غزہ (ای پی آئی)فلسطین اسرائیل جنگ کا انیسواں‌ روزغزہ پراسرائیلی بربریت سے معصوم بچوں کے جسم چھلنی،حزب اللہ نے اسرائیلی بربریت کے خلاف بڑا قدم اٹھا لیا، فلسطینی مجاہدین کےحوصلے چٹان کی طرح مضبوط بھرپور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری

فلسطینی وزارت صحت نے کہا ہے کہ غزہ میں ہسپتالوں میں ہیلتھ کیئر کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے 48 گھنٹے بعد تیل ختم ہوجائے گا جس کی وجہ سے ہسپتالوں میں موجود جنریٹرز بھی بند ہو جائیں گے

فلسطین اسرائیل جنگ 19 ویں روز بھی جاری، غزہ میں انسانی جانوں کو خطرات لاحق، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے تیل، ادویات، طبی آلات سمیت دیگر اشیا کی فراہمی کا مطالبہ کر دیا.

اقوام متحدہ کی فلسطینی پناگزینوں کے حوالے سے قائم ایجنسی نے اپیل کی ہے کہ غزہ کو لائی جانے والی امداد بلاتعطل کی جائے کیونکہ دو ہفتے کی اسرائیلی بمباری سے غزہ میں انسانی بحران جنم لے چکا ہے، ڈیلی صباح کی خبر

مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر ہیبرون میں بدھ کی صبح ایک اسرائیلی چھاپے کے بعد کم از کم 11 فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ فلسطینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے البرج اور المجد سمیت متعدد دیہاتوں پر چھاپے مارے ہیں۔ اسرائیل نے 7 اکتوبر سے ہیبرون میں 400 سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے اور مقبوضہ مغربی کنارے سے 1300 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر ہیبرون میں بدھ کی صبح ایک اسرائیلی چھاپے کے بعد کم از کم 11 فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ فلسطینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے البرج اور المجد سمیت متعدد دیہاتوں پر چھاپے مارے ہیں۔ اسرائیل نے 7 اکتوبر سے ہیبرون میں 400 سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے اور مقبوضہ مغربی کنارے سے 1300 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

بدھ کی صبح غزہ پر اسرائیل کے تازہ ترین فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد شہیداور متعدد زخمی ہو گئے۔ غزہ میں وزارت داخلہ کے مطابق اسرائیلی حملے شمال میں جبالیہ اور تل الحوا کے رہائشی علاقوں، وسطی غزہ میں النصیرات پناہ گزین کیمپ اور جنوب میں خان یونس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی حصے میں بدھ کی صبح اسرائیلی فوج نے متعدد فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا ہے، جب کہ فلسطینی علاقے میں رات کی ہلاکت خیز کارروائی کے بعد چھاپے جاری ہیں۔ الجزیرہ عربی کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ٹویٹ ویڈیو پوسٹ کی گئی ہے اس میں دکھایا گیا ہے کہ بھاری ہتھیاروں سے لیس اسرائیلی اہلکار قلندیہ پناہ گزین کیمپ جو شمال میں رام اللہ اور جنوب میں مشرقی یروشلم کے درمیان واقع ہے وہاں سے فلسطینیوں کو ہتھکڑیاں باند کر گھسیٹتے لے جا رہے ہیں

فلسطینی وزارت خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے مستعفی ہونے کے مطالبے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’بلا اشتعال حملہ‘ قرار دیا ہے۔ اسرائیل کے اقوام متحدہ کے سفیر گیلاد اردن نے قبل ازیں صحافیوں کو بتایا: "گوٹیریس کی ایک تقریر جس میں اس نے کہا کہ غزہ میں "بین الاقوامی انسانی قانون کی واضح خلاف ورزیاں” ہوئی ہیں۔ اس بیان کے بعد سیکرٹری جنرل کو مستعفی ہو جانا چاہیے

فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر سے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شہادتوں کی تعداد 103 تک پہنچ گئی ہے۔ تازہ ترین شہادتوں میں 19 سالہ نوجوان بھی شامل ہے جسے شمال مغربی شہر قلقیلیہ میں ایک چھاپے کے بعد اسرائیلی فورسز نے گولی مار کر شہید کر دیا۔ اس سے قبل اسرائیلی فورسز نے شمالی شہر جنین میں بھی اسی طرح کی کارروائی کی تھی جس میں کم از کم تین فلسطینی نوجوان شہید ہوئے تھے۔ایک اور فلسطینی نوجوان، جس کی عمر 19 سال ہے، تلکرم پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی حملے کے دوران شدید زخمی ہونے کی وجہ سے دم توڑ گیا۔

