غزہ (ای پی آئی)فلسطین اوراسرائیل کے درمیان جنگ کا پندرھویں روز غزہ پراسرائیلی بربریت سے معصوم بچوں کے جسم چھلنی ، شہداء کی تعداد 4,385 تک پہنچ گئی ، فلسطینی مجاہدین کےحوصلے چٹان کی طرح مضبوط بھرپور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ، حزب اللہ نے اسرائیلی بربریت کے خلاف بڑا قدم اٹھا لیا ہے. امریکی شہروں میں ہزاروں امریکیوں کا حکومت کی سخت مخالفت کے باوجود فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے لبنان کی سرحد کے قریب دو ’دہشت گرد سیلز‘ کو نشانہ بنایا.
بی بی سی رپورٹ

بھارت میں فلسطین کی حمایت میں ریلی۔۔

ایک اور پھول اسرائیلی بربریت کی بھینٹ چڑھ گیا۔

"ہم معصوم لوگوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھوتے نہیں دیکھ سکتے۔ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کا قاہرہ میں امن اجلاس میں ایک بیان

اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ کا کہنا ہے کہ
"لبنانی حزب اللہ نے لڑائی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی اسرائیل کو بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے”۔اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ ‘جنگ کے اگلے مرحلے بشمول زمینی کارروائیوں’ کی تیاری کر رہا ہے۔

معروف گلوکار عاطف اسلم نے غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کے لیے خطیر رقم عطیہ کر دی
عاطف اسلم نے غزہ کے مظلوموں کے لیے 15 ملین روپے کی امداد عطیہ کی ہے ۔فلاحی تنظیم الخدمت فاؤنڈیشن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ شیئر کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی اور اس مشکل گھڑی میں غزہ کے مسلمانوں کی فراخ دلی سے مدد کرنے پر عاطف اسلم کا شکریہ بھی ادا کیا۔

صحافیوں کی تحفظاتی کمیٹی کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک 21 صحافی مارے جا چکے ہیں جن میں 17 فلسطینی، 3 اسرائیلی اور 1 لبنانی صحافی شامل ہیں۔۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ایجنسی کی کمیونیکیشن ڈائریکٹر جولیٹ توما کا کہنا ہے کہ "غزہ میں ایندھن کا آنا بہت زیادہ ضروری ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ "یہ میں ہمارے اپنے آپریشنز کے لیے اہم ہے اور لوگوں کے گھروں میں پانی پہنچانے کے لیے بھی ایندھن اہم ہے۔”

غزہ میں سرکاری میڈیا کے دفتر کے مطابق اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے کم از کم 43 نامعلوم فلسطینیوں کی لاشوں کو اجتماعی قبر میں دفن کر دیا گیا ہے۔ میڈیا آفس کے سربراہ سلامہ معروف نے غیر ملکی جریدے کو بتایا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک یہ دوسرا موقع ہے کہ درجنوں نامعلوم فلسطینیوں کی تدفین کی گئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے ایک نمائندے کے مطابق ہسپتالوں کے صحنوں، کمروں اور ریفریجریٹرز میں لاشوں کے جمع ہونے سے غرہ کے محصور علاقوں کے رہائشیوں کو اپنے گھروں کے باغات میں اجتماعی قبریں کھودنے پر مجبور کیا ہے۔

شمالی غزہ کی پٹی میں انڈونیشیا کے ہسپتال کے ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ "اسرائیلی فورسز غزہ میں غیر معمولی ہتھیاروں کا استعمال کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ یہ پہلی بار ہے کہ ہم پورے جسم میں اس طرح کے زخم اور چوتھے درجے کی جلد کے جلنے کو دیکھ رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ جن زخمیوں کو ہسپتال میں لایا جاتا ہے انہیں بہت سی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ "ان زخموں کی وجہ سے اموات کی شرح 100 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
غزہ کے ڈاکٹروں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگ کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔

