اسلام آباد (ای پی آئی )اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی سائفر کیس سے متعلق تین درخواستوں پرچارگھنٹے چالیس منٹ سماعت ہوئی
سائفرکیس میں2 درخواستیں ایف آئی آر ختم کرنے اور ٹرائل روکنے سے متعلق تھیں جبکہ ایک درخواست ضمانت
چوتھی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایاگیا
سائفرکیس ختم کرنے کی درخواست
عمران خان کیخلاف سائفرسے متعلق ایف آئی آرختم کرنے Quaishment اورجج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین کی عدالت میں جاری ٹرائل روکنے کے لئے مقدمات کی سماعت ساڑھے 9بجے شروع ہوئی اور ساڑھے گیارہ بجے سردار لطیف کھوسہ کے دلائل ختم ہونے پر سماعت میں وقفہ کردیا گیا
چیف جسٹس عامر فاروق کی عدالت میں سائفر کیس مقدمہ اخراج اور ٹرائل روکنے کی درخواست پر سماعت شروع ہوئی تووکیل لطیف کھوسہ نے ایف آئی اے پراسکیوٹرنے دلائل کی سماعت کل تک ملتوی کرنے کی استدعا کردی جس پر سردار لطیف کھوسہ نے کہاکہ میں دلائل کیلئے تیار ہوں لیکن اگر سماعت ملتوی کرنی ہے تو ٹرائل پر حکم امتناع جاری کردیں ،جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ آج کھوسہ صاحب اپنے دلائل کا آغاز کرلیں ،ایف ئی اے کے پراسیکیوٹر سے کہاکہ آپ نے بھی جو تحریری دلائل دینے ہیں وہ دے دیں ،
لطیف کھوسہ نے دلائل شروع کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ سات مارچ کو سائفر آیا اور اسدمجید نے ٹلی گرام بججوائی تمام ڈپلومیٹ سائفر کوڈڈ فارم میں بھجواتے ہیں سائفر کے مطابق ڈونلڈلو نے پاکستان میں عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے رجیم چینج کے لئے کہا تھا سابق وزیراعظم چیئرمین پی ٹی آئی اس ملک کے چیف ایگزیکٹو تھے ،چیف ایگزیکٹو کو اس کا حلف ایسی صورت حال میں اختیار دیتا ہے ،انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کوبھی ایٹمی پروگرام سے ہٹنے کا پیغام دیا گیا تھا لیکن انہوں نے راجہ بازار میں ہنری کسنجر کا خط لہراتا تھا اگر ملک ایٹمی طاقت نہ بنتا تو ددشمن ہمیں کھا جاتا اگر عمران خان نے سائفر لہرا کر عوام کو دکھایا تو اس میں سیکریسی کہاں ہے؟
چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کھوسہ صاحب یہ بتائیں کہ پاکستان میں امریکہ کی طرح دستاویزات ڈی کلاسیفائیڈ کرنے کا کوئی قانون موجود ہے ؟ لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ اس سائفر کو تو وفاقی کابینہ نے ڈی کلاسیفائیڈ کردیا تھا ، ملک کے اصل حکمران عوام ہیں انہوں نے منتخب نمائندوں کے ذریعے ملک کو چلانا ہے اس معاملے میں جمہوریت کو خطرے میں ڈالا جارہا ہے لطیف کھوسہ نے کہا اس ملک میں لیاقت علی خان کا قتل ہوا ، ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے ساتھ بھی جو ہوا وہ آپ کے سامنے ہے ، یہ سائفر امریکہ میں سفیر اسد مجید نے دفتر خارجہ کو بھجوایا تھا اس کے بعد وزیر اعظم نے جو کیا اس میں نیشنل انٹرسٹ شامل تھا اب میرے دوست کہیں گے سیاسی بات کر رہا ہے ،
وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہاکہ غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام جاری ہے ، اسرائیل کے پیچھے امریکہ ہے امریکہ کو ہم نے سپر پاور خدا مان لیا ہے ، ڈونلڈ لو نے اس ملک کے وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے دھمکی دی ، یہ تسلیم شدہ ہے یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت تھی۔ پاکستان نے امریکہ سے احتجاج کیا ،میں نے جب یہ کیس دیکھا تو حیران رہ گیا ،
