اسلام آباد(ای پی آئی) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے نئے سال کا آغازہوتے ہی وزیراعظم میاں شہباز شریف اوروزیرداخلہ رانا ثنااللہ پر نشتر چلانا شروع کردیئے. کہتے ہیں کہ اگر یہ آٹھ ماہ اور رہ گئے تو عوام کے تن پر بنیان بھی نہیں رہنے دیں گے.

سوشل میڈیا پر اپنی ٹوئیٹ میں فواد چوہدری نے کہا ہے کہ چجھکے سال شہباز شریف نے وعدہ کیا کہ میں کپڑے بیچ کر آٹا سستا کروں گا ہم لوگ سمجھے اپنے کپڑے بیچنے کی بات کر رہے ہیں اب آکر پتا چلا وہ عوام کے کپڑے کہ رہے تھے ، اگر یہ آٹھ ماہ اور رہ گئے تو عوام کے تن پر بنیان بھی نہیں رہنے دیں گے.

فواد چوہدری کے اس طنزیہ ٹوئیٹ پر دلچسپ تبصرے جاری ہیں.صارف ڈاکٹر ساحر علی نے شعر لکھتے ہوئے ٹوئیٹ کیا ہے.
نقصان کا شمار تو ممکن نہیں مگر
سب لوگ ہی اداس تھے اس سال شہر میں
(ڈاکٹر علی ساحر)

ایک اور ٹوئیٹ میں فواد چوہدری نے وفاقی وزیرداخلہ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ
رانا ثنااللہ کو پاکستان کے تنہائ پیچیدہ سیکیورٹی مسائل کا بنیادی علم بھی نہیں، افغان طالبان سے تعاون کے بغیر ایسے آپریشن کے سنگین نتائج ہوں گے، مسائل صرف بم بندوقوں سے حل نہیں ہوتے آپ کو تفصیلی حکمت عملی چاہئے طاقت کا استعمال اس حکمت عملی کا ایک حصہ ہو سکتا ہے مکمل حل نہیں.

فواد چوہدری نے یہ تبصرہ سینئرصحافی طاہر خان کی جانب سے کی گئی ٹوئیٹ پر ردعمل میں کیاہے . صحافی طاہر خان کا کہنا تھا کہ
وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے ایکسپریس ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ جمعہ کو ہونے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں یہ موقف سامنے آیا ہے کہ خيبر پختونخوا میں مسلح گروہوں کے خلاف کلئیرنس آپریشن کے علاؤہ کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔ سینئرصحافی نے کہا تھا کہ یہاں ایک مسئلے کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں
گزشتہ آپریشنز میں عام لوگوں بالخصوص قبائلی عوام اور ان کے املاک کو بہث نقصان پہنچا تھا۔ شمالی وزیرستان کے ہزاروں قبائل اب بھی أفغانستان سے واپس نہیں آئے ہیں۔ قبائلی عوام کو مزید آزمائش میں نہ ڈالا جائے۔ میران شاہ اور میر علی کی طرح دوبارہ شہروں کو تباہ نہ کیا جائے۔

صحافی طاہر خان نے ٹوئیٹ تھریڈ میں لکھا کہ رانا ثنا اللہ نے یہ بھی کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں عمومی اتفاق رائے سامنے آئی ہے کہ تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا فائدہ نہیں ہوا۔ یہ اہم ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے عوامل پر بحث کی جائے کہ مشکلات کیا تھے اور نتائج کیوں سامنے نہ آسکے
اور کیا آپریشن ہی مسئلے کا واحد حل ہے؟ وزیر داخلہ نے اس سوال پر کہ کیا افغانستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے تو انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت کسی کو بھی اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، انہوں نے کہا کہ پہلے أفغانستان سے بات کی جائے گی کہ ٹی ٹی پی کے ٹھکانے ختم کر کے ان کو ہمارے حوالے کیا جائے۔ وزیر داخلہ نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف کاروائی کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پر حملے کرنے والوں کے خلاف افغانستان میں کارروائی کی جاسکتی ہے۔

طاہر خان کے مطابق افغانستان میں کاروائی سے پہلے ان کے نتائج پر غور کرنا چاہیے کہ دوسرے ملک میں کارروائی کےمثبت یا منفی نتائج سامنے آئیں گے. طالبان اسلامی امارت کا موقف ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان سے کاروائی نہیں کرتی جبکہ پاکستان مسلسل کہتا رہا ہے کہ ٹی ٹی پی کے لئے افغانستان محفوظ مرکز پے ٹی ٹی پی بھی کہتی ہے کہ وہ پاکستان ہی سے کاروائیاں کرتی ہیں ۔