غزہ (ای پی آئی)فلسطین اسرائیل جنگ کا 24 واں‌ روزغزہ پراسرائیلی بربریت سے معصوم بچوں کے جسم چھلنی،اسرائیل غزہ کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر تل گیا نسل کشی پر پردہ ڈالنے کے لیے غزہ کا پوری دنیا سے رابطہ کاٹ دیا وحشیانہ بمباری میں اس بارہسپتال نشانہ القدس ہسپتال کی ملحقہ عمارتیں اور راستے تباہ کر دیے بارود اور دھوئیں سے زخمیوں اور پناہ لینے والوں کے لیے سانس لینا بھی محال بچوں اور خواتین کی حالت غیر تازہ فضائی حملوں میں مزید درجنوں فلسطینی شہید شہدا کی تعداد 8 ہزار سے بڑھ گئی 22 ہزار فلسطینی زخمی میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ میں شہید بچوں کی تعداد چار سال میں دنیا بھر میں مرنے والے بچوں سے زیادہ ہو گئی مسلسل بمباری سے غزہ کھنڈرات میں تبدیل اب تک 32 ہزار عمارتیں اور دو لاکھ 20 ہزار گھر ملیا میٹ 203 سکول درجنوں سرکاری دفاتر 47 مساجد اور سات گرجا گھر بھی تباہی کی داستان سنانے لگے۔۔۔

غزہ حکومت کے مطابق غزہ میں جاری اسرائیلی فضائی حملوں میں 47 مساجد اور 7 گرجا گھر تباہ ہو گئے ہیں جبکہ غزہ کے میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین ہفتوں میں 203 اسکول اور 80 سرکاری دفاتر کو بھی تباہ کیا گیا ہے، حکومتی دفتر کے ڈائریکٹر سلامہ معروف نے ٖغیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ "بڑے پیمانے پر اسرائیلی بمباری سے 220,000 مکانات کو نقصان پہنچا ہے اور 32,000 عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں ہیں، اس سے قبل غزہ میں حکومت کے میڈیا آفس نے اطلاع دی تھی کہ اسرائیلی فوج نے ایک آرتھوڈوکس ثقافتی مرکز اور ایک اسکول پر بمباری کرنے کی دھمکی دی ہے جہاں 1500 سے زیادہ بے گھر لوگ پناہ لے رہے ہیں۔

حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ آج چوبیسویں دن میں داخل، غزہ میں 7 اکتوبر سے شروع ہونے والے حملوں میں اب تک 8000 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں جن میں 3000 سے زائد بچے اور 2000 سے زیادہ خواتین شامل ہیں جبکہ 20,000 دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔

جنین شہر پر اسرائیلی قابض افواج کے ہاتھوں تباہی کے اثرات کے مناظر

جامعہ الازہر غزہ شہر کے مرکز کے قریب ایک عوامی یونیورسٹی ہے جہاں اسرائیلی فضائیہ نے شدید بمباری کی ہے

جینین میں حالات مزید کشیدہ:
فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے اب تک چار افراد شہید اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں جبکہ چھاپے کے نتیجے میں جینین پناہ گزین کیمپ میں بڑے پیمانے پر تباہی کی اطلاعات بھی ہیں، فلسطینی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے کارروائی میں ڈرون کا استعمال کیا ہے

شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق اسرائیل نے فضائی حملوں میں شام کے جنوب مغربی شہر درعا میں فوج کی دو چوکیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیل میں برطانیہ کے سفیر سائمن والٹرز کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو غزہ میں حماس کے خلاف جنگ ​​جیتنے کے لیے اسرائیل کی ضرورت ہے، سائمن نے آرمی ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ "حماس کو غزہ کی پٹی پر کنٹرول میں نہیں رہنا چاہیے اور اسرائیل کو جنگی قوانین کی پابندی کرنی چاہیے،

امریکی نائب صدر کمالا حارث کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کا اسرائیل یا محصور غزہ کی پٹی میں امریکی فوجی بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، سی بی ایس کو ایک انٹرویو دیتے کمالا حارث نے کہا کہ اسرائیل کو شہریوں کا تحفظ کرنا چائیے، کمالا حارث کا مزید کا کہنا ہے کہ زیادہ تر اندازوں کے مطابق کم از کم 1,400 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں اور اسرائیل بغیر کسی سوال کے اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے۔

