اسلام آباد(ای پی آئی )مسئلہ فلسطین کوسوشل میڈیا پر بھر پور اندازمیں اجاگر کرنے میں جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف سرفہرست آگئے میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری تاحال خاموش، بلاول نے صرف ایک ٹویٹ کیا ۔
پاکستان کے کس بڑے سیاسی رہنما نے سوشل میڈیاپر فلسطین کے حق میں کیاموقف دیا؟ایگزیکٹ پریس انٹرنیشنل کی تحقیقاتی رپورٹ میں بڑے انکشافات سامنے آئے ہیں۔
پاکستان کی بڑی سیاسی و مذہبی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ ن ، پاکستان پیپلزپارٹی ، پاکستان تحریک انصاف،جماعت اسلامی ، جمعیت علمائے اسلام ، اے این پی کے سربراہان میں سے کس نے کیا بیان دیا ؟
مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے ٹویٹر ہینڈل@NawazSharifMNS
کو دیکھیں تو ان کی ٹائم لائن پر ایک بھی ٹویٹ فلسطین کے حق میں نہیں کی گئی۔
مسلم لیگ ن کے صدر ،سابق وزیراعظم میاں شہباز شریف نےسات اکتوبر2023کو فلسین اسرائیل جنگ شروع ہونے کے بعد فلسطین کے حوالے سے ٹویٹر ہینڈل@CMShehbaz پرتین ٹویٹس کئے ہیں جن میں شہابز شریف نے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن، انصاف اور ترقی و خوشحالی کیلئے انتہائی ضروری ہے کہ اسرائیل کے ناجائز تسلط، فلسطینی حصوں پر زبردستی اور غیر قانونی قبضے اور معصوم فلسطینیوں پر ظلم و بربریت کو فوری ختم کیا جائے۔
شہبازشریف نے کہاکہ کل کا واقعہ کوئی ان ہونی نہیں۔ جب اسرائیل فلسطینیوں کے بنیادی حقوق، حقِ خود ارادیت اور اپنی خود مختار ریاست کے حق کو سرے سے مانتا ہی نہیں، جب تقریباً روزانہ کی بنیادوں پر، اسرائیلی قابض فوج کے ہاتھوں مسجد الاقصی میں اور اسلام اور عیسائیت کے مقدس مقامات پر دانستہ طور پر حملہ کرکے فلسطینیوں کو اکسایا جاتا ہے، تو پھر ایسے ردعمل کی ہی توقع کی جاسکتی ہے۔
شہبازشریف کاکہنا تھاکہ اقوام عالم کو سمجھنا ہوگا کہ فلسطین پر اسرائیل کے ناجائز قبضے کو ختم، فلسطینی ریاست اور مشرقی القدس الشریف کو اس کا دارالخلافہ ماننے اور فلسطینیوں کو انکا بنیادی حق، حقِ آزادی اور خودمختاری دئے بغیر پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں۔
مسلم لیگ ن کی نائب صدرو چیف آرگنائزر مریم نواز نے اپنے ٹویٹر ہینڈل @MaryamNSharifپر 12 اکتوبر کو
فلسطین اسرائیل جنگ کے چھٹے روز بارہ اکتوبر کو فلسطینی عوام پر اسرائیلی مظالم کو جنگی جرائم قرار دیا اور کہا کہ غزہ میں معصوم جانی نقصان پردل خون کے آنسو روتاہے۔ اس کے ساتھ اسی روزبارہ اکتوبر کو انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی ماضی میں اقوام متحدہ میں فلطین کے حوالے سے کی گئی تقریرکا ایک کلپ شیئر کیا۔
چیئرپرسن پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے ابھی تک صرف ایک ٹویٹ کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ میں اسرائیلی قابض افواج اور فلسطینیوں کے درمیان لڑائی میں اضافے پر گہری تشویش کا شکار ہوں۔پاکستان بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ/او آئی سی کی قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل کے لیے کھڑا ہے۔اس موقف کی ہم نے مسلسل وکالت کی ہے جس میں OIC کے CFM کے چیئر کے طور پر میری مدت کے دوران کی گئی کوشش بھی شامل ہے۔مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی برادری کے اکٹھے ہونے اور تمام دشمنیوں کو روکنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
سابق صدر آصف علی زرداری کے نام سے ٹویٹرپر دس سے زائد اکاؤنٹس موجود ہیں ان میں سے کسی بھی ہینڈل پر فلسطین کے معاملے پر کوئی موقف نہیں دیا گیا۔
پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت اس وقت جیلوں میں ہے تاہم پی ٹی آئی کے ترجمانوں کے فلسطین کے حق میں واضح بیانات اور پی ٹی آئی آفیشل اکاؤنٹ پرپچاس کے قریب ٹویٹس کئے گئے ہیں ۔ اگرچہ چیئر مین تحریک انصاف جیل میں ہیں تاہم ان کے اپنے اکاؤنٹ پر بھی مسئلہ فلسطین کے حوالے سے دو ٹویٹس کئے گئے ہیں
مسئلہ فلسطین کے حوالے سے سوشل میڈیا پراپنے ٹویٹرہینڈل @SirajOfficial پر سب سے زیادہ 19ٹویٹس امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کی ہیں بلکہ یوں کہاجاسکتاہے کہ سراج الحق نے سات اکتوبر سے فلسطین کے سوال کسی اور معاملے پر کوئی ٹویٹ نہیں کی اور امیر جماعت اسلامی کی کا ل پر ان کی جماعت نے ملک بھر میں بھر پورمظاہرے بھی کئے گئے ہیں۔
جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما لیاقت بلوچ نے اپنے ٹویٹرہینڈل @liaqatbalochjiپر مسئلہ فلسطین پر صرف دو ٹویٹس کئے ہیں۔
جماعت اسلامی پاکستان کے ٹویٹر ہینڈل پر سب سے زیادہ 60 ٹویٹس کئے گئے ہیں ،
جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانافضل الرحمن نے اپنے ٹویٹر ہینڈل @MoulanaOfficialپر اب تک فلسطین کے حوالے سے چھ ٹویٹس یا ری ٹویٹس موجود ہیں ۔ جن میں مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام پاکستان نے کل بروز جمع ملک بھر میں یوم طوفانِ اقصی منانے کے ساتھ چودہ اکتوبر کو کو پشاور میں منعقدہ مفتی محمود کانفرنس کو بھی فلسطینی بھائیوں کے حق میں بڑے مظاہرے میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سرزمین فلسطین پر آگ بھڑک اٹھی ہے،
فلسطینی بچے بوڑھے خواتین اور عام شہریوں سمیت مکانات ،پانی پینے کے ذخائر اور ہسپتالوں پر بمباری کی جارہی ہے، ہر مسلمان اپنے مظلوم فلسطینیوں کے حق میں کھڑے ہوکر ان کے موقف کو تقویت دیں۔یوم طوفان اقصی پر قوم باہر نکلے اور فلسطینی بھائیوں کو یقین دلائیں کہ ہم آپ کے شانہ بشانہ اور قدم بہ قدم ہیں۔
عوامی نیشنل پارٹی کے ٹویٹر ہینڈل @ANPMarkaz پر مسئلہ فلسطین یا غزہ میں انسانی جانوں کے بڑے پیمانے پرنقصان سے متعلق ایک بھی ٹویٹ یا کسی رہنما کابیان سامنے نہیں آیا۔