غزہ کے لیے اب بھی ایندھن نہیں ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟
اسرائیل کے چیف ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہاگری نے کہا ہے کہ غزہ کے لیے امدادی ترسیل میں ایندھن شامل نہیں ہوگا۔ غزہ کے لیے ایندھن کی فراہمی ایک بڑی تشویش ہے۔ پانی کی سپلائی پمپ کرنے اور ہسپتالوں جیسی اہم سہولیات کو چلانے کے لیے استعمال ہونے والے پاور جنریٹرز کے لیے ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے۔ رہائشیوں کو روایتی طور پر پانی تک رسائی کے لیے ٹینک بھرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایندھن کے بغیر، رہائشی پانی کی نقل و حمل یا اسے پمپ کرنے کے لیے درکار ٹرک نہیں چلا سکتے۔ اتوار کو غزہ کا آخری کام کرنے والا سمندری پانی صاف کرنے کا پلانٹ بھی ایندھن ختم ہونے کی وجہ سے بند ہوگیا۔ پانچ ہسپتال اس وقت مکمل طور پر سروس سے باہر ہیں جبکہ دیگر دو انتہائی کم ایندھن کی سپلائی پر چل رہے ہیں اور انہیں غزہ میں پہلے ہی صحت کے بڑے محکموں کو بند کرنا پڑا ہے۔ ایندھن کے بغیر، انکیوبیٹرز میں نوزائیدہ بچوں سمیت ہزاروں مریض فوری طور پر خطرے میں ہیں اور بہت سے مریض پہلے ہی زندگی اور موت کے درمیان کی لکیر سے گزر رہے ہیں جن میں گردے اور کینسر کے مریض شامل ہیں۔

اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان ڈینیئل ہاگری نے کہا ہے کہ غزہ میں داخل ہونے والی انسانی امداد محصور علاقے کے جنوبی حصے تک جائے گی لیکن انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ "ایندھن غزہ میں داخل نہیں ہوگا۔”

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے قاہرہ امن سربراہی اجلاس کے افتتاحی موقع پر اپنی تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ "انہوں نے امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ رفح کراسنگ کو اقوام متحدہ اور فلسطینی ہلال احمر کی نگرانی میں "مسلسل” چلانے پر اتفاق کیا ہے۔ السیسی نے کہا کہ مصر نے رفح کراسنگ کو کسی بھی لمحے بند نہیں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینیوں پر اسرائیلی بار بار کی بمباری نے انسانی ہمدردی کے اداروں کو غزہ تک پہنچنے سے روک دیا۔

قاہرہ سمٹ برائے امن کے لیے عالمی رہنما مصر کے دارالحکومت میں جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

اسرائیل ایک ایسی ریاست ہے جو برطانوی سامراج کی سازشوں کے نتیجے میں قائم ہوئی اس برطانوی سازش کی سب سے زیادہ مخالفت علامہ اقبال اور قائداعظم نے کی آج بھارتی حکومت اسرائیل کے ساتھ کھڑی ہے اور جو قائداعظم کو برطانیہ کا ایجنٹ کہتے تھے وہ آج اسرائیل سے دوستی کے حامی بن چکے ہیں۔

غزہ پر اسرائیلی جارحیت 15 ویں روز بھی جاری ہے، ہزاروں یمنی فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے دارالحکومت میں جمع ہیں اور لبیک یا غزہ کے نعرے بلند کر رہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سنڈی مکین کا کہنا ہے کہ "اگرچہ یہ اچھی بات ہے کہ 20 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوئے ہیں، لیکن یہ کافی نہیں ہے۔

کہاں ہے انسانیت؟ یہ کیسا ظلم ہے ؟رکن امریکی کانگریس الہان عمر اسرائیلی جارحیت پر برس پڑیں ،
دنیا کو غزہ میں ہونے والا ظلم کیوں نظر نہیں آرہا، یمن کا فلسطین سے اظہاریکجہتی ، لاکھوں کی ریلی ، فلسطین پرچم لہرائے ۔ ترکیے میں بھی فلسطین سے اظہار یکجہتی ، انقرہ اور استنبول میں احتجاج، مظاہرین نے اسرائیلی پرچم نذر آتش کیے نیتن یاہو کے پتلے جلائے ۔

جوبائیڈن نے جنگ میں اسرائیل کی حماس کے خلاف کامیابی امریکی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیدی
،یوکرین کی روس کے خلاف کامیابی بھی امریکی سلامتی کے لیے لازمی ، جوبائیڈن کے ولادی میر پیوٹن کو ظالم شخص کہنے پر روس کا جواب ، کریملن ترجمان نے کہا ایسی بیان بازی ریاستوں کے ذمہ دار رہنمائوں کےلیے نامناسب ہے

نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا فلسطینی صدر محمود عباس کو ٹیلی فون ،
شہری آبادی،اسپتالوں اور اہم عمارتوں پر بمباری کی بھرپور مذمت، نگران وزیراعظم نے اسرائیلی جارحیت کو قابل نفرت قرار دیا، عالمی برادری صورتحال بہتر کرنے کے لیے کردار اداکرے ۔تاکہ انصاف انسانیت کےطورپر بین الاقوامی قوانین کی پاسداری یقینی بنائے ۔ اقوام متحدہ معصوم شہریوں کا قتل عام روکے ، دونوں رہنمائوں کا اسرائیلی قابض فورس کی جانب سے غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کی ضرورت پر زور ، فلسطینی صدر محمود عباس نے موثرحمایت پر وزیراعظم پاکستان کا شکریہ اداکیا۔

حماس نے امریکی یرغمالی ماںبیٹی کو رہاکردیا،
اسرائیلی حکام کی تصدیق، دونوں خواتین کو معاہدے کے تحت انسانی بنیادوں پررہا کیا گیا۔ امریکی ماں بیٹی غز ہ سرحد پر اسرائیلی نمائندے کے حوالے، اقدام کا مقصد ثابت کرنا ہے کہ بائیڈن کے دعوے جھوٹے ہیں القسام بریگیڈ

غیر ملکی نیوز ایجنسی کی اطلاع کہ مطابق وسطی غزہ کے دیر البلاح میں اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 13 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایک ہی رہائشی عمارت میں پیش آیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے جنگی جرائم انتہا کو پہنچ گئے ۔
اسپتالوں ، اسکولوں، مساجد اور اقوام متحدہ کے ریلیف مراکز پر مسلسل بمباری، شہداکی تعداد 4ہزار سے زائد ، 13ہزار زخمی ،شہد امیں 1524بچے اور ایک ہزار خواتین بھی شامل ،اسرائیلی بمباری سے اسپتال اور عبادت گاہیں بھی غیر محفوظ، اسرائیل نے غزہ کے قدیم ترین گرجا گھر پر بھی بم برسا دئیے ۔ چرچ میں پناہ لینے والے 10فلسطینی شہید،

مصری ٹرک انسانی امدادی سامان کے ساتھ رفح میں مصری بارڈر سے غزہ میں داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ان ٹرکوں میں ادویات، خوراک اور پانی شامل ہیں۔

"امداد غزہ کے مکینوں کے لیے زندگی اور موت کے فرق کی نمائندگی کرتی ہے۔
رفح کراسنگ سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی تقریر

اسرائیلی فضائی حملے کے بعد ایک معصوم بچی ہسپتال میں زخمی حالت میں اپنی والدہ کو رو رو کر پکار رہی ہے "ماں کہاں ہو آپ ماں”

فلسطینی صحافی نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو کلپ شیئر کیا ہے جس میں غزہ میں اسرائیلی بمباری میں ایک خاتون کی بہن اور بچوں کی شہادت کے بعد خاتون کو سڑک پر گرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ خاتون نے اپنے شہید ہونے والے خاندان کے افراد پر روتے ہوئے اس حالت کو بیان کیا جس میں اسکو لاشیں ملی تھیں۔خاتون نے کہا کہ "ایک کے جسم کے اعضاء کٹے ہوئے تھے اور دوسرے کی آنتیں باہر نکل رہی تھیں۔ ہم اس پر صبر کرتے ہیں لیکن اس نقصان پر روتے بھی ہیں،ان کا کیا قصور تھا؟ انہوں نے انہیں مار ڈالا

