خبرنمبر 1

صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس میں نے نہیں بھجوایا تھا ،ریفرنس وزیراعظم آفس سے آیا تھا، بعد میں وزیراعظم نے کہہ دیا تھا وہ ریفرنس دینا ہی نہیں چاہتے تھے ، چیئرمین پی ٹی آئی سے پوچھیں انہیں کس نے کہا تھا، صدر مملکت کا کیپٹل ٹاک میں خصوصی انٹرویو، کہا اگر وہ ایوان صدر میں ہوتے اور حج پر نہ گئے ہوتے تو الیکشن ایکٹ 2017ترمیم پر دستخط نہ کرتا، یقین نہیں جنوری کے آخری ہفتے میں الیکشن ہوں گے، ایک سوال کے جواب میں کہا چیئرمین تحریک انصاف اب بھی ان کے لیڈر ہیں ۔

خبرنمبر2

چیئرمین پی ٹی آئی کی 190ملین پاؤنڈز اور توشہ خانہ نیب کیسز میں عدم حاضری پر خارج ضمانتیں بحال کرنے کا کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار بینچ سے الگ ہو گئے ۔ دوران سماعت استفسار کیا ایک شخص گرفتار ہے تو نیب اپنے مقدمات میں بھی اس سے تفتیش کیوں نہیں کررہا؟کیا چیئرمین پی ٹی آئی ان کیسز میں گرفتار تصور نہیں ہوں گے؟لطیف کھوسہ نے کہا نیب کا اپنا طریقہ کار ہے انہیں ان کیسز میں گرفتار نہیں کیا گیا۔ دوسرے بینچ نے 6مقدمات میں ضمانت درخواست بحال کیں ، جس بینچ نے آرڈر پاس کیا ان کا اس سے اختلاف ہے ، وہ یہ کیس نہیں سن رہے ۔ جس بینچ نے فیصلہ دیا وہی سنے کا ۔ ان کا موقف تھا کہ جو شخص ایک مقدمہ میں گرفتار ہے تو دیگر مقدمات میں بھی گرفتار تصور کیا جائے گا۔ جسٹس بابر ستار کی جگہ جسٹس طارق محمود جہانگیری آئندہ سماعت پر جسٹس عامر فاروق کے بینچ کا حصہ ہوں گے ۔ مزید سماعت 6نومبر کو ہوگی۔

خبرنمبر3

ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ حماس دہشت گرد تنظیم نہیں ، آزادی کی جنگ لڑرہی ہے ۔ اسرائیلی ریاست سے کوئی مسئلہ نہیں، فلسطینیوں پر اسرائیلی پالیسیوں سے پریشانی ہے ، ترک صدر کا پارلیمنٹ میں پارٹی اراکین سے خطاب ، کہا اسرائیل کو غزہ پر حملے بند کرنے چاہیے ، اسرائیلی زمین پر بھی حملے رکنے چاہییں ۔ بین الاقوامی اسرائیل فلسطین امن کانفرنس کی تجویز، فلسطینیوں کو دوریاستی حل کیلئے متحد ہونا چاہیے ،

خبرنمبر4

پاکستان میں 3بڑی کار کمپنیوں کے مینوفیکچرنگ لائسنس معطل کر دئیے گئے ، وزارت صنعت و پیداوار کے مطابق ان کمپنیوں نے گاڑیوں کی مقامی سطح پر پیداوار بڑھائی نہ ہی 2فیصد ایکسپورٹ کی شرط پوری کی معاہدے کے مطابق یہ کار بنانے والی کمپنیاں گاڑیوں کے آلاات اور سپیئر پارٹس مقامی سطح پر تیار کرنے کی پابند ہیں ، اور ان پر لازم ہے کہ اپنی پراڈکٹ کا 2فیصد حصہ ایکسپورٹ بھی کریں ۔

خبرنمبر5

عالمی بینک نے زراعت پر ٹیکس لگانے کی کوئی تجویز نہیں دی، کوئی مراسلہ نہیں بھیجا ، ٹیکس مراعات ختم کرنے کا نہیں کہا، قائمہ کمیٹی اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر کی بریفنگ، فاروق نائیک نے کہا بڑے صنعتکاروں کو سبسڈی دی جاتی ہے غریب کو کوئی سبسڈی نہیں ملتی، ٹیکس کا سارا بوجھ ٹیکس دہندہ پر ڈالا جارہا ہے ، اضافی ٹیکس دے کر تنگ آ رہے ہیں۔

