غزہ (ای پی آئی)فلسطین اوراسرائیل کے درمیان جنگ کا تیرھویں واں روز غزہ پراسرائیلی بربریت سے معصوم بچوں کے جسم چھلنی ، ہزاروں افراد شہید ، فلسطینی مجاہدین کےحوصلے چٹان کی طرح مضبوط بھرپور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ، حزب اللہ نے اسرائیلی بربریت کے خلاف بڑا قدم اٹھا لیا ہے. امریکی شہروں میں ہزاروں امریکیوں کا حکومت کی سخت مخالفت کے باوجود فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ

ترک صدر فلسطین کے معاملے پر مغرب کے رویے پر نالاں ،
سلامتی کونسل ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہی ، مغرب آگ پر تیل چھڑکنے کے سوا کچھ نہیں کررہا، عالمی میڈیا متعصبانہ نشریات سے قتل عام کی پردہ پوشی کررہا ہے ، ترک صدر کی تنقید، رجب طیب اردوان کی او آئی سی کے غیرمعمولی اجلاس کی تعریف، امدادی سامان کے 3طیارے مصر روانہ کر دئیے ۔

اسرائیل جنگی جرائم پر اسلامی دنیا کے سخت انتقام سے خبردار رہے ، ایرانی صدرابراہیم رئیسی
کہتے ہیں امریکا اسرائیل کے جرائم میں اس کا ساتھی ہے ، فلسطینیوں کے خون کا ہر قطرہ اسرائیل کو اپنے زوال کے قریب لے جا رہا ہے ۔

بڑی خبر۔۔
امریکی محکمہ خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار نے اسرائیل کو فوجی امداد فراہم کرنے پر احتجاجاً اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزارت خارجہ میں سیاسی و فوجی امور کے ڈائریکٹر جوش پال نے اپنے استعفیٰ میں لکھا ہے کہ ان کے لئے امریکی حکومت کی اسرائیل کو مسلسل فوجی امداد کی فراہمی کی پالیسی سے اتفاق کرنا ممکن نہیں ۔
نیویارک ٹائمز کے ساتھ ایک انٹرویو میں، پال نے یہ بھی کہا کہ “اسرائیل کو اپنے دشمنوں کی نسلوں کو مارنے کی کھلی چھوٹ دینے سے دشمنوں کی ایک نئی نسل تیار ہوجائے گی، جو بالآخر امریکہ کے مفاد میں نہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت گزشتہ کئی دہائیوں سے جو غلطیاں کرتی آرہی ہے وہ آج انہیں پھر دہرا رہی ہے لہذا وہ اس عمل کا مزید حصہ بننے سے انکار کرتے ہیں۔جو ش پال 11 سال سے امریکا کی جانب سے اپنے اتحادی ممالک کو ہتھیاروں کی فراہمی کے شعبے سے منسلک تھے۔انہوں نے کہا کہ و ہ مشرق وسطیٰ میں تنازعہ کے ایک فریق کو ہتھیار فراہم کرنے کی حمایت نہیں کر سکتے ۔ ہماری ذمہ داری تھی کہ ہم انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے لیکن ہم ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔جوش پال نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کے لیے مزید مصائب کا باعث بنے گا، جو کہ امریکا کے مفاد میں نہیں، لیکن چونکہ میں اس حوالے سے کچھ نہیں کر سکتا تھا اس لیے استعفیٰ دے دیا۔جوش پال کا کہنا تھا کہ ‘یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو اجاگر کریں ، چاہے وہ کوئی بھی انجام دے رہا ہو۔”واضح رہے کہ امریکا اسرائیل کو سالانہ 3 ارب 80 کروڑ ڈالر سالانہ سے زیادہ کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے۔

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان:

"فلسطین صرف عربوں یا مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ آزادی کا مسئلہ ہے۔ اسرائیل نے بیت المقدس پر قبضہ کر رکھا ہے، جسے وہ مقدس سمجھتے ہیں، اور مسلمان حکمران صرف مذمت کرتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں۔
اگر ہم ہوتے تو ہم اسرائیل پر اپنے تمام جوہری میزائل تجربات کر لیتے