غزہ میں بچے اسرائیلی فضائی حملے کے بعد خوراک تلاش کر رہے ہیں۔

حماس کے میڈیا آفس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امدادی قافلہ جو آج ممکنہ طور پر رفع بارڈر سے غزہ میں داخل ہوگا اس میں 20 ٹرک شامل ہیں جو ادویات، طبی سامان اور خوراک کی ایک محدود مقدار لے کر جا رہے ہیں۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے غزہ اور مصر کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ کو دوبارہ کھولنے پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ "زمین پر انسانی ہمدردی کے کارکنوں کو "قابل اعتماد اور پائیدار رسائی” فراہم کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ سنڈی میک کین نے ایکس پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا کہ "اس تنازعے کا عام شہریوں پر خوفناک اثر پڑ رہا ہے، خوراک چند دنوں میں ختم ہو جائے گی اور پانی، ادویات اور دیگر سامان خطرناک حد تک کم ہیں۔انہوں نے کہا کہ "ہمارے ٹرک سامان سے لدے ہوئے ہیں اور نصف ملین لوگوں کو کھانا دینے کا انتظار کر رہے ہیں لیکن ہم اس وقت غزہ تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "انسانیت پسندوں کو امداد حاصل کرنے کے قابل ہونے کی ضرورت ہے اور انہیں غزہ کے لوگوں میں تقسیم کرنے کے قابل ہونا چاہئے۔”مکین نے کہا کہ ایسا کرنے میں ناکامی کا مطلب ہے کہ "دنیا دیکھے گی اس وقت تک جب غزہ کے لوگ بھوکے مر رہے ہوں گے۔”

ٹائمز آف اسرائیل کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی قومی سلامتی کونسل نے مصر اور اردن میں اسرائیلیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ جلد از جلد وہاں سے نکل جائیں اور مراکش کے غیر ضروری سفر سے بھی گریز کریں۔

حماس کے سیاسی بیورو کے رکن محمد نازل نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ "اگر اسرائیلی فوج اپنی جارحیت بند کرتی ہے تو حماس ان کے شہریوں کو رہا کر دے گی۔

بی بی سی نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے عوام کو گمراہ کیا اور فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے احتجاج کو حماس کا حامی قرار دیا۔

"معصوم بچوں کے قاتلو یہاں سے دفع ہو جاؤ تم دہشت گرد ریاست کے نمائندے ہو تم غاصب ہو
اقوام متحدہ کے ایک ذیلی اجلاس میں کویت کے نمائندے نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے غزہ پر اسرائیلی بمباری کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی اور اسرائیلی نمائندے کو کھری کھری سنا دیں

برطانیہ میں قائم تحقیقی گروپ کا کہنا ہے کہ غزہ کے العہلی عرب ہسپتال میں ہونے والے دھماکے کے ابتدائی تجزیے میں اسرائیلی فوج کی جانب سے پیش کیے گئے واقعات کے ورژن پر "اہم شک” پیدا ہوا ہے۔ فرانزک آرکیٹیکچر نے ایکس پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ ریڈیل فریگمنٹیشن کا 3D تجزیہ اسرائیل کے اس دعوے سے میل نہیں کھاتا ہے کہ مغرب سے مشرق کا سفر کرنے والا ایک غلط فائر شدہ فلسطینی راکٹ میڈیکل کمپاؤنڈ سے ٹکرا سکتا ہے۔ "ٹکڑوں کے نمونے اس بات کی نشاندہی کر سکتے ہیں کہ پرکشیپی شمال مشرق سے آیا ہے اور یہ غزہ کا وہ علاقہ ہے جو اسرائیل کے زیر کنٹرول میں ہے۔
چینل 4 اور الجزیرہ کی سناد تصدیقی ٹیم سمیت میڈیا آؤٹ لیٹس نے بھی واقعے کی چھان بین کی ہے اور ان کاکہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی بیانات نے ایک کہانی بنانے کے لیے شواہد کی غلط تشریح کی ہے۔