خبرنمبر6

نادرا کو 12ہزار500 افغانوں کے شناختی کارڈ منسوخ کرنے کی ہدایت، جعلی پاسپورٹ سعودی عرب میں پکڑے گئے تھے ، ایف آئی اے ذرائع کے مطابق کوئٹہ پشاور سے ساڑھے پانچ ہزار شناختی کارڈ افغان باشندوں کو جاری کیے گئے ، 593افغانوں کو پاکستان سے شناختی کارڈ جاری ہوئے ۔ سعودی عرب میں پکڑے گئے افغان باشندوں کے شناختی کارڈ منسوخی کے بعد ضبط ہوں گے۔

خبرنمبر7

پاکستان سے 2ہزار افغانوں کی برطانیہ روانگی 26اکتوبر سے ہوئی سی اے اے کے مطابق پناہ گزینوں کا انخلا12پروازوں کے ذریعے ہوگا، اپروازوں کا آپریشن دسمبر تک جاری رہے گا، پہلی پرواز 200افغان پناہ گزینوں کو لے کر روانہ ہو گی ۔

خبرنمبر8

حساس معلومات تک رسائی کیلئےنئی سوشل انجینئرنگ تکنیک کاانکشاف، وفاقی حکومت کی صوبوں ، وزارتوں ، ڈویژنز کو ایڈوائزری جاری ، واٹس ایپ، ٹیلیگرام یا کسی بھی موبائل فون ایپ سے سرکاری دستاویزات شیئر نہ کرنے کی ہدایت، ذاتی اور سرکاری استعمال کیلئے الگ الگ ای میل آئی ڈیز کے استعمال کی تجویز، ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ اندرون و بیرون ملک مقیم سرکاری افسران کی ای میلز کو ٹارگٹ کیاجارہا ہے ۔ جعلی ای میلز کو حقیقی رنگ دینے کیلئے سرکاری عہدیداروں کا نام اور عہدہ درج ہوتا ہے ۔ غیر محفوظ انٹرنیٹ سے حساس معلومات شیئر کرنے سے گریز کیا جائے ۔

خبرنمبر9

سندھ کے نگران وزیراعلیٰ جسٹس مقبول باقر کی سکھر اور گڈو بیراجوں کی مرمت کی تھرڈ پارٹی آڈٹ کا حکم، سکھر بیراج کے گیٹس جلد بدلیں گے ، خیر پور میں گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کا دورہ، مقبول باقر نے خیر پور میڈیکل کالج اسپتال کا بھی دورہ کیا۔ ایمرجنسی میں سہولتیں نہ ہونے ، صفائی کی صورتحال پر برہم، ایم ایس کو ٹرانسفر، ڈائریکٹر فنانس کو معطل کرنے کی ہدایت،

خبرنمبر10

جے یو آئی ف کا امن مار چ قمبر سے وگن اور نصیر آباد روانہ ، امن مارچ کے شرکا سندھ کے مختلف اضلاع سے ہوتے ہوئے 2نومبر کو کراچی پہنچیں گے۔

خبرنمبر11

آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی اور کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ز کی نگران وزیراعظم کے بیان کے پرنٹ میڈیا سے متعلق بیان پر مایوسی اور تشویش کااظہار، اے پی این ایس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پرنٹ میڈیا حکومت سے کوئی گرانٹ یا سبسڈی نہیں مانگ رہا، اخبارات حکومت کے اشتہارات سبسڈائز ریٹ پر شائع کرتے ہیں ، سرکاری اشتہارات کے نرخ خاصے کم اور کمرشل ریٹ کے ایک چوتھائی ہیں، سابق وزیراعظم شہباز شریف نے طویل عرصے سے زیر التوا سرکاری اشتہارات کے نرخ بڑھانے کا اعلان کیا تھا اس اعلان پر اب تک عمل نہیں کیا گیا ہے ، اگر نگران وزیراعظم سمجھتے ہیں اخبارات کا ماڈل درست نہیں تو سبسڈائز نرخ واپس لے لیتے ہیں ، وفاقی حکومت پر اخبارات کے 2ارب روپے واجب الادا ہیں ، سی پی این ای کی طرف سے کہا گیا کبھی کسی حکومت یا وزیراعظم سے ذاتی وسائل سے میڈیا کو اشتہار دینے کا مطالبہ نہیں کیا، ہر حکومت اور ادارہ اپنی پبلسٹی کے لیے میڈیا کا مرہون منت ہے ، اشتہارات کا پیسا کسی حکمران کا نہیں عوام کے ٹیکس کا پیسہ منصفانہ تقسیم ہونا چاہیے ،