سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا نظرثانی کی 9درخواستوں پر پانچ گھنٹے دس منٹ طویل سماعت کا مکمل احوال
دس بج کر دس منٹ پر کیس کی سماعت شروع ہوئی پچاس منٹ بعد 11بجے وقفہ کردیا گیا
وقفے کے بعد بارہ بجے کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی جو چار بج کر 20منٹ پر اپنے انجام کو پہنچی
دھرنا کیس کے فیصلے پرحکومتی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی غیر قانونی قرار
دوران سماعت چیئر مین پیمرا مرزا محمد سلیم بیگ کی سخت سرزنش
شیخ رشید کی نظرثانی درخواست کے سوا باقی 8 درخواستیں پریس نہ کرنے کی بنیاد پر خارج کردی گئیں
تحریک لبیک کے ایک امیدوار کی درخواست ناقابل سماعت قراردیکر مسترد کی گئی
الیکشن کمیشن کی تحریک لبیک کے فنڈز کی سکروٹنی کے حوالے سے رپورٹ مسترد، نئی رپورٹ طلب
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل 3 رکنی بینچ فیض آباد دھرنا کیس میں 6 فروری 2019 کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی 9 درخواستوں پر سماعت کا آغازکیا تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ کہ پہلے گزشتہ سماعت کا حکمنامہ دیکھ لیں، اس پر کمرہ عدالت میں موجود اٹارنی جنرل نے گزشتہ سماعت کا حکم پڑھا۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ابصار عالم یہاں موجود ہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ہمیں بتایا گیا وہ راستے میں ہیں۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے استفسار کیاکہ کیا آپ نے سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم کا بیان حلفی پڑھا ہے؟ انہوں نے وزرات دفاع کے ایک افسر پر سنگین الزامات لگائے ہیں ، اگر ابصار عالم کے الزامات درست ہیں تو یہ معاملہ آپ سے متعلق ہےکیا اب بھی آپ نظرثانی درخواستیں واپس لینا چاہتے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت نے دھرناکیس میں فیصلے پر عملدرآمد کرنےکے لئے معاملے پر ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی ہے۔
چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کب قائم ہوئی ہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کمیٹی 19 اکتوبر کو قائم کی گئی۔
اٹارنی جنرل نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی تشکیل کا نوٹی فکیشن پڑھ کر سنارہے تھے کہ ابصار عالم کمرہ عدالت میں پہنچ کر ایک نشست پربیٹھ گئے ۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کمیٹی اپنی رپورٹ کس کو پیش کرے گی؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کمیٹی اپنی رپورٹ وزارت دفاع کو پیش کرے گی، رپورٹ پھر سپریم کورٹ کے سامنے پیش کی جائے گی، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس ساری مشق سے اصل چیز مسنگ (غیرموجود) ہے، یہ سب ایک آئی واش ہے، سب لوگ نظرثانی واپس لے رہے ہیں تو یہ کمیٹی کے قواعدوضوابط (ٹی او آرز )آنکھوں میں دھول کے مترادف ہے اس طرح تو ہر کوئی بری الزمہ ہوجائے گا ، حکومت اس معاملے کو ہینڈل کرنے کے قابل ہی نہیں ہے ۔
جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا آپ آج ضمانت دیتے ہیں کہ ملک میں جو ہو رہا ہے آئین کے مطابق ہے؟
چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ حکومت معاملے کو ہینڈل کرنے کی اہل ہی نہیں ، ایک صاحب باہر سے امپورٹ ہوتے ہیں اور پورا مُلک مفلوج کر دیتے ہیں، ہم جاننا چاہتے ہیں دھرنے کا اصل ماسٹر مائنڈ کون تھا۔سپریم کورٹ نے 2019 میں فیصلہ دیا اس پر اب تک عمل کیوں نہیں کیا گیا ہم اس کمیٹی کی رپورٹ کسی صورت نہیں دیکھیں گے ۔