اسرائیل غزہ سے قطع تعلقی کر دے گا: اسرائیلی وزیر دفاع
اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ میں اس کی فوجی مہم کا طویل مدتی مقصد علاقے سے تمام روابط منقطع کرنا ہے۔
اسرائیل کے وزیردفاع یوو گیلنٹ نے کہا ہے کہ جب ایک بار حماس کو شکست ہو جائے گی تو اسرائیل غزہ کی پٹی سے اپنی تمام ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہو جائے گا۔ ان کے مطابق اسرائیل غزہ کی پٹی کے تحفظ کا ذمہ دار بھی نہیں ہوگا۔
اس تنازع سے پہلے اسرائیل غزہ کی تمام توانائی کی ضروریات کا خیال رکھتا تھا اور اس پٹی کو ایندھن اور دیگر اشیا بھیجتا تھا۔ اسرائیل دیگر ممالک سے آنے والی اشیا کی مانیٹرنگ بھی کرتا تھا۔اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جو اسرائیل غزہ پر مسلسل بمباری کر رہا ہے اور مصر کے ساتھ رفح کراسنگ بھی کسی بھی طرح کی انسانی امداد بہم پہنچانے کے لیے بند کر رکھی ہے۔ وزیردفاع یوو گیلنٹ نے پارلیمانی کمیٹی کو بتایا کہ اسرائیل کی مہم کا پہلا حصہ حماس کے انفراسٹرکچر کو تباہ کرنا ہے۔ان کے مطابق اس کے بعد اسرائیلی افواج چھوٹے پیمانے پر فوجی آپریشن کے ذریعے حماس کے بچے کھچے مزاحمتی ٹھکانوں کا خاتمہ کرے گا۔اسرائیلی وزیر دفاع کے مطابق تیسرے مرحلے میں اسرائیل غزہ میں زندگی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جائے گا اور اسرائیلی شہریوں کے لیے نیا سکیورٹی پلان متعارف کرائے گا۔رپورٹ بی بی سی اردو

مشہور یہودی پروفیسر نارمن فنکلسٹین نے غزہ کے الاہلی ہسپتال پر اسرائیل کے حملے کو "سب سے زیادہ شدت اور ہولناک حملہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ "اسرائیل ہمیشہ ذمہ داری سے انکار کرتا ہے”۔

غزہ میں رات گئے اسرائیلی فضائی حملوں میں مجموعی طور پر 46 افراد شہید ہو گئے ہیں۔ جبالیہ میں المتووق خاندان پر اسرائیلی فضائی حملے میں 24 افراد شہید کر دیے گئے ہیں۔ جبالیہ میں الاجرامی خاندان پر فضائی حملے میں مزید 10 افراد شہید کردیے گئے ہیں۔ کھدر خاندان کے پانچ افراد شہید ہوئے ہیں جن میں چار بچے اور ایک خاتون شامل ہیں۔ وسطی غزہ میں دیر البلاح اور البریج پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی فضائی حملے میں مزید 7 افراد شہید ہو گئے ہیں۔

اسرائیل نے شمالی غزہ کی انٹرنیٹ سروس معطل کر دی۔ اسرائیل کوئی بڑا منصوبہ بنا رہا ہے…

فلسطینی خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی جانب سے صبح سویرے کیے گئے حملوں میں تقریباً 30 افراد شہید ہو گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے غزہ کے جنوبی شہر رفح میں متعدد رہائشی عمارتوں پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد شہید دیگر زخمی اور متعدد افراد ملبے تلے دب کر لاپتہ ہوگئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی کے شمال میں واقع جبالیہ قصبے میں بھی کم از کم 14 افراد شہید ہوئے ہیں۔

حماس اسرائیل کے مرکاوا ٹینک پر ٹینک شکن راکٹ گرانے کے لیے ا یگریکلچر ڈرونز کا استعمال کررہی ہے۔

فلسطین اسرائیل جنگ پندرھویں روز میں داخل
فلسطینی ریڈ کراس نے کہا ہے کہ اسرائیلی دھمکیوں کے بعد غزہ میں ہسپتال شدیدخطرے میں ہیں،،،حماس نے دو امریکی قیدی رہا کردیئے۔۔دی گارڈین کی رپورٹ

القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ کہا ہے کہ قطر کی کوششوں کے جواب میں ہم نے انسانی بنیادوں پر دو امریکی قیدیوں (ایک ماں اور بیٹی) کو رہا کیا۔ "ہم نے دکھایا کہ بائیڈن اور امریکہ نے ہمارے بارے میں جو کچھ کہا وہ سب جھوٹ تھا۔”

امریکی ریاست نیویارک کے شہری مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے سڑکوں پرآگئے

خبر کی اپ ڈیٹ جاری رہے گی ہمارے ساتھ رہیں