلاف یہ درخواست دائر کی گئی ہے ، معاملہ اس ہائیکورٹ میں چل رہا ہے اور فیصلہ محفوظ ہے ،
لطیف کھوسہ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے بھی ایف آئی اے کے ایک کیس میں حکم امتناعی جاری کیا ہوا ہے ،ہم نے بار بار کہا کہ جلدی نہ کی جائے معاملہ ہائیکورٹ میں چل رہا ہے ، لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ہمیں آفیشل سیکرٹ ایکٹ سے متعلق کافی تشویش ہے یہ کالونیل دور کا سو سال پرانا قانون ہے جس کو سیاست دانوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ سائفر کے معاملے میں کون سی سیکیورٹی کو خطرہ ہوا یا سیکریسی لیک ہوئی ہے؟ ، لطیف کھوسہ نے کہا کہ
سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے بھی راجہ بازار میں تقریر میں ایسے ہی ہنری کسنجر کا خط لہرایا تھا تو کیا ہوا ،
لطیف کھوسہ نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میرے موکل قومی ہیرو ہیں اور دنیا جانتی مانتی ہے اب وہ بے گناہ جیل میں ہیں، اس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آج صرف متفرق درخواست لگی ہے اگر آپ کہیں تو میں مین کیس کے ساتھ لگا لوں ، اس پر وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ بالکل آپ اسکو سائفر کیس کی اخراج کی اصل درخواست کے ساتھ لگادیں لیکن 17 اکتوبر کی تاریخ سے پہلے لگائیں ، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اُس روز یعنی 17 اکتوبر کو کیا ہونا ہے ، لطیف کھوسہ نے کہا کہ سترہ تاریخ کو بڑی بدمزگی ہونی ہے ٹرائل چل رہا ہے فرد جرم عائد ہونی ہے ، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میں دیکھ لیتا ہوں اور اس پر آرڈر بھی کردونگا سترہ اکتوبر سے پہلے یہ کیس لگا دونگا.
عمران خان کی سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرنے کے حکم کے خلاف اور نقول فراہم کرنے سے متعلق دوسری درخواست پرتقریبا دس منٹ سماعت بھی چیف جسٹس عامر فاروق نے کی توچیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شیر افضل مروت عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے لکھا کیس کی نقول وصول کر لیں حالانکہ نقول وصول نہیں کیں ، ہم نے فرد جرم کی نقول ہی وصول نہیں کیں لیکن جج صاحب نے لکھا وصول کر لیں ، وکیل شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ہماری درخواست پر اعتراضات دور کردیں ، چیف جسٹس نے کہا کہ اعتراض تو میں دور کردونگا لیکن پہلے عدالت کے رولز دیکھنا ہونگے ، چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے رول دیکھوں گا کہ کس رول کے تحت اعتراض لگا ہے اور دور کیسے کرنا ہے ،
وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ 9 اکتوبر کے ٹرائل کورٹ حکم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا ہے ، جیل سماعت کے خلاف ہائیکورٹ کے فیصلے کا بھی ٹرائل کورٹ نے انتظار نہیں کیا ، وکیل نے استدعا کی کہ 9 اکتوبر کے آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے ،
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست پر لگے اعتراضات دور کرنے کے لیے رول دیکھ کر آرڈر کردونگا ، عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردی ہے.


