اسلام آباد(ای پی آئی) اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے لئے ہائیکورٹ کی جانب سے جاری کئے گئے فیصلے میں بڑے انکشافات ہوئے ہیں، انکشافات سے بھر پور10 پیراگراف کا اردومتن پڑھیئے.
پیراگراف نمبر18
عدالت نےاپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ یہ معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو بھجوایا تھا تاہم الیکشن کمیشن کی طرف سے دیا گیا حکم ان شکایات پر بالکل خاموش ہے جو درخواست گزاروں کی طرف سے رٹ پٹیشنز میں کی گئی تھیں۔ الیکشن کمیشن نے الیکشن ایکٹ 2015 میں تجویز کی گئی مجوزہ ترامیم پر انحصار کیا ہے ۔ الیکشن کمیشن نے اپنے حکم میں درخواست گزاروں کی ان شکایات کے بارے میں ایک بھی لفظ اپنے حکم میں نہیں لکھاجو شکایات درخواست گزاروں نے اس عدالت میں دائر کی گئی پٹیشنز میں کی تھیں۔عدالت نے لکھا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں صرف یہ لکھا کہ آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت بل صدر پاکستان کو بھجوا دیا ہے۔جسٹس ارباب محمد طاہر نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ وفاق اور الیکشن کمیشن ریکارڈ سے یہ بات دکھانے میں ناکام رہے ہیں کہ صدر پاکستان نے اس بل پر دستخط کر دیئےہیں اور وہ قانون بن چکا ہے۔ عدالت نے لکھا ہے کہ الیکشن کمیشن نے جن مجوزہ ترامیم پر انحصار کیا وہ قانون کے تحت قابل عمل نہیں ہیں اس کیس میں جو قانون آج موجود ہے اسی کا اطلاق ہر صورت ہونا ہے الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت موجودہ قانون پر عملدرآمدکی پابند ہے۔ عدالت نے لکھا ہے کہ یہ طے شدہ قانون ہے کہ قانون کا اطلاق صدر کی منظوری کے بعد ہی ہو سکتاہے۔
پیراگراف نمبر 19۔
عدالت نے لکھا ہے کہ وفاقی حکومت کی طرف سے اسلام آباد کی یونین کونسلز کی تعداد 101 سے بڑھا کر 125 کرنے کا فیصلہ سیکرٹری وزارت داخلہ کی طرف سے بھجوائی گئی سمری کی بنیاد پر کیا گیا۔تاہم یہ سمری نہ تو کابینہ کے لئے تھی اور نہ ہی 19 دسمبر کو جاری کئے گئے نوٹیفیکیشن میں اس کی کوئی وجہ بتائی گئی یہ نوٹیفیکیشن انتخابات کی تاریخ سے 12 دن پہلے جاری کیا گیا، نوٹیفیکیشن میں صرف ایک وجہ بتائی گئی کہ مردم شماری کو 5 سال گزر چکے ہیں اور اسلام آباد کی آبادی میں اضافہ ہو چکا ہے۔ عدالت نے لکھا ہے کہ کوئی وضاحت نہیں کی گئی کہ کس ڈیٹا کی بنیاد پر یہ مداخلت کی جا رہی ہے ابھی تک کوئی نئی مردم شماری بھی نہیں ہوئی ،فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 101 یونین کونسلز کا نوٹیفیکیشن بھی 2017 مردم شماری کی بنیاد پر جاری کیا گیااس سے صاف ظاہر ہے کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد موجود نہیں اور نہ ہی حالات میں کوئی تبدیلی ہوئی ہے کہ الیکشن کمیشن 19 دسمبر کو جاری کیا گیا نوٹیفیکیشن جاری کرے۔
پیراگراف نمبر 20۔
عدالت نے لکھا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 23 دسمبر کو اپنے حکم میں درخواست گزاروں کی اپیلوں میں کی گئی تمام شکایات کا ازالہ کر دیا تھا۔
پیراگراف نمبر 21۔
عدالت نے کہا ہے کہ انتخابات کے قریب پہنچ کر انتخابی شیڈول معطل اور یونین کونسلز کی تعداد میں اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری کرنےکے خلاف یہ درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔
پیراگراف نمبر 22۔
عدالت نے لکھا ہے کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات کا شیڈول 20 اکتوبر 2022 کو جاری کیا تھاجس کے بعد الیکشن کمیشن نے انتخابات کا تمام عمل مکمل کر لیا تھا، کاغذات نامزدگی طلب کرنے،جمع کرانے، نامزد امیدواروں کی اشاعت، کاغذات کی جانچ پڑتال ، اپیلوں کا انداراج اور ان پر آنے والے فیصلوں سمیت امیدوارں کی فہرستوں کی اشاعت بھی کی جا چکی ہے حتٰی کہ الیکشن شیڈول کے مطابق امیدواروں کو نشانات الاٹ کرنے کا عمل بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔ عدالت نے لکھا ہے کہ پہلے شیڈول کے مطابق پولنگ کی تاریخ 24 دسمبر 2022 تھی لیکن 3 نومبر کو نوٹیفیکیشن کے ذریعے نئی تاریخ 31 دسمبر 2022 طے کی گئی پولنگ کے علاوہ تمام عمل مکمل کر لیا گیا تھا۔
