لاہور(ای پی آئی ) لاہور ہائیکورٹ نے قرآن پاک کی تصحیح شدہ ترجمہ سے متعلق کیس میں نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ اور نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی اوروفاقی وصوبائی لا افسران کی طلبی کا حکم نامہ جاری کردیا ہے
27ستمبر2023کو کی گئی سماعت کا حکم تین صفحات اورپانچ پیراگرافس پر مشتمل ہے جوجسٹس شجاعت علی خان نے تحریرکیاہے

فیصلے کے پہلے صفحے پر عدالت نے درخواست گزار محمدمعاویہ کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل راؤشاہد تصور سمیت دیگرفریقین کے وکلا اور سرکاری وکلا کے نام لکھے ہیں ۔

پیراگراف نمبر ایک

عدالت نے لکھاہے کہ عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزارکی ایک درخواست میں وکیل سید شہاب قطب چھ اکتوبر تک چھٹی پر ہیں ۔

پیراگراف نمبر دو

اس پیراگراف میں عدالت نے قراردیا ہے کہ گذشتہ سات سماعتوںکو جاری کئے گئے احکامات کا جازئہ لینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی اور صوبائی محکمے اس معاملے کے بارے میں انتہائی سنجیدہ تھے کیونکہ لاہور ہائیکورٹ نے محمد معاویہ کی جانب سے دائر درخواست پر کئے گئے فیصلے پر عملدرآمد کےلیےچند گائیڈ لائنز دی تھیں اگرچہ یہ مقدمہ کافی وقت کے بعد سماعت کےلئے مقرر کیا گیا ہے لیکن وفاقی اور صوبائی لا افسران ایسا کوئی مواد پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں جس سے معلوم ہوکہ عدالت کے احکامات پر عمل کےلئے اقدامات کئے گئے ہیں۔ عدالت نے لکھا ہے کہ جب متعلقہ حکام سے عدالتی فیصلہ پر عملدرآمدکیلئےوفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے بنائی گئی پالیسی کے حوالے سے استفسار کیا گیا تو وہ اس ضمن میں کوئی تسلی بخش جواب دینے سے قاصر رہے حالانکہ عدالتی نوٹس پر وزیراعظم پاکستان کے پرنسپل سیکرٹری سات دسمبر 2022کو اس عدالت میں پیش ہوچکے ہیں اور اس وقت انہوں نے موقف اپنایاتھا کہ وزیراعظم نے اس معاملہ سے متعلقہ تمام سٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لیا ہےاور عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کےلئے پیش رفت کی جائے گی۔
فیصلے میں عدالت نے لکھا اسی طرح وزیراعلی پنجاب کےپرنسپل سیکرٹری بھی پیش ہوئے تھے اور موقف اپنایاتھا کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد یقینی بنانےکےلئے کمیٹی قائم کردی گئی ہے ، وزیراعلی پنجاب کےپرنسپل سیکرٹری نے یہ بھی یقین دہانی کرائی تھی کہ صوبائی محکمے بشمول محکمہ پولیس وفاق کے ایف آئی اے سمیت تمام اداروں کو سہولیات فراہم کرینگےتاکہ اس عدالت کے حکم پر عملدرآمد کیاجاسکے۔

پیراگراف نمبر تین

عدالت نے فیصلے میں قراردیا ہے کہ اس صورتحال میں اسعدالت کے پاس اس آپشن کے علاوہ کوئی راستہ موجود نہیں ہے کہ آئندہ سماعت پروزیراعظم پاکستان، وزیراعلی پنجاب کوفاضل اٹارنی جنرل اور صوبائی ایڈووکیٹ جنرل سمیت عدالت میں طلب کیا جائےتاکہ وہ عدالت میں آکر عدالتی فیصلہ پر عملدرآمدکےلئے پالیسی بیان دیں۔

پیراگراف نمبر چار

یہ تمام افراد16اکتوبرکو عدالت میں پیش ہوں۔

پیراگراف نمبر پانچ

عدالت نے اپنے حکم میں عدالتی دفتر کو ہدایت کی ہے کہ اس حکم نامے کی کاپی وزیراعظم سیکرٹریٹ،وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد، وزیراعلی پنجاب سیکرٹریٹ، اٹارنی جنرل پاکستان۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، چیف سیکرٹری حکومت پنجاب،اور آئی جی پنجاب پولیس کو معلومات و عملدرآمدکےلئے بھجوائی جائے،

دوسری جانب نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑکل 16 اکتوبر کو چین کے تین روزہ دورے پر روانہ ہورہے ہیں اس لئے غالب امکان ہے کہ وزیراعظم عدالت عالیہ لاہور میں پیش نہیں ہونگے۔