اس دوران سردار لطیف کھوسہ نے وزیر اعظم کا حلف نامہ عدالت کے سامنے پڑھاتے ہوئے موقف اپنایا کہ وزیراعظم نے عوام کوبتانا ہے کہ آپ کے ملک کو کوئی خطرہ تو نہیں ہے یہ خود وزیر اعظم نے جج کرنا ہے کہ ملک کو کسی عمل سے کوئی خطرہ تو نہیں ،
وزرا کا حلف بھی سردار لطیف کھوسہ نے عدالت کے سامنے پڑھاتو عدالت نے لطیف کھوسہ سے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں وزیراعظم جو درست سمجھتا ہے تو وہ اس کو ڈسکلوز کر سکتا ہے ؟لطیف کھوسہ نے کہاکہ جی بالکل وزیراعظم جو درست سمجھتا ہے وہ ڈسکلوز کر سکتا ہے ، پی ڈی ایم غلام رہنا چاہتی ہے تو رہے یہ ان کا سیاسی ہتھیار ہے ،
اس دوران عدالت نے سردار لطیف کھوسہ کو کسی جماعت کا نام لینے سے روک دیالطیف کھوسہ نے کہاکہ یہ معاملہ نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں جاتا ہے کمیٹی میں فیصلہ ہوتا ہے کہ امریکہ سے سفارتی احتجاج کیا جائے گااس دوران وزیر اعظم کی ڈونلڈ لو کے کہنے پر چھٹی کرا دی جاتی ہے ، اس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی دوبارہ نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ ہوئی شہباز شریف نے بھی کمیٹی میٹنگ میں سائفر کو کنفرم کیا لیکن ساتھ یہ کہا سازش نہیں تھی ،
وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہاکہ ہم یہ کہتے ہیں یہ پاکستان کے خلاف سازش تھی ، 17 ماہ کے بعد وفاقی کابینہ نے ایف آئی اے کو انکوائری کرنے کی ہدایت کی ، ایف آئی اے نے ہمیں کال اپ نوٹس 30 نومبر 2022 کو بھیجا ،چھ دسمبر 2022 کا کال اپ نوٹس لاہور ہائیکورٹ نے معطل کر دیا ، 17 جولائی 2023 کو کال اپ نوٹس پر اسٹے ہماری غیر موجودگی میں واپس ہو گیا ، 19 جولائی کو ایف آئی اے نے پھر نوٹس بھیج دیا ، 25 جولائی نے ہائی کورٹ نے نوٹس کیا تو 26 جولائی کو انہوں نے ایک اور نوٹس بھیج دیا ،
سردار لطیف کھوسہ نے کہاکہ پانچ اگست کوتوشہ خانہ کیس میں عمران خان کو تین سال سزا ہوئی ، 28 اگست کو اس ہائیکورٹ سے سزا معطل ہوئی تو پتہ چلتا ہے 16 اگست کو ہی گرفتاری ڈال چکے ہیں ، پتہ چلتا ہے آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت 16 اگست کو فزیکل ریمانڈ مسترد کرتی ہے ،آفیشل سیکریٹ ایکٹ عدالت نے عمران خان کی غیر موجودگی میں یہ سب کیا ، 30 اگست کو جیل ٹرائل ہوا ، جوڈیشنل ریمانڈ کے بعد سماعت ہوتی ہے ،
لطیف کھوسہ نے کہاکہ بھٹو صاحب کو بھی مولوی مشتاق کی کورٹ میں جنگلے میں لا کر کھڑا کیا گیا تھا ،یہاں چیئرمین پی ٹی آئی کو بھی جنگلے میں لے کر آئے ، ان کو ڈر کس چیز کا ہے؟ کیا خوف ہے وہ سابق وزیراعظم ہیں ،سابق وزیر اعظم کے حقوق ہیں ،یہ اعظم خان کا بیان لیکر آ گئے ہیں جو تین ہفتے لاپتہ رہا ،یہ کہنا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سائفر لے گیا یہ مضحکہ خیز ہے ،انہوں نے ہمیں کچھ نہیں دیا اب کہہ رہے ہیں کل چارج فریم کرنے ہیں ، وکیل سردار لطیف کھوسہ نے عدالت سے کہاکہ آپ نے دیکھنا ہے پہلے بھی ہمارے ساتھ ہمایوں دلاور نے کیا کیا ہے؟ ہم یہ کہتے ہیں طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں ،ریاست کا مطلب ہے پارلیمنٹ ، صوبائی اسمبلیز ، لوکل گورنمنٹس ہیں ،ہم نے حکومت کو ریاست بنا دیا ہے ،
اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ حکومت اور ریاست کو ہم نے گڈ مڈ کر دیا ہے ،
لطیف کھوسہ نے کہاکہ کچھ اختیار مقتدر حلقوں نے لے لیا ہے اعلی عدلیہ سے قوم توقعات رکھتی ہے ، مجھے امید ہے آپ شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کھڑے ہوں گے
انہوں نے کہاکہ سائفر کیس میں سیکشن 5 کا اطلاق نہیں ہوتا عمران خان نے کہا کہ انہیں سازش سے نکالا گیاپی ڈی ایم کا موقف تھا عدم اعتماد کرکے نکالا ،سائفر عمران خان کے پاس نہیں ہے وہ وزارت خارجہ میں موجود ہے ، انہوں نے ایف آئی آر میں کوڈ لکھا ہے انہوں نے خلاف ورزی کی ہے ،کس نے ان کو کہا تھاسائفر کا کوڈ نمبرایف آئی آر میں لکھیں ،
اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کیاآپ کے دلائل کا خلاصہ یہ ہے کہ ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے نا سیکشن 5 کا ؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ بالکل اس کیس کا نہ ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے نہ سیکشن 5 کا اطلاق ہوتا ہے ، وکیل سردار لطیف کھوسہ یہ ممنوعہ جگہ نہیں ہے اگر ملک کے خلاف کوئی سازش ہو تو عوام کو بتانا وزیراعظم کا کام ہے ، یہاں ایف ئی اے کے وکلا نے بڑی آسانی سے اعلان کر دیا کہ سزائے موت بھی ہو سکتی ہے ،
وکیل سردار لطیف کھوسہ نے ایف آئی آر میں لگائی گئی دفعات بھی پڑھیں اور کہا کہ سائفر کیس کا ٹرائل کرنے والی عدالت نے اپنے آرڈر میں دھمکی بھی لگائی ہوئی ہے ، انگریزی تو جیسی بھی ہے میری بھی انگریزی ایسی ہی ہے ، ٹرائل کورٹ کی انگریزی بھی ایسی ہی ہے ،
اس پر چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے کہاکہ انگریزی سب کی اسی طرح ہی ہے ،
لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ اس سائفر کے لفظ کا ذکر آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں نہیں ہے صرف کوڈ کی بات کرتے ہیں ،اس دوران وکیل سردار لطیف کھوسہ نے تحریری دلائل بھی عدالت میں جمع کرا دئیے
جس پر چیف جسٹس نے ان سے کہاکہ آپ نے دلائل میں تین نقاط عدالت کے سامنے رکھے ہیں پہلی بات آپ کہہ رہے ہیں آرٹیکل 248 کا استثنی حاصل ہے ،دوسرا پوائنٹ آپ کا یہ ہے کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور سیکشن 5 کا اطلاق نہیں ہوتا ، تیسرا پوائنٹ آپ کا یہ ہے کہ وزیر اعظم کی ذمہ داری تھی کہ پبلک کے ساتھ شئیر کرتے ،
اس پر لطیف کھوسہ نے کہاکہ ایک پوائنٹ یہ بھی ہے سائفر کابینہ میٹنگ میں ڈی کلاسیفائی ہو چکا تھا سائفر کیس بدنیتی کی بنیاد پربنایا گیا ، دس ہزار پی ٹی آئی کے لوگ گرفتار کئے گئے چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف مقدمے بنانے کی سنچریاں مکمل کی گئیں اب بھی ورلڈ کپ ہو رہا ہے آج بھی یاد آتا ہے کیسے1992میں ورلڈ کپ جیتا گیا تھا ، لطیف کھوسہ نے استدعا کی کہ اگر آئندہ سماعت کے لیے جانا ہے تو عدالت کاروائی اسٹے کر دے ، پہلے بھی ہمارے لئے دوسرے کیس میں ٹھیک نہیں ہوا ، چیف جسٹس عامرفاروق نے کہاکہ آپ ڈویژن بینچ کے بعد آجائیں ابھی ساڑھے گیارہ بج گئے ہیں
لطیف کھوسہ کے دلائل مکمل ہوئے تو چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ ایف آئی اے کے پراسیکیوٹرز ڈویژن بنچ کے بعد دو بجے ضمانت کی درخواست پر بھی دلائل دیں
سائفر کیس میں درخواست ضمانت
