غزہ (ای پی آئی)فلسطین اوراسرائیل کے درمیان جنگ کا چھٹا روز غزہ پراسرائیلی کی جانب سے بربریت کا سلسلہ جاری ہے ، فلسطینی مجاہدین بھی اپنی گوریلا کارروائیوں میں مصروف .

بڑی خبر ۔۔ جرمن چانسلر اولاف شولز نے اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع میں ترکیے، مصر اور قطر کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کر دی ۔

صدر رجب طیب ایردوان کے حکم پر ترک آرمی کے بیڑے پر غزہ تک امدادی سامان پہنچایا جائے گا۔ امدادی سامان میں ادویات اور طبی آلات، خوراک و پانی، بیٹریاں اور دیگر انسانی ضروریات شامل ہیں۔ اس سلسلے تیاریاں شروع کر دی گئیں۔ اگلے جوبیس گھنٹے میں ترک بحری جہاز روانہ ہو گا۔

 

روسی صدر ولادیمیر پوٹن کا کہنا ہے کہ "مسئلہ فلسطین ہر مسلمان کے دل میں ہے، اور اسرائیل نے بنیادی طور پر فوجی طاقت کے استعمال کے ذریعے فلسطینی زمینوں پر قبضہ کر لیا ہے۔”

انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ غزہ میں پانچ میں سے تین واٹر پلانٹس بمباری اور ایندھن کی کمی کی وجہ سے بند ہیں۔

فلسطینی سرجن غسان ابو سیطہ نے اپنی ایک ٹویٹ میں صبح شاتی پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی حملے میں زخمی ہونے کی اطلاع دی جس میں ان کا کہنا تھا کہ "شٹی کیمپ میں آج صبح پورے خاندانوں کو ان کے گھروں میں قتل کر دیا گیا۔ چند مہینوں کا بچہ جس کے سر پر چوٹ لگی ہے، ایک 4 سال کا بچہ اور ایک 11 سال کا بچہ جس کے سر پر چوٹ لگی ہے۔ سب کزن  اور باقی لوگ چیختے رہے اور کہتے رہے کہ ‘یہ جنگ نہیں یہ نسل کشی ہے’

اقوام متحدہ نے اپنی ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ غزہ میں کم از کم 340,000 فلسطینی بے گھر ہوچکے ہیں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے نے اطلاع دی ہے کہ غزہ کی پٹی میں UNRWA کے 92 اسکولوں میں تقریباً 218,600 افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔ بہت سے لوگ سرکاری اسکولوں اور دیگر عمارتوں میں بے گھر ہیں۔ مجموعی طور پر غزہ میں کم از کم 340,000 فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔

غزہ میں 6لاکھ 50 ہزار افراد کو پانی کی شدید قلت کا سامنا
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں 650,000 افراد کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے دفتر کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز سے غزہ پر اسرائیلی بمباری سے 1,000 مکانات زمین بوس ہو چکے ہیں اور اس علاقے میں بہت سے لوگوں کو پانی، ایندھن اور طبی سامان کی شدید قلت کا سامنا ہے۔اب تک کے حملوں میں مزید 560 مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے اور وہ ناقابل رہائش بن گئے ہیں اور اسرائیلی فضائی حملوں کی وجہ سے کم از کم 12,600 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔اقوام متحدہ کی اطلاع کہ مطابق علاقے کے تمام 13 اسپتال صرف جزوی طور پر کام کر رہے ہیں کیونکہ ایندھن اور اہم طبی سامان کی شدید قلت ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے پٹی پر اپنے محاصرے کو سخت کرنے کی وجہ سے پانی کی سپلائی میں کمی کے نتیجے میں 2.3 ملین کے علاقے میں 650,000 سے زیادہ لوگوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔سیوریج کا نظام تباہ ہو چکا ہے، گندا پانی گلیوں میں جا رہا ہے اور صحت کے لیے خطرہ ہے۔

یورو میڈ ہیومن رائٹس مانیٹر کی حکمت عملی کی ڈائریکٹر ماہا حسینی کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ پر اپنے حملوں میں بین الاقوامی سطح پر ممنوعہ سفید فاسفورس استعمال کر رہا ہے۔ "یہ گولہ بارود ایک اندھا دھند آگ بھڑکانے والا ہتھیار ہے جو آکسیجن کے ساتھ رابطے میں جلتا ہے۔ بند جگہوں پر، زہریلے دھوئیں سے دم گھٹنے اور سانس کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔

حماس نے اسرائیلی فوجی اڈے پر حملے کی ایک اور ویڈیو جاری کر دی۔

 

اسرائیل غزة پر جنگی جرائم کر رہا ہے

اسرائیل غزة پر جنگی جرائم کر رہا ہے، عالمی سطح پر کلسٹر بم استعمال کرنے پر پابندی ہے اس کے برعکس اسرائیل نے صبح غزة پر کلسٹر بموں سے نیا حملہ کیا یے،

 

غزہ میں اسرائیلی جارحیت نہ رک سکی، جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح پر اسرائیلی فضائی حملوں کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی، فلسطینی شہری بے گھر ہو گئے۔