پیراگراف نمبر 23۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت الیکشن کمیشن کی طرف سے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لئے جاری شیڈول سے واقف تھی تاہم 19 دسمبر کو میونسپل کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر کی طرف سے دئیے گئے غیر مصدقہ اعدادو شمار اور معلومات کی بنیاد پر نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا اس چیز کا بھی خیال نہیں رکھا گیا کہ 12 روز بعد انتخابات ہونے جا رہے ہیں عدالت نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے کنڈکٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس معاملے پر قانون کے خلاف جا رہی ہےحقائق میں یہ بات دیکھی جا سکتی ہے کہ یونین کونسلز کی تعداد بڑھانے کے حوالے سے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا کہ کس بنیاد پر یونین کونسلز بڑھائی گئی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یونین کونسلز بڑھانے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔
پیراگراف نمبر 24۔
عدالت نے لکھا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 219 کے تحت مقامی حکومت کے انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہےاور کوئی صوبہ الیکشن کمیشن اس حوالے سے ڈکٹیٹ نہیں کر سکتا آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت انتظامی حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کی مکمل معاونت کریں۔
پیراگراف نمبر 25۔
عدالت نے لکھا ہے کہ عدالتوں کی ذمہ داری ہے کہ الیکشن کمیشن کو آئینی تحفظ فراہم کرے، اگر صوبائی یا وفاقی حکومت اپنی قانونی حیثیت سے آگے بڑھے یا انتظامی اتھارٹی مقامی حکومت کے بے اختیار کرے تو ایسا عمل آئین کے آرٹیکل 140 A کےغلط استعمال کی کی مشق ہو گی اور عدالت اس عمل کو کالعدم قرار دے سکتی ہے،مقامی حکومت آئین کے تحت حکومت کا تیسرا ستون ہے مقامی حکومت نچلی سطح پر شہریوں کی زندگی کے معاملات پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہےیہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ مقامی حکومتوں کے نظام کو یقینی بنائیں اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داری کا نظام بنائیں۔آئین کی ان شقوں سے فرارممکن نہیں ہےاس حوالے سے عدالت نے سپریم کورٹ کے 3 فیصلوں کی نظیر بھی فیصلے میں شامل کی ہے۔
پیراگراف نمبر 26۔
ان حقائق کی روشنی میں الیکشن کمیشن کا حکم اور نوٹیفیکیشن قانونی طور پر باقی نہیں رہ سکتے اور کالعدم قرار دئیے جانے کے قابل ہیں۔
پیراگراف نمبر 27۔
عدالت کے مختصر حکم کی تفصیلی وجوہات یہی ہیں جو اوپر بیان کر دی گئی ہیں عدالت نے اپنا مختصر حکم بھی تفصیلی حکم میں شامل کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی نواز اعوان اور جماعت اسلامی پاکستان کے رہنما میاں محمد اسلم کی جانب سے دائر کی گئی درخواستیں منظور کی جاتی ہیں جس کے نتیجے میں الیکشن کمیشن کی طرف سے 19 دسمبر اور27 دسمبر 2022 کو جاری کیے گئے دونوں نوٹیفکیشن کالعدم قراردیئے جاتے ہیں.عدالت نے قراردیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کیلئے پہلے سے جاری شیڈول کے مطابق کرائے جائیں جس میں 31 دسمبر کو انتخابات کرانے کا کہا گیا تھا، عدالت نے لکھا ہے کہ وفاقی حکومت کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کو مکمل معاونت فراہم کرے کیونکہ مقامی حکومتوں کے انتخابات الیکشن کمیشن کا آئینی مینڈیٹ ہے۔


