اسلام آباد (ای پی آئی )سپریم کورٹ نے پاکستان میں سیاسی مخالفین کے خلاف درج کئے جانے والے مقدمات کے حوالے سے تاریخی فیصلہ سنایا

جسٹس اعجازالاحسن ، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل تین رکنی بینچ نے نجی ٹی وی چینل کے نائب صدر درخواست گزار عماد یوسف کی درخواست پر 14ستمبر2023کوسماعت مکمل کی تھی جس میں سردارلطیف کھوسہ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ دلائل دیئے تھے

11صفحات اور 9پیراگراف پر مشتمل فیصلہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے تحریر کیا ہے

پی ٹی آئی رہنما شہباز گل نے 8اگست 2022کو ٹی وی پروگرام میں اظہار خیال کیا تھا جس پر مجسٹریٹ اسلام آباد کی مدعیت میں شہبازگل سمیت دیگر لوگوں کیخلاف اداروں کو بغاوت پر اکسانے کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا تھا
اس کیس میں اے آر وائے کے نائب صدر عماد یوسف کو شریک ملزم بنایاگیا تھا

عماد یوسف نے اس مقدمہ کے اخراج کی درخواست دائر کی جو ٹرائل کورٹ نے 12دسمبر2022کومسترد کردی
ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو اسلام آبادہائیکورٹ مین چیلنج کیا گیالیکن ہائیکورٹ نے بھی درخواست 14فروری2023کو خارج کردی

ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی جس کومنظور کرتےہوئے نہ صرف اسلام آبادہائیکورٹ بلکہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے کوبھی کالعدم قراردیدیاگیاہے

عدالت نے 14ستمبرکوعماد یوسف کانام ایف آئی آر سے نام نکالنے کی استدعا منظور کرتے ہوئے ان کا نام ایف آئی آر سے نکالنے کا حکم دیاتھااس کیس کااب تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیاہے۔

عدالت نے فیصلے میں فوجداری قانون کی شق196کوشامل کرتے ہوئے کہاہے کہ ریاست کے خلاف سنگین جرم کانوٹس کوئی عدالت نہیں لے سکتی وفاقی یا صوبائی حکومت یا ان دونوں حکومتوں کی طرف سے نامزدافسر کرسکتا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ قانون ساز اس قسم کے سنگین جرائم کی ہیئت سے سے آگاہ تھے اس لئے مجوعہ ضابطہ فوجداری میں شق 196 رکھی گئی۔عدالت نے کہاہے کہ وفاقی حکومت کامطلب وزیراعظم یا وزرا اور صوبائی حکومت کا مطلب وزیراعلی یاصوبائی وزراہوتا ہے۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ مجاز عدالت کسی بھی سطح پرمواد کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ کیس نہیں بنتا تو اسے وفاقی یا صوبائی حکومت یاس اس کے مجاز افسرکی طرف سے دائرکی گئی شکایت مسترد کرنے کا اختیارہوتاہے۔ عدالت نے لکھاہے کہ اگرجوڈیشل مجسٹریٹ کے پاس اس قسم کی شکایت درج کی گئی ہے تو وہ حکومتی دباو سے آزاد ہوتا ہے اور اسے بغیرکسی مداخلت اور دباؤ کے اس شکایت کا فیصلہ کرناچاہیئے۔عدالت نے لکھا ہے کہ پولیس افسران انتظامیہ کا حصہ ہوتے ہیں اس لئے ان سے آزاد تفتیش کی توقع نہیںکی جاسکتی۔تاہم شق 196 کے علاوہ اگرکوئی اور جرم ہوتواس کوایف آئی آر میں شامل کرکے کارروائی کی جاسکتی ہے

عدالت نے لکھا ہے کہ آئین کے دیباچے میں کہا گیاہے کہ ریاست اپنے اختیارات ان منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی جن کوعوام نے منتخب کرکے پارلیمنٹ میں بھیجا ہے۔قانون نےہر شہری کو اظہار رائے کی آزادی دی ہے،سیاسی و سماجی انصاف ہرشہری کاحق ہے جبکہ ریاست ہرصورت آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے اختیارات کا استعمال کرے گی۔

فیصلے میں سپریم کورٹ نے حکومت کو ناجائز اختیارات کے استعمال سے روکتے ہوئے قرار دیا ہے کہ خوف کا ماحول ریاست کے اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرتا ہے اور اس طرح کے ماحول میں میڈیا بھی آزادی سے کام نہیں کر سکتا۔ اختیارات کے ناجائز استعمال سے عوام میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے. تنقید کرنے والوں اور سیاسی مخالفین کو دشمن نہ سمجھا جائے۔پاکستان کا آئین ہر شہری کو سیاسی، معاشرتی اور اظہار رائے کی آزادی اور حق دیتا ہے۔ شہریوں کے جائز حقوق کا تحفظ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے،پرنٹ اور الیکٹرونک عوام تک میڈیا تک معلومات پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔آزادی رائے کا حق استعمال کرنے پر سیاسی ورکرز، صحافیوں و دیگر پر مقدمات کا اندراج ہو رہا ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ عوامی نمائندے،صحافی، سیاسی ورکرز ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔حکومت کی ایسی کاروائیاں آئینی مینڈیٹ کی خلاف ورزی ہیں۔ سپریم کورٹ نے نجی ٹی وی چینل کے نائب صدر درخواست گزار عماد یوسف کے کیس میں تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔ فیصلے میں عدالت نے حکومت کو اختیارا ت کے ناجائز استعمال سے روک دیا ہے ،

فیصلے میں تین رکنی بینچ نے اتفاق رائے سے درخواست گزار عماد یوسف کو بری کر تے ہوئے ایف آئی آر سے نام نکالنے کا حکم دیا ہے ۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ شہریوں کیخلاف بے بنیاد کارروائیوں سے پرہیز کیا جائے۔ پاکستان کا آئین ہر شہری کو سیاسی، معاشرتی اور رائے کی آزادی کا حق دیتا ہے۔ شہریوں کے جائز حقوق کا تحفظ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا عوام تک معلومات پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔

فیصلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ عوامی نمائندے، صحافی اور سیاسی ورکرز ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے آئین میں دیئے گئے مینڈیٹ کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔

فیصلے میں کہاگیاہے کہ ملزم کابراہ راست کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے اس کوایک سپلیمنٹری ایف آئی آرکے ذریعے اس کیس میں شامل کیاگیا،ان کے خلاف محض شواہد وہ مسودہ ہے جوپروگرام کے حوالے سے تھا تاہم اس عدالت سے پہلے دونوں فورم (ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ) اپنے اختیارات کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیںاور انہوں نے اس کیس کے حوالے سے آئین و قانون میں دیئے گئے پہلوؤںکو نظر اندازکیا اور درخواست گار کے حق کے تحفظ کےلئے حاصل اپنے اختیارات استعمال کرنے میں ناکام رہے۔