اسرائيل کی حمایت کرنا امریکہ کے لئے عالمی برادری میں شرمندگی کا باعث بن گیا۔
اقوام متحدہ میں جنگ بندی کی قرارداد ویٹو کرنے پر ہال میں موجود کئی ممالک کے نمائندوں نے امریکی سفیر کی طرف پشت کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کروادیا۔۔

غزہ کے ہسپتال پر حملہ جنگ جرم اسرائیل کو سزا ملنی چاہیے اسلامی تعاون تنظیم کا دو ٹوک موقف
فلسطینیوں کی جبری بے دخلی مسترد عالمی برادری فلسطینیوں سے امتیازی سلوک بند کریں جدہ میں او ائی سی کے غیر معمولی اجلاس کا اعلامیہ سعودی ولی عہد کا جاپانی اور یونانی وزرا اعظم سے ٹیلی فونک رابطہ حالیہ کشیدگی سے مشرق وسطی سمیت دنیا کا امن تباہ ہو سکتا ہے محمد بن سلمان نے خبردار کر دیا ۔۔

غزہ میں جب ایک فلسطینی ڈاکٹر کو پتا چلا کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں اسکا پوتا شہید ہو گیا ۔۔۔

اللہُ اکبر۔
اس باپ کے دونوں بیٹے ایک ہی دن شہید ہو گئے اور یہ چیخ چیخ کر دُوسروں کو کہہ رہا ہے
الحمداللہ کے اللہ نے اُنھیں قبُول کیا۔ صبر کرو۔ ہم جہاد کی سرزمین پر رہتے ہیں۔

اسرائیلی فوج غزہ کی باڑ کے قریب جمع ہو رہی ہے۔

پالتھنک فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے بانی عمر شعبان کا کہنا ہے کہ مسلسل بمباری کی وجہ سے رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ سے نکلنا انتہائی مشکل ہے۔ "غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ نیا نہیں ہے۔ ہم 2007 سے اب تک 17 بار شدت پسندی کا شکار ہو چکے ہیں۔ آخری جنگ صرف چند ماہ قبل مئی میں ہوئی تھی۔ اس سے پہلے کی جنگ اگست 2022 میں تھی۔ عمر شعبان نے مزید کہا، بدقسمتی سے امریکہ، برطانیہ اور کچھ یورپی ممالک سمیت بین الاقوامی برادری نے ایک ہی موقف اختیار کیا ہے اور اسرائیل کی آنکھیں بند کر کے حمایت کررہے ہیں۔ بلاشبہ ہم فلسطینی ہیں اور ہم بے گناہوں کے قتل کے خلاف ہیں لیکن لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا وطن اسرائیل کے قبضے میں ہے اور ہم مزاحمت کا حق رکھتے ہیں لیکن ہم پرامن مزاحمت کو ترجیح دیتے ہیں۔

تازہ ترین:
حزب اللہ اور اسرائیل کی فوج کے درمیان اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر توپ خانے سے فائرنگ کا تبادلہ شروع کر دیا گیا ہے۔

بریکنگ:
اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق اسرائیل کی شمالی سرحد کو لبنان سے اینٹی ٹینک فائر کا نشانہ بناگیا ہے

طلسطین سے ایک طبی ذرائع نے بین الاقوامی جریدے کو بتایا ہے کہ غزہ کی پٹی میں کل شام سے اب تک 121 افراد شہید اور 540 زخمی ہو چکے ہیں جس میں ابھی تک مجموعی حلاکتوں کی تعداد کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر سے حماس کے اسرائیل میں حملے کے بعد سے اس کے اب تک کم از کم 306 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔اسرائیلی فوج کا مزید کہنا ہے کہ انہوں نے 203 خاندانوں کو بتادیا ہے کہ ان کے پیارے اب غزہ میں قید ہیں۔

فلسطینی خبر رساں ادارے کے مطابق، اسرائیلی جنگی طیاروں نے وسطی غزہ کی پٹی میں الزہرہ کے علاقے میں چار رہائشی ٹاوروں پر متعدد میزائل داغے ہیں جس سے وہ مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔ جبکہ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے 270 رہائشی یونٹوں کے مکینوں کو گولہ باری کر کے مکینوں کو نقل مکانی پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی پولیس کا ایک اور طالمانہ اقدام، اسرائیلی پولیس کے چیف کوبی شبتائی نے کہا ہے کہ اسرائیل میں غزہ کی حمایت میں مظاہروں کے لیے "زیرو ٹالرنس” پولیسی بنائی گئی ہے، کوبی شبتائی نے جنگ مخالف مظاہرین کو محصور فلسطینی میں بھیجنے کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔ شبتائی کا کہنا ہے کہ جو بھی اسرائیلی شہری بننا چاہتا ہے، اسے خوش آمدید کہا جائے گااور "جو کوئی بھی غزہ کے ساتھ شناخت کرنا چاہتا ہے اس کا خیرمقدم ہے اور میں اسے اب وہاں جانے والی بسوں میں ڈال دوں گا