درخواست ضمانت کیس کی سماعت کا آغاز2بج کر 40منٹ پر ہوا اور اختتام پانچ بج کر 20منٹ پر ہوا
چیف جسٹس عامر فاروق نے سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر سماعت کا آغاز کیا تو عمران خان کے وکیل سلمان صفدر اور سپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی اور شاہ خاور عدالت میں پیش ہوئے
سپیشل پراسکییوٹر رضوان عباسی نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ قابل دست اندازی جرم پر ایف آئی آر کا اندراج بنتا ہے،سائفر کے معاملے میں وفاقی حکومت نے سیکرٹری داخلہ کو کمپلینٹ داخل کرنے کی منظوری دی، راجہ رضوان عباسی نے کہاکہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمہ میں دس سال سے کم سزا والی دفعہ میں ضمانت ہو سکتی ہے، دس سال سے زائد سزا والی سیکشن لگی ہے اس لئے ناقابل ضمانت ہے،سائفرمقدمہ اخراج کی درخواست میں کھوسہ صاحب نے تسلیم کیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے جرم نہیں بنتا ،
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ معمول میں بیرون ملک سے سائفر آرہے ہوں گے تو ان کے حوالے سے کیا طریقہ کار ہوتا ہے وہ سمجھائیں یقینا وزارت خارجہ نے ایس او پیز بنائے ہوں گے وہ بتا دیجئے گا ، عدالت کا کہنا تھاکہ سائفر کے ذریعے جو بھی معلومات آرہی ہے کیا وہ آگے کمیونیکٹ نہیں کی جا سکتیں ؟
عدالتی استفسار پرایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ایک کیٹگری میں آپ کمیونیکیٹ کر سکتے ہیں دوسری کیٹگری میں آپ نہیں کر سکتے ، یہ سائفر ٹاپ سیکرٹ تھا اس کو شئیر نہیں کیا جا سکتا تھا،جس چینل سے سائفر عمران خان کے پاس آیا تھا اسی چینل سے واپس جانا تھا ،سائفر کی کاپی کو آخرکار ضائع ہونا تھا صرف اوریجنل کاپی نے رہنا تھا ،
اسپیشل پراسیکیوٹررضوان عباسی نے کہاکہ درخواست گزار کے وکیل نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن فائیو کی درست تعریف یا تشریح نہیں کی، چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کی معلومات پبلک تک پہنچائیں جس کے وہ مجاز نہی تھے،
چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ سائفر آنے کے رولز آف پریکٹس ہوں گے، کچھ ایس او پیز بنائے ہوں گے،اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہاکہ مقدمہ اخراج کی درخواست میں یہ مان لیا گیا کہ عمران خان نے نے یہ سب کیا ہے ،چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ایسی صورت میں درخواست گزار کی مزید گرفتاری کیوں درکارہے ،
اسپیشل پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ یہ واضع ہے وزیراعظم نے جان بوجھ کر یہ عمل کیا ہے اور استثنی ہونے کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 248 کا اطلاق بھی اس پر نہیں ہوتا کیونکہ عمران خان نے سیاسی فائدے کیلئے کیا ہے آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی 2023 میں کی گئی ترمیم کا اطلاق بھی اس کیس میں نہیں کر رہے ،قانون کے مطابق اس جرم کی سزا چودہ سال قید یا سزائے موت بنتی ہے، سیکرٹ ڈاکومنٹ پبلک کرنے پر بطور وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنی حاصل نہیں ،
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سائفر اسسٹنٹ نعمان کے پاس سائفر آیا ،اس کیس میں ڈپٹی ڈائریکٹر عمران ساجد ، حسیب بن عزیز ، سابقہ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود کا 161 بیان لیا گیاہے ، وزیر اعظم ہاوس میں سائفر آفیسر شاموں قیصر، ڈی ایس پی ایم آفس حسیب گوہر،ساجد محمود ڈی ایس وزیر اعظم آفس اور اعظم خان کا 161 کا بیان ہے ،