مقبوضہ مغربی کنارے کے قصبے سلواد میں مقامی شہریوں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی ویڈیو شائع، عینی شاہدین نے پیر کی صبح رام اللہ کے شمال مشرق میں واقع قصبے میں بھی تصادم کی ویڈیوز شائع کیں ہیں، ویڈیوز کی تصدیق الجزیرہ کے فیکٹ چیکنگ اور تصدیقی یونٹ سناد نے کی ہے

فلسطینی اسلامی جہاد گروپ کے مسلح ونگ القدس بریگیڈ نے اعلان کیا ہے کہ لبنان کی سرحد کے قریب اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپ میں ان کے دو جنگجو شہید ہوگئے ہیں، اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگجو اتوار کی شام شمالی اسرائیل کے علاقے ہنیتا میں آپریشن کرتے ہوئے شہید کیے گئے ہیں۔

آج کی صبح غزہ میں ہونے والے اسرائیلی حملوں کی چند تصاویر

اسرائیلی جارحیت ، غزہ معصوم بچوں کا مقتل بن گیا، 7اکتوبر سے غزہ میں اب تک 3ہزار 195بچے شہید، 1ہزار لاپتا بچوں کے ملبے میں دبے ہونے کا خدشہ، بچوں کے حقوق کی عالمی تنظیم سیودی چلڈرن کی پکار، غزہ میں شہید بچوں کی تعداد 4سال میں دنیا میں مر نے والے بچوں سے زیادہ ہے ۔ غزہ کے نہتے فلسطینیوں پر اسرائیل کے حملے جاری، فلسطینی شہدا کی تعداد 8ہزار سے تجاوز کر گئی ، مغربی کنارے میں اسرائیل کا ڈرون حملہ، قابض اسرائیلی فورسز جنین کیمپ میں گھس گئیں،دھماکے اور فائرنگ، فلسطینی گروپوں کی مزاحمت، غزہ میں القدس اسپتال خالی کرانے کےلیے اسپتال کے نزدیک بمباری، اسپتال کے اندرونی حصے بھی متاثر، بارود اوردھوئیں سے لوگ گھٹن کا شکار، عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسپتال خالی کرنا پڑا تو کئی قیمتی جانیں چلی جائیں گی۔ عالمی برادری جنگ بندی میں اب تک ناکام، یو اے ای کی درخواست پر سلامتی کونسل کا اجلاس آج ہوگا۔

سبحانی الطفیلی، لبنانی حزب اللہ کے سابق سیکرٹری جنرل کے ایران کے صدر خامنہ ای سے سوالات:
خامنہ ای، لبنان میں اسلحہ کس کے لیے ذخیرہ کیا؟ تم اس وقت غزہ میں کہاں ہو؟ خامنہ ای، تم شیطان ہو، تم مسلمانوں کے قاتل ہو۔ تم امریکہ کے نوکر ہو، تم نے امریکہ کے ساتھ شراکت کی اور امت محمدیہ کو ذبح کیا۔ خامنہ ای، تم مسلمان بچوں کے قاتل ہو، کربلا اور غزہ کے بچوں کے قاتل ہو۔

دنیا اسرائیلی مظالم پر سیخ پا، امریکا کی ہٹ دھرمی جاری، اسرائیل کو اپنے شہریوں کی حفاظت کا پورا حق ہے ، نائب صدر کمیلا ہیرس کا بیان ، کہا جنگ کے دوران انسانی حقوق کا خیال رکھا جانا چاہیے ، اسرائیل اور حماس کی لڑائی میں امریکا کا فوج بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ،

فلسطینی ہلال احمر نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں غزہ کے علاقے تل الحوا جہاں القدس ہسپتال واقع ہے ، شدید اسرائیلی فضائی حملوں کو دکھایا گیا ہے

دل دہلا دینے والا منظر:
اسرائیلی قابض ٹینک غزہ کی صلاح الدین اسٹریٹ پر پہنچنے کے بعد سڑک پر موجود شہریوں کی گاڑیوں کو براہ راست ٹٰینک کے گولوں سے نشانہ بنا رہے ہیں۔