غزہ میں درد کی چیخوں سے زیادہ دل دہلا دینے والے مناظر اور بمباری کی آوازیں

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس کا فلسطینیوں کی حمایت میں بیان،
غزہ میں بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ حماس کے حملے خلا میں نہیں ہوئے، فلسطینیوں کو 56 سال سے حبس زدہ قبضے کا شکار بنایا گیا ہے۔
فلسطین کی حمایت کرنے پر اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن نے احتجاجاً انتونیو گوتیریس سے ملاقات سے انکار کردیا۔

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل قتل و غارت کو روکنے، جنگ بندی کرنے اور شہریوں کی ہلاکتوں کو روکنے کے بجائے یک طرفہ نقطہ نظر سے غزہ کے بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے۔

اسرائیل کی اقوام متحدہ کو دھمکی:
اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر گیلاد اردان نے اسرائیلی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ "اسرائیل اقوام متحدہ کے اہلکاروں کو ویزا دینے سے انکار کر دے گا، اردان نے آرمی ریڈیو کو بتایا کہ ” گوٹیرس کے ریمارکس کی وجہ سے ہم اقوام متحدہ کے نمائندوں کو ویزا جاری کرنے سے انکار کر دیں گے۔ ہم نے پہلے ہی انڈر سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور مارٹن گریفتھس کو ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کو سبق سکھانے کا وقت آ گیا ہے۔

چار گھنٹے کی مسلسل کوشش کے بعد انس نامی بچے کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیا

فلسطین غزہ میں گھر ملبے کے ڈھیر ہو گئے لیکن اسرائیل ان بچوں کی مسکراہٹیں نہیں چھین سکا۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی چھاپوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی فورسز نے چھاپوں کے دوران 1,400 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ جینن پناہ گزین کیمپ میں ایک اسرائیلی ڈرون حملہ دیکھا گیا ہے، غزہ میں ہونے والے واقعات کو ہر کوئی دیکھ رہا ہے اور مقبوضہ مغربی کنارے کے لوگ بہت خوفزدہ ہیں کہ جو کچھ وہاں ہو رہا ہے وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی ہو سکتا ہے۔ مقبوضہ مغربی کنارے کے لوگ اب بہت زیادہ خوفزدہ ہیں اورانہیں امید ہے کہ غزہ جیسے حالات یہاں نہیں ہوں گے۔

غزہ پر رات گئے اسرائیلی فضائی حملوں میں مزید 80 فلسطینی شہید، مسجد کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے مزید 4 شہید

خان یونس میں اسرائیلی حملوں کے بعد کے مناظر، مکانات پر اسرائیلی حملوں کے مقام پر فلسطینی اپنے پیاروں کو تلاش کرتے نظر آرہے ہیں

غزہ،ملبے اور موت کے درمیان سے پیغام ملبے تلے دبا فلسطینی بھائی کا، مسلمانوں بالخصوص عربوں کو پیغام دے رہا ہے کہ "غزہ تمہارا انتظار کر رہا ہے”، اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے

غزہ کا عزم اللہ کی قسم! اگر ہم سب کچھ کھو دیں گے تو بھی اسرائیل سے سودا نہیں کریں گے۔
غزہ کے نوجوان کا عزم

المنار ٹی وی نے رپورٹ کیا ہے کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے حماس کے نائب رہنما صالح العروری اور اسلامی جہاد کے سربراہ زیاد النخالہ سے ملاقات کی ہے جس میں انہوں نے دیگر موضوعات کے علاوہ غزہ اور فلسطین میں ایک یقینی فتح تک پہنچنے کے لیے مزاحمتی محور کے اراکین کو مناسب اقدامات کے بارے میں بات چیت کی ہے۔

غزہ میں بھیجی جانے والی امداد ضروریات ،
سمندر میں ایک قطرے کے برابر ہے، امداد پابندیوں کے بغیر بھیجی جانی چاہیے۔ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس کا بیان