پراسیکیوٹرکا کہنا تھا کہ سائفر کیس میں اعظم خان کبھی بھی ملزم نہیں تھا بلکہ گواہوں کی لسٹ میں اس کا نام تھا ، اعظم خان کے لاپتہ ہونے کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج تھا ، اعظم خان تفتیشی افسر کے سامنے آیا متعلقہ مجسٹریٹ کے سامنے بیان ریکارڈ کرایا ، اعظم خان نے کہا وہ کچھ دیر کے لیے پیس آف مائنڈ کے لئے کہیں چلے گئے تھے ،
عدالت نے اسپیشل پراسیکیوٹرسے استفسار کیاکہ آپ کا بنیادی گواہ کون ہے ؟
اس پرراجہ رضوان عباسی نے بتایا کہ اعظم خان ، اسد مجید ، سہیل محمود بنیادی گواہ ہیں ، اس دوران اسپیشل پراسیکیوٹرنے سائفر اسسٹنٹ نعمان کا 161 کا بیان پڑھ کر سنایا تو عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے مداخلت کرتے ہوئے کہاکہ میرا اعتراض یہ ہے کہ 161 کے بیانات ضمانت کی درخواست میں نہیں پڑھ سکتے ،اس پر چیف جسٹس نے انہیں مداخلت سے روکتے ہوئے کہاکہ میں نے چین chainسمجھنی ہے کہ کس طرح سائفر آتا ہے کس طرح جاتا ہے ، اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہاکہ اگر چین ان بیانات میں موجود ہے تو پڑھ لیں
گواہ کے بیان میں واضع ہے یہ سیکریٹ کلاسیفائیڈ ڈاکومنٹ تھا اورسیکرٹ ڈاکومنٹ کی کوئی سرکولیشن نہیں ہوتی ، سیکرٹری خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میں نے سیکریٹ ڈاکومنٹ لکھا تھا ریکارڈ صرف سائفر ڈیپارٹمنٹ میں ہوتا ہے ،
اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہاکہ وہ چیئرمین پی ٹی آئی کی تقریر اور اعظم خان کا بیان پڑھناچاہتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ عدالت میں پڑھنے کی کیا ضرورت ہے ؟ آپ ریکارڈ دے دیجیے گا میں دیکھ لوں گا
اسپیشل پراسیکیوٹر نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہاکہ سائفر کو پبلک میں لہرانا سیاسی تھا یہ آفیشل فنگشن میں نہیں آتا ان کا کہنا تھاکہ کیس میںتین بیانات ماہرین ( ایکسپرٹس)اسد مجید خان ، سہیل محمود، سابق ڈی جی یو ایس اے فیصل نیاز ترمزی کے بیانات بھی شامل ہیں
ان کا کہنا تھاکہ ایکسپرٹس کے بیانات کا سہارا ہم نے لینا ہے ، ایف آئی اے کے سپیشل پراسیکیوٹرنے مختلف عدالتی فیصلوں کے حوالہ جات پیش کر تے ہوئے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کیس میں بھارتی عدالت کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیا بھارت کا آفیشل سیکریٹ ایکٹ ہے آپ کے پاس ؟ اسپیشل پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ90 فیصد ایکٹ ہمارا اور بھارت کا ایک جیسا ہے ، اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں نے اس قانون میں بھی کچھ ترامیم کی ہیں
پراسیکیوٹر نے کہا کہ انہوں نے جن کیسز کے حوالے دیئے ہیںان میں زیادہ تر کلاسایفائیڈ ڈاکومنٹس کی معلومات لیک کرنے کے خدشات پر تھے، ان کیسز میں معلومات لیک کرنے کے ثبوت نہیں تھے مگر پھر بھی معلومات لیک ہونے پر سزائیں ہوئیں، پراسیکیوٹرنے کہاکہ اس کیس میں تو اعتراف جرم موجود ہے کہ سیکرٹ ڈاکومنٹ کی معلومات کو پبلک کیا، راجہ رضوان عباسی سے چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ چالان جمع ہو چکا آپ نے گرفتار رکھ کر کیا کرنا ہے ؟تو پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ اس حوالے ججمنٹ دینا چاہتا ہوں چالان جمع ہو چکا تھا ضمانت خارج ہوئی ،