اسرائیلی زمینی فوج کی تعیناتی پر حماس کا منہ توڑ جواب

اسرائیلی زمینی فوج کی تعیناتی پر حماس کا منہ توڑ جواب: حماس کا کہنا ہے کہ ہم اسرائیلی زمینی فوج کی تعیناتی سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ حماس نے ٖغیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کی کسی بھی ممکنہ تعیناتی کے لیے تیار ہیں۔ حماس کے پولیٹیکل بیورو کے رکن غازی حماد کا کہنا ہے کہ ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔ ہم ایک مضبوط لوگ ہیں۔ ہم جنگ جاری رکھنے کا پختہ عزم رکھتے ہیں۔ ہمارے پاس بہت سے جنگجو اور بہت سے لوگ ہیں جو ہماری حمایت کرنا چاہتے ہیں، غازی حماد نے مزید کہنا تھا کہ یہاں تک کہ اردن، لبنان اور ہر جگہ کی سرحدوں کے لوگ بھی یہاں آکر ہمارے لیے لڑنا چاہتے ہیں۔غزہ باغ نہیں ہے اور یہ ان کے لیے بہت مہنگا پڑے گا، انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے آغاز سے لے کر اب تک ہم نے 1,200 جنگجو بھیجے جو اسرائیل کے امیج، اسرائیل کی سلامتی، اسرائیل کی انٹیلی جنس اور اس تصویر کو تباہ کرنے میں کامیاب رہے کہ اسرائیل ایک سپر پاور ہے۔

اسرائیلی جنگی طیاروں کی غزہ میں پناہ گزین کیمپ پر بمباری 

بریکنگ: اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ شہر کے شاطی پناہ گزین کیمپ میں شہری مکینوں کے کئی گھروں کو تباہ کردیا۔ شاطی پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلیوں کے تازہ قتل عام میں درجنوں شہری، جن میں زیادہ تر بچے شہید یا زخمی ہو گئے ہیں۔

ماضی کے نازی، آج کے صیہونی کل کا ہٹلر، آج کا نیتن یاہو یہ جنگ نہیں، نسل کشی ہے غزہ میں بجلی کی بندش، ادویات اور دیگر طبی سہولیات کی کمی کی وجہ سے بچوں کے لیے بمباری کے بعد کی سانسیں بھی موت کی سانسیں بن چکی ہیں

ایران اور شام کا اسلامی اور عرب اتحاد پر زور 

ایران اور شام کے صدور کا فلسطینیوں کی حمایت میں اسلامی اور عرب اتحاد پر زور ایران اور شام کے صدور نے اسلامی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی حمایت میں ایک ہی موقف اختیار کریں ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے اپنے شامی ہم منصب سے فون پر کہا کہ اسلامی اور عرب ممالک کے ساتھ ساتھ دنیا کے تمام آزاد عوام کو مظلوم فلسطینی عوام کے خلاف صیہونی حکومت کے جرائم کو روکنے کے لیے ایک مقام پر پہنچنا چاہیے۔

اسرائیلی بمباری کا سلسلہ بند نہ ہوسکا۔

شمالی غزہ میں مخبرات کے گنجان آباد علاقے میں دھماکوں کی شدت زیادہ ہوگئ ہے۔اس علاقے میں بہت سے رہائشی ٹاورز ہیں بمباری میں غزہ کی عدالت کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ نئی بندرگاہ جو زیر تعمیر تھی وہ بھی متاثر ہوئی ہے۔ اسرائیلی جنگی جہاز غزہ کے ساحلی علاقوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ جبالیہ قصبے میں ایک رہورٹ کہ مطابق ایک رہائشی ٹاور کو نشانہ بنانے کے بعد تازہ ترین اسرائیلی حملوں میں 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ملائیشیا نے غزہ کے لیے ہنگامی فنڈ کا اعلان کر دیا۔

ملائیشیا نے غزہ کے لیے ہنگامی فنڈ کا اعلان کر دیا۔ ملائیشیا کے وزیر خارجہ زیمبری عبدالقادر نے غزہ کی پٹی میں خوراک، پانی اور ایندھن کی کٹوتی میں اسرائیل کے "ظالمانہ اقدامات” کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ملائیشیا فلسطینیوں کی مدد کے لیے ہنگامی فنڈ کے طور پر 212,000 ڈالر فراہم کرے گا۔ فلسطینی کاز کے پرزور حامی ملائیشیا نے اس بحران کا الزام فلسطینی عوام کے خلاف ظلم اور ناانصافی پر عائد کیا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹرمرم غزا نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ آج چھٹا دن ہے اور اسرائیل کی غزہ کے متعدد علاقوں پر شدید بمباری جاری ہے لوگوں کے گھر اور دل لرز رہے ہیں 

غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 1200 ہو گئی
فلسطین اور اسرائیل کے مابین جنگ کو آج چھ روز ہوگئے جس پر فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 1,200 ہو گئی ہے جب کہ 5,600 کے قریب زخمی ہیں. اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی تباہ کن بمباری رات بھر سے جاری ہے جس کہ نتیجے میں غزہ میں 338,934 فلسطینی بے گھر ہوچکے ہیں،ہیومن رائٹس واچ کے سابق سربراہ کینتھ روتھ کا کہنا ہے کہ فلسطینی شہریوں پر "اندھا دھند اور غیر متناسب حملہ” "جنگی جرم” بن سکتا ہے

خبر کی اپ ڈیٹ جاری رہے گی ہمارے ساتھ رہیں