غیر ملکی خبر رساں ادارے نے رپورٹ کیا ہے کہ "غزہ میں تل الحوا میں ایک رہائشی عمارت اسرائیلی بمباری سے نو فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں جبکہ اسرائیل نے غزہ شہر کے مشرق میں جفا اسٹریٹ پر ایک مکان پر بھی بمباری کی ہے۔ غزہ شہر کے مغرب میں مزید ایک مکان پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں دس دیگر فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔

"فلسطینی بچہ،ہم رات کا کھانا کھا رہے تھے اور ہنس رہے تھے اور میزائل ہم پر گرا۔” ایک بچہ زندہ بچ جانے والا، غزہ کی پٹی کے جنوب میں خان یونس میں قبضے کی طرف سے ان کے گھر پر بمباری سے پہلے اپنے خاندان کے ساتھ اپنے آخری لمحات سنا رہا ہے۔

غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے عرب رہنماؤں کا اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں متفقہ پیغام

غزہ سے بلند ہوتی معصوم بچوں کی آہ و بکا، عالمی برادری کے جنگ بندی کے اقدامات پر سوالیہ نشان ،
کیا غزہ کے اسپتال میں انکیوبیٹر پر موجود بچوں کی جانیں بچ پائیں گی؟ایندھن نہ ملا تو آج غزہ کے اسپتال بند ہو جائیں گے۔ اسرائیل کا صاف انکار، ایندھن غزہ نہیں جانے دیں گے ۔حماس سے تیل مانگیں، ان کے پاس ذخیرہ ہے ۔ اسرائیل نے غزہ کی بجلی ، پانی تمام ضروریات روک رکھی ہیں۔ رفاہ سے امدادی سامان کے 20 میں 8 ٹرک ہی داخل ہو سکے ۔ اسرائیل کئی بار رفاہ بارڈر کو بھی نشانہ بنا چکا۔ غزہ پر اسرائیلی بمباری سے آج مزید 425 فلسطینی شہید ، شہید فلسطینیوں کی تعداد 5ہزار800 ہو گئی ۔ مغربی کنارے میں اسرائیل کا ڈرون حملہ ، 3 فلسطینی شہید ، متعدد زخمی گزشتہ روز 7اکتوبر سے جاری اسرائیلی جارحیت کا بدترین دن قرار24 گھنٹوں میں 704 فلسطینی شہید ہوئے۔

برطانوی حکومت کا اقوام متحدہ کے خلاف سخت بیان:
برطانوی حکومت کے وزیر رابرٹ جینرک نے اسکائی نیوز کو بتایا کہ "وہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے اس جائزے سے متفق نہیں ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی طرف سے "بین الاقوامی انسانی قانون کی واضح خلاف ورزیاں” کی گئی ہیں، بین الاقوامی قانون میں کسی قوم کے لیے اپنے دفاع کا واضح حق موجود ہے اور اسرائیل یہی کر رہا ہے۔

اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کررہا ہے ، اقوام متحدہ میں پاکستان کا فوری اور غیرمشروط جنگ بندی کا مطالبہ، پاکستان کے مستقل مندوب کا سلامتی کونسل میں خطاب ، اسرائیلی کارروائی خطرناک تنازع بن سکتی ہے ۔ ذمہ دار وہی ہیں جو اس تنازع کو بڑھاوا دے رہے ہیں، ملکہ رانیہ نے انٹرویو میں کہا مغربی ممالک فلسطینیوں کے قتل میں شریک جرم ہیں ۔ حماس کو ختم کر بھی دیا تومزاحمت جاری رہے گی۔

تجزیہ کاروں نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو محض غزہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کی سزا دے رہا ہے۔ روٹگرز یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس اور مشرق وسطیٰ کے مطالعہ کے پروفیسر عبدلحمید صیام کا کہنا ہے کہ "یہ فلسطینی عوام کے خلاف جنگ چھیڑنے کا صرف ایک بہانہ ہے، چاہے وہ غزہ میں ہو، مغربی کنارے میں ہو یا مشرقی یروشلم میں ہو” ان کا مزید کہنا ہے کہ "اسرائیلی مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو یہ پیغام بھیج رہے ہیں کہ اگر آپ غزہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں تو آپ کو اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔ انہوں نے بتایا اسرائیل بدلہ لینے جا رہا ہے، اسرائیل اس جنگ میں ہر فلسطینی کو فلسطینی کاز کے ساتھ وفادار رہنے کی سزا دینا چاہتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں تنازع: جانوں کے نقصان، معاشی سرگرمیوں میں کمی پر تشویش ہے، آئی ایم ایف
عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے اسرائیل-حماس تنازع میں جانوں کے نقصان اور معاشی سرگرمیوں میں کمی اور تباہی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز ’ کے مطابق سریہ کاری کانفرنس میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب معاشی نمو سست، شرح سود بُلند اور قرضوں اور سود کی ادائیگی کی لاگت زیادہ ہے، جس کی وجہ کورونا وبا اور جنگ ہے۔
خبرڈان نیوز

غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو اپ ڈیٹس دیتے ہوئے بتایا ہے کہ "ہسپتالوں میں 7000 بیمار اور زخمی فلسطینی موت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ کے ہسپتال بے گھر ہونے والوں کے لیے پناہ گاہوں میں تبدیل ہو چکے ہیں جبکہ طبی ماہرین اور طبی اہلکاروں نے ایندھن کا فوری مطالبہ کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ہسپتال کو چلانے کے لیے ایندھن نہیں بچا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ غزہ میں ہسپتال کھلے ہیں لیکن وہ کوئی خدمات فراہم کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ ان کے پاس موجود وسائل ختم ہو چکے ہیں۔

ریٹائرڈ امریکی فوج کے کرنل ڈگلس میکگریگر نے کہا ہے کہ "امریکی اسپیشل فورسز قیدیوں کو بچانے کے لیے غزہ میں داخل ہوئیں اور انہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔”

اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے(یونیسیف) نے غزہ میں بچوں کی ہلاکتوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "7 اکتوبر سے اسرائیلی فضائی حملوں کی وجہ سے کم از کم 2,360 نابالغ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں”، یونیسیف کے علاقائی ڈائریکٹر ایڈیل کھودر نے کہا کہ "غزہ کی پٹی کی صورتحال ہمارے اجتماعی ضمیر پر بڑھتا ہوا داغ ہے، بچوں کی موت اور زخمیوں کی شرح حیران کن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ، اس سے بھی زیادہ خوفناک حقیقت یہ ہے کہ جب تک کشیدگی کو کم نہیں کیا جاتا اور تب تک خوراک، پانی، طبی سامان اور ایندھن سمیت غزہ میں انسانی امداد کی اجازت نہیں دی جاتی تو روزانہ اموات کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

آرمی چیف سے پاکستان میں فلسطینی سفیر احمد جواد ربیع کی ملاقات،آرمی چیف کا غزہ میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کااظہار، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینیوں کے قتل عام کی سخت مذمت، شہری آبادی، اسکولوں یونیورسٹیوں پر حملے جنگی جرم ہیں۔ فوری جنگ بندی سمیت غزہ کے لیے راہداری کھولی جائے ۔ تشدد کی لہر ریاستی سرپرستی میں مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کا نتیجہ ہے ۔ اس جنگ کو دہشت گردی سے جوڑنا نادانی ہوگی، عالمی برادری انسانی المیے کو جلد ازجلد ختم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے ۔

غزہ شہر کے الشفا ہسپتال کی تصویر جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں متعدد فلسطینی بچے زخمی ہوئے ہیں

ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیڈن کا کہنا ہے کہ "دنیا کو غزہ پر اسرائیل کی جنگ کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، اسرائیل محاصرہ زدہ علاقوں میں شہریوں کو نشانہ بنارہا ہے۔ فیڈن نے قطر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ”اسرائیل ہسپتالوں اور عبادت گاہوں میں بھی شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ہر ذی شعور انسان کو اس ظلم کے خاتمے کے لیے کام کرنا چاہیے۔ ہمیں مل کر اور اتحاد کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ فیڈن نے مزید کہا "اسرائیلی قابض افواج جو کچھ کر رہی ہیں وہ غزہ کے تمام باشندوں کے خلاف ایک اجتماعی سزا ہے۔ غزہ والوں کو ان کے وطن سے نہیں اکھاڑ پھینکا جا سکتا۔

ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیڈن کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے تنازعے کو حتمی طور پر حل کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ "ہم تاریخ کے ایک اہم موڑ پر ہیں، یا تو ہم دیرپا امن تک پہنچ جائیں گے یا پھر عالمی جنگ چھڑ جائے گی۔ ہم تمام فریقین، علاقائی اور بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز سے استدلال کی آواز سننے کا مطالبہ کرتے ہیں اور جو لوگ اسرائیل کو اپنے جرائم جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں وہ بھی اس جرم کے ذمہ دار ہیں۔ اگر ہم نے تیزی سے کام نہ کیا تو ہمارے آنے والے دن تاریکی دن ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اسرائیل کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اسے تشدد کے ساتھ امن اور سلامتی حاصل نہیں ہو سکتی، آج کی جیت مستقبل میں شکست کا باعث بن سکتی ہے۔ فیڈن نے کہا کہ اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

روسی وزیر دفاع شوئیگو نے دعویٰ کیا ہے کہ
"روسی فوج نے طیارہ شکن میزائل سسٹم کی بدولت 5 دنوں میں 24 یوکرائنی طیاروں کو مار گرایا”۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازعہ پر جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بات کر تے ہو ئے کہا ہے کہ …. ” پہلے دن سے ہم غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ غزہ کی بمباری میں بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں. دنیا نے ثابت کر دیا کہ روس اور اسرائیل کے لیے الگ الگ قوانین ہیں، روس نے یوکرین کے ساتھ جو کیا وہ جنگی جرم تھا، پھر اسرائیل غزہ کے ساتھ جو کر رہا ہے وہ کس طرح دررست ہو سکتا ہے۔
دونوں چیزیں درست نہیں ہو سکتیں۔ اب فیصلہ دنیا کو کرنا ہو گا۔ کیا صحیح ہے…”

فلسطینی بچے کی لاش کو ملبے تلے سے نکالا جا رہا ہے

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے اسرائیل کو دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ

"میں اسرائیل اور دنیا کو یہاں سے واضع کہہ ہوں۔ اے اسرائیل، آپ ایک تنظیم کی طرح ہو سکتے ہیں، کیونکہ مغرب آپ کا بہت مقروض ہو سکتا ہے، لیکن ترکیہ آپ کا ذرا بھر مقروض نہیں ہے”۔ "حماس دہشت گرد تنظیم نہیں ہے بلکہ آزادی اور مجاہدین کا ایک گروپ ہے جو اپنی سرزمین اور شہریوں کی حفاظت کے لیے لڑ رہا ہے

قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے دوحہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "غزہ میں ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد یوکرین میں ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد سے زیادہ ہے، مگر جو ردعمل یوکرین حملے پر دنیا نے دیا وہ غزہ پر نہیں دیکھا گیا۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ کے 35 میں سے 12 ہسپتال اور 72 میں سے 46 صحت کے مراکز اسرائیلی حملوں سے ہونے والے نقصان یا ایندھن کی کمی کی وجہ سے بند ہو چکے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ "اسرائیل کی بمباری کی مہم نے پورے غزہ کو تباہ کر دیا ہے اور حالات زندگی تباہی کی طرف لے آئے ہیں جبکہ غزہ کی وزارت صحت نے منگل کے دن خبردار کیا تھا کہ ایندھن کی قلت کی وجہ سے ہسپتال کے جنریٹر اگلے 48 گھنٹوں کے اندر کام کرنا بند کر دیں گے کیونکہ اسرائیل کی "مکمل ناکہ بندی” ہزاروں زخمیوں کے ساتھ زندگی بچانے والی سہولیات کو تباہ کر رہی ہے۔

الاقصیٰ ٹی وی کے فلسطینی صحافی سعید الحلبی کو شمالی غزہ کی پٹی کے جبالیہ کیمپ میں ان کے گھر پر اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں شہید کر دیا گیا ہے۔ 7 اکتوبر سے اب تک شہید ہونے والے فلسطینی صحافیوں کی تعداد 21 ہو گئی ہے۔

بھارت میں اسرائیل کی حمایت میں ریلیوں کی اجازت لیکن فلسطینی یکجہتی کی ریلیوں پر کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے اور فلسطینی حامی مظاہرین کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔

آپ کی انسانیت کہاں گئی؟ لوگوں کے لیے ہمدردی کہاں گئی؟ مسلم امریکی رکن کانگرس الہان عمر نے غزہ کی صورتحال پر صدر بائیڈن کو آئینہ دکھا دیا امریکی رہنماں کو عوامی سطح پر تنقید کا سامنا ہیلری کلنٹن کو مبہاحثے کے دوران نوجوانوں نے کھری کھری سنا دی ادھر اردن کی ملکہ رانی کی مغربی میڈیا کی تعصب پر مبنی کوریج پر شدید تنقید بولی حیرانی ہے میڈیا کا بیانیہ ہمیشہ اسرائیل کی طرف کیوں جھکایا جاتا ہے اسرائیل کا یہ کیسا دفاع ہے جس میں بچوں اور عورتوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے ۔۔۔

فلسطین میں عالمی ادارہ صحت نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 7 اکتوبر سے انہوں نے مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں صحت کے مراکز پر ہونے والے 171 حملوں کو دستاویزی شکل دی ہے۔ان کا دعویٰ ہے کہ 493 افراد صحت مراکز پر حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں جن میں ڈیوٹی پر موجود 16 ہیلتھ ورکرز بھی شامل ہیں۔

عرب اور مسلم ممالک کے سفیر روس کے دارالحکومت میں اسرائیل کے حملوں کے خلاف فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جمع ہوئے۔ غیر ملکی جریدے کے صحافی یولیا شاپووالووا نے رپورٹ کیا ہے کہ "تمام سفیر غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے مہلک تشدد کی مذمت کے لیے ماسکو میں فلسطینی مشن کے باہر جمع ہوئے ہیں، شرکت کرنے والوں میں عرب لیگ، شام اور بحرین کے سفیر بھی شامل تھے۔ شاپووالوفا نے کہا کہ "انہوں نے تمام مظالم کا الزام اسرائیل کو ٹھہراہا ہے۔”

اسرائیلی حملوں میں شہادتوں کے خدشات غزہ میں والدین بچوں کو نشانیاں باندھنے لگے
خاندان ایک ساتھ رہنے کی بجائے الگ الگ مقامات پر رہنے پر مجبور بچی کا کہنا ہے کہ آدھاخاندان خان یونس اور باقی غزہ میں رہتا ہے شہید ہو گئے تو ماں دھاگے سے ہمیں پہچان لے گی۔۔۔

غزہ میں بچوں کے قتل عام پریونیسیف ڈائریکٹر نےفوری جنگ بندی اور امداد کی ترسیل کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو قتل کرنا ہسپتالوں اور سکولوں کو نشانہ بنانا اور انسانی امداد کو روکنا عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔۔۔

"میرے سارے بچے شہید ہو چکے ہیں۔”

اسرائیل اور حماس سمیت یوکرین اور روس کی جنگوں کے باعث انسانیت ممکنہ تیسری جنگ عظیم کے قریب پہنچ گئی ہے۔ایلون مسک

جرمنی اور فرانس میں حکام کا فلسطینی حامی مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن جاری،
جو تمام تر مشکلات کے باوجود غزہ پر اسرائیلی بمباری کی وحشیانہ مہم کے خلاف آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔

غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں شہید ہونے والوں کی تعداد 6,546 تک پہنچ گئی ہے جن میں 2,704 بچے، 1,584 خواتین شامل ہیں، جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد 17,439 سے تجاوز کر گئی ہے۔فلسطینی وزارت صحت

غزہ پر اسرائيل کی بمباری سے عمارتوں کی تباہی کے مناظر ۔۔۔۔

ایران کے ڈپٹی کمانڈر انچیف علی فدوی نے دعویٰ کیا ہے کہ
” عسکری شعبہ میں ہمارے پاس ایسی ٹیکنالوجیز ہیں جن کے بارے میں کوئی نہیں جانتا، اور جب ہم ان کا استعمال کریں گے تو امریکیوں کو ان کے بارے میں معلوم ہو گا۔”

"اے اللہ، ہمیں ان کے خلاف اپنی طاقت دکھائیں۔”
شمالی غزہ کے جبالیہ کیمپ پر اسرائیلی بمباری سے زخمی ہونے والی کی صدا

بڑی خبر
ترکیہ نے اسرائیل کے ساتھ، توانائی کے شعبے میں تمام معاہدے ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ ترک وزیر توانائی بارائرکتار نے تل ابیب کا شیڈول شدہ دورہ معطل کر دیا۔ بلومبرگ کی رپورٹ