غیر سرکاری تنظیم سیو دی چلڈرن نے کہا ہے کہ گزشتہ تین ہفتوں میں غزہ میں شہید ہونے والے بچوں کے تعداد 2019 سے لے کر اب تک دنیا میں ہونے والے تنازعات میں بچوں کی شہادتوں سے زیادہ ہوگئی ہے۔ سیو دی چلڈرن کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 7 اکتوبر سے اب تک غزہ میں کم از کم 3,324 بچے شہید ہو چکے ہیں، جبکہ 36 مقبوضہ مغربی کنارے میں شہید ہو چکے ہیں، بچوں اور مسلح تنازعات پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی رپورٹوں کے مطابق، 2022 میں 24 ممالک میں کل 2,985، 2021 میں 2,515 اور 2020 میں 2,674 بچے شہید کیے گئے ہیں۔

جنین میں اسرائیلی چھاپوں کے بعد کے مناظر

اسرائیلی ٹینک اور دیگر فوجی گاڑیاں غزہ کے اندر داخل ہو رہی ہیں

غزہ میں حماس کے ترجمان حازم قاسم نے غزہ شہر میں اسرائیلی ٹینکوں کے پہنچنے کی خبر کی تصدیق کردی، انہوں نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ فلسطینی مزاحمت کاروں نے صلاح الدین اسٹریٹ میں اسرائیلی ٹینکوں پر حملہ کیا ہے، ان کا کہا ہے کہ "فلسطینی مجاہد اسرائیلی زمینی جارحیت کی کسی بھی کوشش کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔”

غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے دوران ایمرجنسی اور ریسکیو ٹیمیں اپنے دن معصوم بچوں کے ساتھ رو کر گزارتی ہیں۔

حماس کے مسلح ونگ کا کہنا ہے کہ انہوں نے غزہ کی پٹی کے مشرق میں واقع اسرائیل میں نیرم یہودی بستی پر مارٹر حملے کیے ہیں، قسام بریگیڈز نے ٹیلی گرام میسجنگ ایپ پر کہا ہے کہ ان کے جنگجوؤں نے اشدود شہر پر بھی راکٹ حملہ کیا ہے، ان کا مزید کہنا ہے کہ ان کے گروپ نے ایک اسرائیلی ڈرون پر "متبر میزائل” بھی فائر کیا ہے۔

حماس کے سرکاری دفتر کے سربراہ کے مطابق غزہ شہر کے مضافات کے قریب پہنچنے والے اسرائیلی ٹینک اب پیچھے ہٹ گئے ہیں، سلامہ معروف کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں رہائشی علاقوں کے اندر کوئی اسرائیلی زمینی پیش قدمی نہیں ہے، صلاح الدین اسٹریٹ پر جو کچھ ہوا وہ قابض فوج کے چند ٹینکوں اور بلڈوزر کی دراندازی تھی، ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ٹینکوں نے صلاح الدین اسٹریٹ پر دو شہریوں کی کاروں کو نشانہ بنایا ہے، صلاح الدین روڈ پر فی الحال قابض فوج کی گاڑیوں کی موجودگی نہیں ہے اور سڑک پر شہریوں کی نقل و حرکت معمول پر آ گئی ہے۔

کریملن کے ایک بیان کے مطابق روسی حکومت داغستان کے ماخچکالا ہوائی اڈے پر اسرائیل مخالف ہنگامے کے لیے "بیرونی طاقتوں” کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے، کریملن کا کہنا ہے کہ دشمنوں نے غزہ کی معلومات اور خوفناک تصاویر کو لوگوں کو مشتعل کرنے کے لیے استعمال کیا ہے، کریملن کا مزید کہنا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن آج ایک اعلیٰ سطحی سکیورٹی میٹنگ منعقد کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں جس میں روسی معاشرے کو "تقسیم” کرنے کی مغربی کوششوں پر تبادلہ خیال کریں گے۔

غزہ شہر کے تل الحوا علاقے پر اسرائیلی بمباری

ہیلری کلنٹن نے غزہ میں جنگ بندی کی مخالفت کر دی۔
ویڈیو میں ان کے کہنے کے مطابق جنگ بندی "حماس کے لیے ایک تحفہ ہو گی۔
ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ جو لوگ اب جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ حماس کو نہیں سمجھتے، یہ ممکن نہیں ہے۔
یہ حماس کے لیے ایک ایسا تحفہ ہو گا کیونکہ وہ اپنے ہتھیاروں کی تعمیر نو کے لیے جو بھی وقت جنگ بندی پر خرچ کرے گا، وہ مضبوط پوزیشن بنا کر اسرائیلیوں کے ممکنہ حملے کو روکنے کے قابل ہو جائے گا۔ہیلری کلنٹن نے مزید کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی ہلاکتوں کو محدود کرے۔