اس دوران پراسیکیوٹر کی جانب سے رولز آف بزنس 1973 عدالت کے سامنے پڑھے گئے ان کا مزید کہان تھاکہ اگر عدالت تھوڑا وقت دے دے تو میں عدالتی معاونت کر دوں گا ،جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ کیس آج ختم کرنا ہے روزانہ اس کو لیکر نہیں بیٹھ سکتے ،آپ متعلقہ رولزکی نشاندہ کردیں میں خود دیکھ لوں گا، اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہاکہ سائفر سیکورٹی کے حوالے سے الگ سے رولز آف بزنس میں باب ہے ،غیر ملکی طاقتوں کو اس عمل سے کیا فائدہ ہوا ؟یہ ایکسپرٹس نے بتانا ہے کوئی اور نہیں بتا سکتا ، چیئرمین پی ٹی آئی نے دوستوں کے درمیان کھڑے ہو کر نہیں بلکہ پبلک میں سائفر کی بات کی۔ اس موقع پر اسپیشل پراسیکیوٹرایف آئی اے نے چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت کی درخواست اورمقدمہ اخراج کی درخواست مسترد کرنے استدعاکردی
اسپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی کے دلائل مکمل ہوئے تو دوسرے ایف آئی اے کے دوسرے اسپیشل پراسیکیوٹر شاہ خاورنے مکتصر دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ وزارت خارجہ کے امریکہ میں افسر فیصل ترمذی کا بیان ریکارڈ کا حصہ ہے ، جس میں بتایاگیا ہے کیسے ایک ملک متاثر ہوا؟ کیسے انہوں نے عمران خان کے اس عمل کو لیا ، فیصل ترمزی کے بیان میں یہ بھی ہے کہ کیسے دوسرے ملک کے تعلقات پر اثر ہوا ،شاہ خاور کا کہنا تھا کہ 7مارچ کو ملنے والا سائفر 8مارچ کو وزیراعظم ہاوس کو بھجوایاگیا اس کی حساس نوعیت کو دیکھ کر قومی سلامتی کمیٹی کا فوری طور پر اجلاس بلایا جانا چاہیئے تھا لیکن انہوں نے 31مارچ کو قومی سلامتی کا اجلاس بلایااس عرصہ کے دوران سائفر وزیراعظم ہاوس میں رہا چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سائفر واپس کتنے دن میں بھجوانا تھا اس حوالے سے کوئی ایس او پیز موجود ہیں تو شاہ خاور نے بتایا کہ کوئی ایس او پیز تو موجود نہیں لیکن نو مارچ سے ستائیس مارچ تک کیا ہوا؟یہ دیکھنابہت اہم ہے اس عرصہ کے دوران دو اہم واقعات ہوئے ایک توپاکستان میں 20مارچ سے 23 مارچ 2022تک او آئی سی کی میٹنگ تھی جس میں امریکی وفد بطور ابزور شریک تھا دوسرامنصوبہ بندی کے ساتھ 27مارچ کو پریڈ گراؤنڈ میں جلسہ کیاگیا جس میں سائفر لہرایا گیا 28مارچ کوکیمپ آفس ڈکلیئر کئے گئے بنی گالہ میں ایک اجلاس ہوا جہاں فیصلہ کیا گیا کہ سائفر کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا ہے ، شاہ خاور نے کہا کہ اس عرصہ کے دوران نہ تو سائفر پارلیمنٹ میں پیش کیا گیاصرفسیاسی فائدے کے لئے سائفر کو استعمال کیاگیا ،اور چیئر مین پی ٹی آئی کے وکیل نے خود اعتراف کیا کہ سائفر کی معلومات پبلک کی گئی تھیں ، اسپیشل پراسیکیوٹر شاہ خاور کے دلائل مکمل ہوئے تو عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے جواب الجواب دلائل کاآغاز کرتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس میں اسد عمر کی ضمانت ہوئی لیکن ابھی تک اس کو چیلنج نہیں کیا گیا ،ایف آئی اے کے وکلا کے دلائل کے دوران کچھ دیر کے لئے ہم نے محسوس کیا کہ دہلی کی کسی عدالت میں موجود ہیں ، دشمن ملک کی عدالتوں سے ثبوت لائے جا رہے ہیں ، اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ کسی کو دشمن ملک کہہ دینا مناسب نہیں ہوتا ۔وزارت خارجہ کہہ دے تو ان کا کام بھی ہے کرکٹ میچ ہو رہے ہیں
وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ سائفر سے کس دشمن ملک نے فائدہ اٹھایا یہ نہیں بتایا گیا؟سائفر33 دن چیئرمین پی ٹی آئی جبکہ شہباز شریف کے پاس 169 کے دن رہا اس پر کوئی جواب نہیں آیا ، ان کا کہنا تھاکہ پاکستان کا کوئی سابق وزیراعظم یا وزیر خارجہ کبھی پراسیکیوٹ نہیں ہوا ، چیئرمین پی ٹی آئی کو ساٹھ روز جیل میں ہو چکے ہیں ،ہماری کوئی ملاقات نہیں کرائی جا رہی یہ ضمانت کا کیس بنتا ہے ،
چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر کے جوابی دلائل مکمل ہوئے تو کیس ختم کرنے والی درخواست پر جواب الجواب دیتے ہوئے سردارلطیف کھوسہ نے موقف اپنایاکہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اس ملک کو ایٹمی پاور بنایا 27 مئی کوجلسے میں عمران خان نے جو لہرایا تھا وہ تو خود وہ وضاحت کر چکے ہیںکہ سادہ کاغذ تھا،سائفر کہاں انہوں نے عوام کو دکھایا ہے ؟ لیکن سائفر کے متن کا کسی نے انکار نہیں کیا ،یہ سب کچھ تو اخبارات میں شائع ہوا ہے جس طرح بھٹو نے کہا تھا مجھے دھمکی دی گئی تھی ، اس طرح چیئرمین پی ٹی آئی نے عوام کو بتایا کہ انہیں دھمکی دی گئی ، وزیراعظم عوام کا نمائندہ ہوتا ہے اس نے دیکھنا ہوتا ہے کس ملک کے ساتھ تعلقات کیسے رکھنے ہیں ،
عدالت میں ایف آئی اے کے وکلا کی طرف سے کہاگیاکہ سائفر کی معلومات پبلک کرنے کا اعتراف کر لیا، میں قطعا کسی بات کا اعتراف نہیں کر رہا،کیا چیئرمین پی ٹی آئی نے پبلک کو کوئی سائفر دکھایا ؟ انہوں نے تو علامتی طور پر ایک کاغذ لہرایا تھا،ڈی کوڈ ہونے والا سائفر تو آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی، شہباز شریف اور خواجہ آصف کے پاس بھی گیا، اس پر تو سفارتی سطح پر شدید احتجاج بھی کیا گیا تھا، لطیف کھوسہ نے کہاکہ بدنیتی سے عمران خان کو نشانہ بنانے کیلئے آفیشل سیکریٹس ایکٹ میں ترامیم کی گئیں اگر ڈونلڈ لو کے کہنے پر پاکستا نے وزیراعظم کو ہٹانا ہے تو پھر مجھے پاکستانی کہلوانے پر شرمندگی ہوگی۔ یہ پاکستان کے عوام کا حق تھا کہ وہ جانتے کہ سائفر میں کیا کہا گیا ہے ۔ لطیف کھوسہ کے دلائئل ختم ہوئے تو عدالت نے درخواستوںپر فیصلہ محفوظ کرلیا
سائفر کیس کاٹرائل جیل میں کرنے کیخلاف درخواست کا فیصلہ
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے سائفر کیس کاٹرائل جیل میں کرنے کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر فیصلہ عدالت میں سنایا جس میں صرف اتنا بتایا گیاکہ درخواست نمٹا دی گئی جس کے بعد فیصلے کے اہم نقاط سامنے آئے جن کے سامنے نے سے معلوم ہوا کہ فیصلے میں چیئرمین پی ٹی آئی کو ریلیف نہیں مل سکا عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ہدایات کے ساتھ نمٹا دی ان ہدایات میں کہا گیا ہے کہ جیل ٹرائل سکیورٹی کے مدنظر چیئرمین پی ٹی آئی کے حق میں ہے ،بظاہر جیل ٹرائل کے معاملے پر کوئی بد نیتی نظر نہیں آئی کیونکہ ماضی میں چیئرمین پی ٹی آئی خود اپنی سکیورٹی کے حوالے متعدد بار خدشات کا اظہار کرچکے ہیں فیصلے میں کہا گیا ہے ہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل ٹرائل پر تحفظات ہوں تو ٹرائل کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں ،