جسٹس اطہر من الللہ نے استفسار کیا کہ بتایا جائے کہ یہ کمیٹی کس نے بنائی ،کیا کابینہ نے اس کی منظوری دی اور کس قانون کے تحت یہ کمیٹی بنائی گئی ۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہاکہ یہ کمیٹی وفاقی حکومت نے بنائی ۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ حکومتی کمیٹی غیر قانونی ہے ، حکومتی کمیٹی کا نوٹیفیکیشن کاغذ کے ٹکڑے کے سوا کچھ نہیں
اب پاکستان آئین و قانون پر چلے گا ،پاکستان انکوائری ایکٹ کے تحت کمیشن یا کمیٹی کیوں تشکیل نہیں دی گئی ۔ جو کمیٹی تشکیل دی گئی ہے کیا اس کے پاس کسی کو طلب کرنے کا اختیار ہے؟ ابصارعالم نے ایک بیان حلفی دیا ہے کیا کمیٹی ابصار عالم یا اس شخص کو طلب کرسکتی ہے جس پر سنجیدہ الزام لگایا گیا ہے ، حکومت کچھ نہیں کرنا چاہتی یہ بات ہم فیصلے میں لکھیں گے اگر درست کمیٹی بنانی ہے تو اس کے ٹی اور آرز میں لکھنا ہوگا کہ وہ کمیٹی کیا کرسکتی ہے صحیح کام کریں یا جواب دیدیں کہ ہم عدالتی احکامات پر عمل نہیں کریں گے ۔ یہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے حکوت کچھ نہیں کرنا چاتی تو پھر ہم خود دیکھ لیں گے۔
اٹارنی جنرل نے کہاکہ انہیں وقت دیا جائے تاکہ یہ پیغام حکومت تک پہنچا سکیں ، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کوئی ایسے کام کرے گا تو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے ۔ اس کا مطلب کہ الیکشن کمیشن اور پیمرا آزاد ہیں ملک کو ایسے نہ چلائیں
یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایک مخصوص وقت میں ایک مخصوص واقعہ کرنے والے کو ن تھے ؟ کونسا قانون کہتا ہے کہ فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر ہوجائے تو فیصلے پر عمل درآمد رک جاتا ہے ؟
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ نظرثانی دائر ہونے پر فیصلے پر عملدرآمد نہیں رکتا جب تک حکم امتناعی جاری نہ ہو ،
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا کوئی کینیڈا جا کر فساد کر کے واپس پاکستان آسکتا ہے؟ کیا ہم کینیڈا میں جا کر اُن کے پورے ملک کو ڈسٹرب کر سکتے ہیں؟ کیا یہ حق صرف کینیڈا سے آنے والوں کو حاصل ہے، انہیں کون لے کر آیا تھا، کینیڈا سے سبق سیکھیں، انہوں نے ایک سکھ رہنما کے قتل پر بڑے ملک سے ٹکر لے لی،
ایک صاحب کینیڈا واپس چلے گئے تو بتائیں جس کام کے لیے آئے تھے کیا وہ حل ہو گیا؟اگر انہیں پاکستانیوں کا اتنا ہی دکھ ہے تو پاکستان آکر ہمارے دساتھ رہیں بتادیں کیوں ملک چھوڑ کر چلے گئے۔
چیف جسٹس فائز عیسیٰ نےریمارکس دیے کہ اسلام امن کا دین ہے، وہ اسلام کو بھی بدنام کر رہے ہیں کسی کو اس کی پرواہ نہیں،کیا حکومت نے اس شخص کے حوالے سے کینیڈا کی حکومت کو خط لکھا جو عوامی پراپرٹی کو تباہ کرکے بیرون ملک چلا گیا وہ اسلام کی بات کر رہے تھے تو کیا سب ان سے ڈر جاتے، ایک مسلمان کو ڈرنا نہیں چاہیے، فساد فی الارض کو کسی صورت معاف نہیں کیا جاتا اور حکومت اس کو بالکل سنجیدہ نہیں لے رہی۔دھرنے میں ملک کو کتنا نقصان ہوا ؟ اس کا خمیازہ قوم بھگت رہی ہے ۔ اچھی یا بری ایک حکومت اس وقت موجودتھی ہم سب ڈر رہے ہیں کسی میں ہمت نہیں ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ستر سال سے ملک میں کیا کچھ ہورہا ہے فیض آباد دھرنا ایک لینڈ مارک فیصلہ تھا، اس پر چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ میرے مطابق تو وہ ایک سادہ سا فیصلہ تھا، اس وقت اچھی یا بری جیسی بھی حکومت تھی عوام کی منتخب کردہ حکومت تھی، کوئی غلط قانون بن گیا تو اسپیکر کو خط لکھ دیتے یہ آپ سے غلطی ہو گئی۔
چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے ٹی او آرز اتنے وسیع کر دیے کہ ہر کوئی بری ہو جائے گا، اربوں روپے کا نقصان ہوا مگر سرکار کو کوئی پرواہ نہیں، ٹی او آرز میں کہاں لکھا ہے کہ کون سے مخصوص واقعے کی انکوائری کرنی ہے، ہمارا کام حکم کرنا ہے آپ کا کام اس پر عمل کرانا ہے۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہاکہ عدالت، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی تشکیل سے خوش نہیں، کمیٹی اگر انکوائری کمیشن ایکٹ کے تحت بنتی تو شاید کچھ کربھی سکتی، انکوائری کمیشن ایکٹ کے تحت قائم کمیشن کے پاس تو اختیارات ہوتے ہیں، ایکٹ کے تحت قائم کمیشن سے سب ادارے تعاون کے پابند ہوتے ہیں، آپ کی بنائی گئی کمیٹی کے سامنے تو کوئی پیش نہیں ہو گا، آپ ٹھیک طریقے سے کام کریں یا کہہ دیں کہ ہم نہیں کرتے، اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ہم کام کریں گے۔
چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے واضح کیا کہ کسی پر اثرات ہوں گے تو باقی بھی سوچیں گے کہ کچھ غلط کیا تو نتائج بھگتنا ہوں گے، انکوائری میں یہ بات بھی سامنے آنی چاہیے کہ پہلے سب نے فیصلے کے خلاف نظرثانی کیوں دائر کی؟ اور اب واپس کیوں لی جارہی ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ آئین کی بالادستی کسی بھی قیمت پر یقینی بنانا ہوگی، آپ کے پاس موقع ہے کسی ایسے شخص سے انکوائری کروائیں جو آئین کو مقدم رکھتا ہو۔
چیف جسٹس نے کہا کہ یہ آپ کی مرضی ہے کہ انکوائری کے لیے جس کو مرضی تعینات کریں، ابصار عالم کے بیان کے مطابق تو الیکشن کمیشن سمیت تمام ادارے آزاد نہیں تھے۔
عدالت نے پیمرا کے وکیل حافظ ایس اے رحمٰن سے استفسار کیا کہ کیا پیمرا کے سابق چیئرمین کا بیان حلفی پڑھا ہے؟ جواب میں پیمرا کے وکیل نے کہا کہ ابصار عالم کا بیان حلفی مجھے ابھی ملا ہے اس لئے پڑھ نہیں سکا
اس پر عدالت نے سینیئر وکیل حافظ ایس اے رحمٰن پر اظہار برہمی کیا، چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ کیا آپ کو بیان حلفی گھر جا کر دیتے؟
عدالت نے ڈی جی آپریشنز پیمرا کو روسٹرم پر بلا لیا، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے کالا کوٹ کیوں پہنا ہوا ہے؟ کیا آپ وکیل ہیں؟ ڈی جی آپریشنز نے جواب دیا کہ کالا رنگ روٹین میں پہنا ہے۔عدالتی سوالا ت کا جواب نہ ملا تو سپریم کورٹ نے چیئرمین پیمرا کو فوری طلب کرتے ہوئے سماعت میں ساڑھے 11 بجے تک وقفہ کردیا
وقفے کے بعد فیض آباد نظر ثانی دھرنا کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو چیئرمین پیمرمرزا امحمد سلیم بیگ کمرہ عدالت پہنچ گئے۔
چیف جسٹس نے چیئر مین سے مکالمہ میں کہا کہ ابصار عالم صاحب نے کچھ کاغذات جمع کرائے ہیں، چیئرمین پیمرا نے جواب دیا کہ میں نے رپورٹ پڑھی ہے، ابصار عالم کے ساتھ جو کچھ ہوا انہوں نے بیان کیا۔جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوا؟ چیئرمین پیمرا نے جواب دیا کہ میرے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا۔مجھ پر کبھی کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا
چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ اخبارات میں ابصار عالم کا بیان حلفی چھپ چکا ہے، عدالتی کارروائی کو سنجیدگی سے لیں، چیئرمین پیمرا نے جواب دیا کہ ابصار عالم نے جو کہا مجھے اُس کا نہیں پتا، ابصار عالم کے بعد پیمرا میں 6 ماہ کا خلا رہا پھر میں تعینات ہوا، چیئرمین پیمرا بننے سے پہلے 20ویں گریڈمیںوزارت اطلاعات میں پرنسپل انفارمیشن افسرکے عہدے پر تھا، ابصار عالم نے جو الزامات لگائے مجھے نہیں پتا، میں حقائق کی تصدیق کر سکتا ہوں۔
چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنی قانونی ٹیم کو کہیں مقدمے کو سنجیدہ لیں۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ پیمرا سے متعلق فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ پڑھیں، کسی کو مارنا، جلاؤ گھیراؤ کرنا اظہار رائے کی آزادی نہیں، کیا 2 نجی ٹی وی چینلز کی اب بھی کینٹ ایریا میں پابندی ہے؟
جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ نظر ثانی واپس لے رہے ہیں تو کیا فیصلے پر عمل درآمد ہوا؟
چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ پیمرا کو جو ہدایات کی تھیں کیا ان پر عمل کیا گیا؟ کیا پیمرا اوپر سے کسی حکم کے آنے کا انتظار کر رہا ہے؟ پیمرا نے 110 صفحات میں سے کسی ایک پیراگراف پر عمل کیا تو وہ بتا دیں۔انہوں نے چیئرمین پیمرا سے مکالمہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا آپ ایک ڈمی ادارے کے سربراہ ہیں؟ ملک کا ہر ادارہ مذاق بن چکا ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کتنے کیبل آپریٹر کے خلاف کارروائی کی، آپ نے خود بتایا آپ پر کوئی دباؤ نہیں تھا، یہاں جو بھی کرسی پر سے اترتا ہے کہتا ہے مجھ پر دباؤ تھا، یہ کلچر عام ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کی کتنی تنخواہ ہے؟ چیئر مین پیمرا نے جواب دیا کہ ساڑھے 4 لاکھ روپے۔
چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ سلیم بیگ آپ کا نام فیض آباد دھرنا کیس میں شامل ہے، جب فیض آباد دھرنا چل رہا تھا اس وقت آپ چیئرمین پیمرا تھے، آپ نے غلط بیانی کیوں کی کہ آپ کی تعیناتی بعد میں ہوئی، کیا آپ کو فیصلہ پسند نہیں تھا، آپ فیصلے پر عمل نہیں کرتے تو توہین عدالت بھی ہو سکتی ہے۔
چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ چیئرمین پیمرا کی مدت ملازمت کتنی ہے، چیئرمین پیمرا سلیم بیگ نے جواب دیا کہ 4 سال کی مدت ہے۔چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ پھر آپ کیسے اب تک بیٹھے ہیں، چیئرمین پیمرا سلیم بیگ نے جواب دیا کہ دوبارہ تعیناتی کی گئی تھی۔
چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ کی عمر کتنی ہے؟ چیئرمین پیمرا نے جواب دیا کہ اس وقت عمر 63 سال ہے۔
اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس وقت کا کیا مطلب ہے، آج کی عمر ہی پوچھی ہے کل کی نہیں، اسکول میں کوئی ایسا جواب دے تو استاد کونے میں کھڑا کر دے گا۔
چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ ذرا سا ہم نے آپ کو دبایا آپ نے کہا ہم عملدرآمد کریں گے، آپ بتائیں نظرثانی درخواست کس کے کہنے پر دائر کی، اس پر چیئر مین پیمر اکا کہنا تھا کہ سب نے دائر کی تو آپ نے سوچا ہم بھی کر دیتے ہیں،پیمرا نے بطور ریگولیٹری ادارہ نظرثانی دائر کی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اللہ آپ کو لمبی عمر دے سچ بولیں، ہم آپ کو مضبوط کر رہے ہیں، ہم کہہ رہے ہیں بتائیں آپ کے امور میں کون مداخلت کر رہا ہے، چیئرمین پیمرا نے جواب دیا کہ ہماری غلطی تھی نظرثانی درخواست دائر کی، پیمرا میں فیصلہ ہوا تھا نظرثانی میں جائیں گے۔
چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ آپ جواب نہیں دے رہے تو ہم آڈر کریں گے، سلیم بیگ صاحب اللہ آپ کو لمبی زندگی دے، مگر جانا ہم نے وہیں ہے، آپ ہمت پکڑیں بتادیں نظرثانی میں جانے کا کس نے کہا تھا، پیمرا میں منظوری ہوئی تو وہ کہاں ہے؟