اسرائیلی فورسز نے غزہ شہر میں اپنے فضائی حملوں اور ٹینکوں کی گولہ باری میں اضافہ کر دیا ہے جس سے انتہائی کشیدہ صورتحال پیدا ہو گئی ہے، غزہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ "ہمیں اسرائیلی افواج کی طرف سے ایک کال موصول ہوئی ہے جس میں ہمیں اپنی عمارت خالی کرنے اور غزہ کے جنوبی حصے میں جانے کی ہدایت کی گئی ہے ،تاہم غزہ شہر کو جنوبی حصے سے ملانے والی سڑک پر اسرائیلی ٹینک دیکھے گئے ہیں، اسرائیلیوں نے غزہ شہر سے انخلاء کے کئی راستوں کو بند کر دیا ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ "ہمیں اسرائیلی فورسز کی جانب سے شہر سے نکلنے کی کوشش کرنے والی گاڑیوں پر فائرنگ کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرسہ کا کہنا ہے کہ محصور غزہ کے علاقے میں اسرائیلی حملوں اور ایندھن کی کمی کی وجہ سے کم از کم 124 طبی عملہ شہید ہوچکے ہیں اور 25 ایمبولینسیں سروس سے محروم ہیں، اشرف القدرسہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ 32 طبی مراکز بھی بند ہوچکے ہیں۔

بریکنگ نیوز
اسرائیلی فوج نے غزہ میں موجود تمام صحافیوں اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر غزہ سے نکل جائیں۔ صحافیوں کے مطابق، غزہ میں کچھ بڑی تباہی ہونے جا رہی ہے۔

بڑی خبر
اقوام متحدہ میں پاکستان کےمندوب منیراکرم نےحماس کو دہشت گرد قرار دینے سےانکار کردیا۔
کینیڈین نمائندے کو جواب دیتےہوئے منیر اکرم نےکہا کہ اصل دہشت گرد اسرائیل ہے، اوراس کا نام لینےکی ضرورت ہے۔ اصل مسئلہ حماس نہیں، بلکہ فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کا قبضہ ہے.

اےعرب قوم کےلیڈرو!
تم نہ اپنے مقدس ترین مقدسات کا دفاع کرتےہو، نہ ہی آپ اپنےنبیﷺ کےمقام معراج کی توہین پر ناراض ہوتےہو۔ تم اسرائیل سے نہیں لڑسکتے۔ ہم اسرائیلی قبضہ ختم کرنے، اور اپنی قوم، اپنےمذہب اور اپنی سرزمین کےتحفظ کےلیے اپنی مدد آپ کے تحت لڑ رہےہیں۔ ابو عبیدہ، ترجمان حماس

بریکنگ نیوز
حماس کی حمایت کرنے پرعرب اسرائیلی اداکارہ پر فرد جرم عائد

فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی حمایت کرنے پر عرب اسرائیلی اداکارہ مائیسہ عبدل ہادی پر فرد جرم عائد کردی گئی۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق عرب اسرائیلی اداکارہ مائیسہ عبدل ہادی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی تھی جس میں اُنہوں نے 7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر اچانک حملے کی حمایت کی تھی۔مائیسہ عبدل ہادی کی سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد اسرائیلی پولیس نے اُنہیں گرفتار کرلیا تھا۔ تاہم، اب اداکارہ پر اسرائیلی عدالت کی جانب سے فرد جرم عائد کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی وزارت انصاف نے اپنے بیان میں کہا کہ اداکارہ نے سوشل میڈیا پر حماس کی حمایت کرکے دہشت گردی کی کارروائی کو فروغ دیا ہے۔اسرائیلی حکام کی جانب سے مائیسہ عبدل ہادی پر “دہشت گرد گروپ کے ساتھ شناخت” کا الزام بھی لگایا گیا تھا۔دوسری جانب اسرائیل کے وزیر داخلہ نے حماس کی حمایت کرنے پر مائیسہ عبدل ہادی کی شہریت منسوخ کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ شہر میں شدید دھواں ہے اور اسرائیل شہریوں کے گھروں پر سفید فاسفورس کا استعمال کر کے فضائی حملے کر رہا ہے۔