الجزیرہ عربی کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ "مغربی کنارے کے شمالی علاقے میں ایک بڑے دھماکے کے لمحے کو قید کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دھماکہ نور شمس پناہ گزین کیمپ میں ہوا ہے جہاں کئی شہروں میں چھاپوں کے لیے اسرائیلی فورسز بھی پہلے سے تعینات ہیں۔اس سے قبل آج اسرائیلی فورسز پر اسی علاقے میں ایک نوجوان کو قتل کرنے کا انکشاف بھی ہے۔

اسرائیلی پروپیگنڈا نےنقاب، چینل 4 نیوز کی تحقیقات میں غزہ میں العہلی العربی ہسپتال پر بمباری سے متعلق اسرائیلی فوج کی طرف سے فراہم کردہ بیانیہ کی چھان بین کی گئی ہے جو اس ویڈیو میں دکھائی گئی. جس میں میزائل کی رفتار سے لے کر متنازعہ آڈیو ریکارڈنگ تک اس رپورٹ میں اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

عرب پارلیمنٹ نے بین الاقوامی اور علاقائی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ محصور غزہ کے رہائشیوں کے خلاف "اسرائیلی قبضے اور اس کے جرائم” کو روکنے کے لیے فوری فلسطین میں مداخلت کریں۔

فلسطین میں عینی شاہدین اور طبی ذرائع کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں کی غزہ پٹی پر 13 ویں روز بھی بمباری جاری ہے جس کے نتیجے میں آج صبح 40 سے زائد فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔ فلسطینی نیوز ایجنسی کے مطابق غزہ شہر کے جنوب میں خان یونس میں ایک مکان پر اسرائیلی جیٹ طیاروں کے حملے میں 7 بچوں سمیت 9 افراد شہید ہو گئے ہیں۔ عینی شاہدین نے مزید بتایا کہ غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے رفح میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 30 سے ​​زائد فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ اسرائیلی جنگی طیاروں سے شہادتوں کی اطلاعات کے درمیان ہی رفح میں تال السلطان علاقے میں ایک اور مکان کو بھی نشانہ بنایا۔ عینی شاہدین کے مطابق وسطی غزہ میں نصیرات پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے میں ایک فلسطینی بچہ شہید اور متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں جبکہ فلسطینی طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ خان یونس کے مغرب میں اسرائیلی فضائی حملے میں ایک بچہ بھی شہید کر دیا گیا ہے۔

آج صبح اسرائیلی حملوں کے بعد کے چند حولناک مناظر

غزہ میں فلسطینی وزارت صحت نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں غزہ کے یورپی ہسپتال کے ڈائریکٹر یوسف العکاد اسرائیلی بمباری میں شہید ہونے والے چھ شیر خوار بچوں کی لاشوں کے ساتھ دنیا کو پیغام دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ "ان بچوں کو دیکھو۔ ان بچوں کو کون مار رہا ہے؟”آزاد دنیا، آپ ان مظلوموں اور مظلوموں کے خلاف ہونے والے قتل عام کے بارے میں کیوں خاموش ہو؟

حماس اور حزب اللہ کے حملوں کے نتیجے میں اسرائیل نے 2 ہزار اموات کی تصدیق کردی۔
ان حملوں میں زخمی ہونے والے اسرائیلیوں کی تعداد ساڑھے 4 ہزار سے زائد ہے۔دوسری جانب حزب اللہ نے اسرائیل کے ٹینکوں کو ہدف بنانے کی ویڈیو جاری کردی، فوج کے گلیلی ڈویژن اور شیبا فارمز کے علاقے میں تعینات فوجی نشانہ بنائے گئے۔حزب اللہ کا تین اسرائیلی فوجی ٹھکانوں پر حملہ، ٹینک اور جاسوسی کے آلات تباہ کردیے

