خبرنمبر 1

امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی میں مظاہرہ، یونیورسٹی انتظامیہ کی مظاہرے کی مذمت، طالب علموں کو اظہار رائے کی آزادی ہے یہ آزادی طلبہ تنظیموں کے لیے نہیں ہے ۔ ہارورڈ

خبرنمبر2

پشاور میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے ایک دن میں جو بمباری کی شاید امریکا نے اتنی بمباری 1سال میں افغانستان پر نہیں کی ۔ جنگ کے عالمی اصولوں کو پاؤں تلے روندا جارہا ہے ۔ عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔ علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ فلسطین میں جنگ نہیں ظلم و بربیت ہو رہی ہے ۔ امریکا کہتا ہے حماس داعش ہے خود بھول گیا کہ داعش تو امریکا کی تخلیق ہے۔ چیئرمین علما کونسل پاکستان طاہر اشرفی کہتے ہیں انسانی حقوق پر بات کرنے والے آج فلسطینیوں کے قتل عام پر خاموش ہیں ، سعودی عرب کو بطور او آئی سی سربراہ مسئلہ فلسطین اور کشمیر کے لیے بھرپور کردارادا کرنا ہوگا۔

خبرنمبر3

کرکٹ ورلڈ کپ فائنل پاکستان اور بھارت کے درمیان ہوگا، پاکستان ورلڈ کپ جیتے گا 73فیصد کی رائے ، پاکستانیوں کی اکثریت ورلڈ کپ میں پاک بھارت ٹاکرے کے لیے پرامید، 10فیصد پاکستانیوں کے مطابق بھارت چیمپئن بنے گا۔ 6فیصد کے نزدیک آسٹریلیا جبکہ 5فیصد نیوزی لینڈ عالمی چیمپئن ہوگا۔ اپسوس پاکستان نے پاکستانیوں کا سروے جاری کردیا۔سروے کے مطابق 30فیصد پاکسانیوں کی ورلڈ کپ میں گہری دلچسپی ، 63فیصد کی دلچسپی ، جبکہ 7فیصد لوگ گہری نظر نہیں رکھتے۔ سروے 1100سے زائد افراد سے 10اکتوبر سے 13اکتوبر 2023کے درمیان کیا گیا۔

خبرنمبر 4

کراچی شارع فیصل پر شیر کے گشت کا کیس، عدالت میں شیر کے مالک کا غلطی کا اعتراف، شیر کے مالک پر 3لاکھ 12ہزار روپے کا جرمانہ عائد، انتظامیہ کو شیر بھی ضبط کرنے کا حکم ، 29اگست کو دوسری جگہ منتقلی کے دوران شیر شارع فیصل پر نکل گیا تھا ۔ عدالتی حکم پر شیر کراچی چڑیا گھر میں ہے ۔

خبرنمبر 5

انوار الحق کاکڑ کی گورنر اور وزیراعلیٰ کے پی سے ملاقات، صوبے میں امن وامان کی صورتحال دیگر امور پر گفتگو، نگران وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپخونخوا کی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے وفاقی حکومت ہرممکن سہولت یقینی بنائے گی۔

خبرنمبر6

نگران وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں غیر قانونی مقیم افراد کو جانا ہوگا، نیشنل ایکشن پلان سے متعلق مہم جاری ہے ۔ اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف سختی سے نمٹا جارہا ہے ۔ حکومتی اقدامات کے بعد ایرانی تیل کی اسمگلنگ میں کمی ائی ہے ۔