ادھر اسرائیلی فوج نے لبنان میں حزب اللہ کی پوزیشن پر حملے کیے، اس کے علاوہ ایک اسرائیلی ڈرون کو بھی مبینہ طورپر تباہ کرنے کی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔
جنوبی لبنان کی جانب بھیجا گیا مبینہ اسرائیلی ڈرون بھی فضا میں تباہ کردیا گیا۔
لبنان کی مزاحمتی تنظیم نے اسرائیلی فوج کے جاسوسی آلات کو بھی نشانہ بنایا۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ

اورپھر پتھر اسرائیلی بندوقوں سے جیت گئے۔۔فلسطین میں ایماں کی حرارت زندہ ہے۔

پاکستانی فٹبال ٹیم نے جیت کا جشن فلسطینی پرچم لہرا کرمنایا۔سوشل میڈیاپر ویڈیو وائرل

مصر سے تعلق رکھنے والے معروف فٹ بالر محمد صالح نے کہاہے کہ” غزہ کی موجودہ صورتحال پر ایسے وقت میں بات کرنا آسان نہیں، اتنا تشدد اور اتنا دل دہلا دینے والا ظلم ہوا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں اضافہ ناقابل برداشت ہے۔ تمام جانیں مقدس ہیں، ان کی حفاظت ہونی چاہیے۔ قتل عام بند ہونا چاہیے۔ خاندانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کیا جا رہا ہے۔ جو بات اب واضح ہے وہ یہ ہے کہ فوری طور پر غزہ میں انسانی امداد کی اجازت دی جانی چاہیے۔وہاں کے لوگ مشکل حالات میں ہیں۔گزشتہ رات ہسپتال کے مناظر خوفناک تھے۔غزہ کے لوگوں کو فوری طور پر خوراک، پانی اور طبی سامان کی ضرورت ہے۔ میں عالمی رہنماؤں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ معصوم جانوں کے ایک اور قتل عام کو روکنے کے لیے اکٹھے ہوں۔ انسانیت کی فتح ہونی چاہیے”۔

پاکستان تحریک انصاف کی سابق رہنما ڈاکٹرشیریں مزاری نے کہا ہے کہ ایک اور جنگی جرم اور فلسطینیوں کی نسل کشی میں امریکہ برطانیہ اور دیگر اسرائیلی صہیونی ادارے شریک ہیں۔ او آئی سی کو اب اپنی مضبوط بیان بازی سے آگے بڑھ کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستانی کرکٹرز کا فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی
اسرائیل فوج کی غزہ میں معصوم شہریوں کی نسل کشی پر پاکستانی کرکٹرز نے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے منفرد انداز اپنایا۔غزہ پر تاریخ کے سب سے تباہ کن اور انسانیت سوز حملے نے ہر درد مند دل کو دہلا دیا ہے۔ تمام شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اسرائیلی فوج کی بدترین دہشت گردی اور بھیانک جنگی جرم کی شدید مذمت کررہے ہیں

تنطیم تعاون اسلامی ( او آئی سی ) نے اسرائیل کی غزہ کے اسپتال پر بمباری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے منظم ریاستی دہشتگردی اور جنگی جرم قرار دیا ہے۔او آئی سی کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق سعودی عرب کی دعوت پر او آئی سی کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں اسرائیل کی غزہ پر جارحیت کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
جدہ میں ہونے والے اجلاس میں اسرائیل کی غزہ کے اسپتال پر بمباری کی شدید مذمت کی گئی اور اسے منظم ریاستی دہشتگردی اور جنگی جرم قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ جنگی جرائم میں ملوث عناصر کو سزا ملنی چاہیے۔
اعلامیہ میں فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق کی حمایت، حق خود ارادیت اور فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کے عزم پر زور دیا گیا۔

فلسطین اسرائیل جنگ تیرھویں روز بھی جاری فلسطینی وزیر صحت نے غزہ میں حیران کن ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے کیونکہ اسرائیلی حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جس میں 3,300 سے زیادہ جانیں ضائع ہوئی ہیں، 13,000 زخمی ہوئے ہیں – سنگین انسانی بحران سامنے آ رہا ہے۔

خبر کی اپ ڈیٹ جاری رہے گی ہمارے ساتھ رہیں