چیئرمین پیمرا سلیم بیگ نے جواب دیا کہ منظوری تحریری نہیں زبانی تھی، اس پر چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ زبانی فیصلہ کیسے ہو سکتا ہے؟کیا پیمرا ہوا میں فیصلے کرتا ہے
دریں اثنا عدالت نے ڈائریکٹر لا پیمرا کو بلا لیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ تو سچ نہیں بول رہے آپ ہی بتا دیں، نظرثانی کا کس نے کہا تھا؟ ڈائریکٹر لا پیمرا نے جواب دیا کہ مجھے اس کا علم نہیں۔
چیف جسٹس نے پیمرا کے حکام پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ قانون پڑھیں کیا پیمرا میں زبانی فیصلہ ہو سکتا، ہم آپ کو آج آپ کا قانون پڑھائیں گے۔اس دوران چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ڈائریکٹر لا پیمرا کو سیکشن 5 پڑھا دیا، بعد ازاں چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ آپ نے یہ پڑھی ہوتی تو یہ نہ کہتے کہ تحریری فیصلہ کا کہیں نہیں لکھا۔
چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ اٹارنی جنرل صاحب چیئرمین پیمرا کہہ رہے ہیں نظر ثانی کا پتا ہی نہیں، کیسے دائر ہوئی، کوئی پراسرار قوتیں تھیں جنہوں نے نظرثانی درخواست دائر کروائی۔اگر نظرثانی دائر کرنے کا تحریری فیصلہ نہیں ہوا تو آپ کی نظرثانی درخواست وجود ہی نہیں رکھتی، آپ تو پھر صرف ہمارا وقت ضائع کرنے آئے تھے، 3 حکومتوں میں آپ چیئرمین پیمرا رہ چکے، تینوں حکومتیں آپ سے خوش ہیں۔
چیف جسٹس نے ہدایت دی کہ نظرثانی درخواست پر دیکھیں کس کے دستخط ہیں، سلیم بیگ صاحب درخواست پر یہ آپ کے دستخط ہیں، لکھا ہوا ہے آپ اپنے اختیارات کا استعمال کر کے اس کی منظوری دی، آپ دوسروں کے کندھوں پر بندوق نہ چلائیں، ذمہ داری لیں یہ نظرثانی آپ نے دائر کی، اللہ آپ کو لمبی عمر دے آپ کس سے ڈرتے ہیں؟
چیئرمین پیمرا سلیم بیگ نے جواب دیا کہ صرف اللہ سے ڈرتے ہیں، اس پر چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ اللہ سے ڈرتے ہیں تو ہماری عمروں میں کوئی بھی دن آخری ہو سکتا ہے۔
چیف جسٹس فائزعیسیٰ نے کہا کہ پہلے آپ نے کہا نظر ثانی دائر کرنے کے لیے زبانی اراکین سے کہا، ریکارڈ بتا رہا ہے نظر ثانی دائر کرنے کے لیے آپ کا اپنا فیصلہ تھا، بتا دیں کس سے ڈرتے ہیں؟
چیئرمین پیمرا نے جواب دیا کہ صرف اللہ سے ڈرتا ہوں، اس پر چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ پھر بتا دیں کس کے کہنے پر نظر ثانی دائر کی۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ سابق وزیر اعظم ،سابق آرمی چیف اور سابق چیف جسٹس کو تحریری طور پر ابصار عالم نے آگاہ کیا، اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے، جو بھی کرسی سے اترتا ہے کہتا ہے میں مجبور تھا، ہر کرسی سے اترنے والا وزیر اعظم کہتا ہے میں مجبور تھا، اس وقت وزیر اعظم تو نواز شریف تھے، شاید اس وقت وزیراعظم شاہد خاقان عباسی تھے۔
اس موقع پر عدالت نے سابق چیئر مین پیمراابصار عالم کو روسٹرم پر بلا لیا، چیف جسٹس نے ابصار عالم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میرے کچھ سوالات ہیں آپ سے، آپ کچھ خطوط کی بات کر رہے ہیں، آپ نے لکھا کہ میڈیا میں کچھ سرکش عناصر تھے جو آپ کو دھمکیاں دیتے تھے ۔
ابصار عالم نے جواب دیا کہ کیبل آپریٹر کے پاس انٹیلی جنس ادارے کے لوگ جاتے تھے، اس پر چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اگر اس وقت آپ وزیراعظم ہوتے تو کیا کرتے ؟ ابصار عالم نے جواب دیا کہ میں اگر اس وقت وزیر اعظم ہوتا تو انکوائری کرواتا
چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ آپ نے وزیراعظم کو خط کیوں لکھا کیا وزیراعظم پولیس ہے ؟ آپ نے خود ایف آئی آر کیوں درج نہیں کروائی ۔
ابصار عالم نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ہمارے پیمرا کے رکن کو ایک کال آئی جو ریکارڈ ہوئی، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ فون کرنے والے کا نام بتائیں؟ابصار عالم نے جواب دیا کہ میں کنفرم نہیں کر سکتا کیونکہ بعض اوقات نام بدل کر فون کیا جاتا ہے، چیف جسٹس نے ہدایت دی کہ آپ تحریری جواب پڑھیں۔
اس موقع پر جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی جانب سے آپ کے خط کا جواب نہ آنا چشم کشا ہے
ابصار عالم نے عدالت کو آگاہ کیا کہ میرے خلاف 3 ہائی کورٹس میں درخواستیں آئیں، مجھے لاہور ہائی کورٹ نے 18 دسمبر کو بطور چیئرمین پیمرا ہٹا دیا گیا، آپ نے کہا سچ سامنے لے کر آئیں اس لیے میں لے آیا۔انہوں نے کہاکہ دھرنے کے دوران مریم اورنگزیب نے کہاکہ ٹیلی ویژن چینل بند کردیں تو میں نے کہا کہ تحریری طور پر لکھ کر دیں
پیمرا افسران پر اس وقت کے ڈی جی سی فیض حمیدکا دباؤ ہوتا تھا
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ چاہیں تو بطور شہری گھر میں بیٹھ سکتے ہیں، آپ نے خود کہا مجھے بلایا جاتا تو میں یہ بات کرتا، ہم نے تمام شہروں کو کہا کہ کوئی بھی آکر تفصیل بتا سکتا ہے۔
ابصار عالم نے کہا کہ نجم سیٹھی نے پروگرام میں کہا ادارہ جاتی کرپشن ہوتی ہے، مجھے زبانی احکامات دیئے جاتے تھے کہ نجم سیٹھی کا پروگرام بند کردیا جائے ، عدالتی استفسار پر ابصار عالم نے بتایا کہ نجم سیٹھی جیوٹی وی پر پروگرام کرتے تھے،حسین حقانی کو بھی میڈیا پر دکھانے پر پابندی لگائی گئی، مجھے اسی وجہ سے ہٹایا گیا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ موجودہ چیئر مین پیمرا کہہ رہے ہیں کہ ان پر کبھی کوئی دباؤ نہیں آیا، ابصار عالم نے جواب دیا کہ یہ تو خوش قسمت انسان ہیں پھر۔
ابصار عالم نے اپنے دور میں بحال کئے گئے چینلز کے بارے میں بتاتے ہوئے کہاکہ 92 نیوز کو بند کیا گیاتو فیض حمید کا فون آیا کہ اس کو آن ائیر کیا جائے
چیف جسٹس نے کہاکہ آئی ایس آئی کی رپورٹ میںکہا گیا کہ ایک نجی ٹی وی دھرنے میں شام لوگوں کو کھانا اور دیگر اشیا پہنچاتا رہا ۔
اس موقع پر ابصار عالم نے کہاکہ میرے دل کی دھڑکن کہہ رہی تھی کہ آرمی کی کچھ شخصیات لوگوں کو تشدد پر اکسا رہی تھیں۔
چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اگر کل سرکار کوئی کمیشن بنائے تو کیا آپ اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے، پھر کمیشن ان کو
بھی بلائے جن پر آپ الزام لگائیں گے، جن پر الزام لگایا گیا ان کو بھی جرح کرنے کا حق ہے۔
ابصار عالم نے جواب دیا کہ میں کلمہ پڑھ کر کہتا ہوں کہ ان کے نام کمیشن میں لوں گا، اس پر چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ جن صاحب کا نام آیا ہو ان کو بلایا گیا تو آپ کو بھی ان پر جرح کرنے کا حق ہوگا۔
ابصار عالم نے بتایا کہ صحافیوں میں یہ مشہور تھا کہ جس نے میرے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کی وہ ایجنسیوں کا بندہ ہے۔
چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے چئیرمین پیمرا سے استفسار کیا کہ آپ پرانے بیوروکریٹ ہیں کبھی آپ کے خلاف کوئی درخواست ہوئی؟ سلیم بیگ نے جواب دیا کہ 5 رکنی کمیٹی نے مجھے بطور چئیرمین پیمرا تعینات کیا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ابصار عالم سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ نے نظام کو بے نقاب کیا۔
چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ ایک فاشسٹ نے جرمنی کے ذریعے دوسری جنگ عظیم شروع کروا دی لیکن اب وہ مہذب ترین ملکوں میں شمار ہوتا ہئ، پاکستان میں اکثریت مسلمان رہتے ہیں لیکن سچ کوئی نہیں بولتا، سلیم بیگ صاحب آپ کے دل میں کھٹک رہا ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے چیئر مین پیمرا سے کہا کہ آپ نے سوچا ہوگا میں زندگی کی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جاؤں اس لیے نظر ثانی دائر کردی، یہاں کوئی سچی گواہی نہیں دیتا، پبلک آفس ہولڈر اس وقت سچ بولتا ہے جب کرسی سے اتر جاتا ہے۔
چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی درخواست سپریم کورٹ میں عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کی گئی، مقدمہ بحالی کی درخواست کیوں نہیں دی گئی، انسان کو آخری دم تک جدوجہد کرتے رہنا چاہیے۔
ابصار عالم نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جب ایک کال آئی تو میں نے آرمی چیف کو خط لکھا تھا، پھر جنرل بلال نے مجھ سے خط کے حوالے سے رابطہ کیا۔اس پر چیف جسٹس نے انہیں بات کرنے سے روکتے ہوئے کہا کہ جوبات آپ نے خطوط میں نہیں لکھی وہ یہاں مت کریں صرف دستاویزی ثبوت کے ساتھ بات کریں
دریں اثنا شیخ رشید کی جانب سے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ عدالت میں پیش ہوئے، انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ شیخ رشید سے رابطہ نہیں ہو رہا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ وہ تو کہہ رہے ہیں کہ میں چلے سے واپس آ گیا، ایڈووکیٹ آن ریکارڈ نے کہا کہ ہم شیخ رشید کی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں۔
چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ شیخ رشید آپ سے رابطے میں نہیں تو درخواست واپس لینے کا کس نے کہا؟ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ نے جواب دیا کہ مجھے شیخ رشید کے وکیل امان اللہ کنرانی نے ہدایات دی۔
چیف جسٹس فائز نے برہمی کا اظہارکرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ امان اللہ کنرانی اب وزیر ہیں وہ آپ کو ہدایات نہیں دے سکتے، آپ کب سے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ ہیں؟ آپ کا لائسنس منسوخ نہ کر دیں؟ شیخ رشید کا کسی کو پتا ہے؟ کیا وہ جیل میں ہیں؟ شیخ رشید یہاں کیوں نہیں ہیں؟
اٹارنی جنرل نے کہا کہ شیخ رشید میڈیا پر آ رہے ہیں، چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ میڈیا تو یہاں بیٹھا ہوا ہے، ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کا ان سے رابطہ نہیں تو درخواست واپس کون لے رہا ہے؟ ہم اس میں نوٹس جاری کریں گے۔
اس دوران عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو روسڑم پر بلا یااور استفسار کیا کہ آپ تو ایک آزاد ادارہ ہیں، کیا الیکشن کمیشن نے ایک فضول نظرثانی دائر کی جوکہ اب واپس لینی ہے؟
جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ اس وقت الیکشن کمیشن کا سربراہ کون تھا، وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ سردار رضا اس وقت چیف الیکشن کمشنر تھے۔
چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے اب عملدرآمد رپورٹ دی ہے اس میں کیا ہے؟ دکھائیں کیا عملدرآمد کیا گیا؟ آج کل وکالت کم لفاظی زیادہ ہو رہی ہے۔
دورانِ سماعت چیف جسٹس نے وکیل الیکشن کمیشن کو تحریک لبیک کے ذمہ داروں کے نام کے ساتھ ’حافظ‘ کا لفظ استعمال کرنے سے روک دیا۔
چیف جسٹس نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ ایک آئینی ادارے میں انہیں حافظ کیوں کہہ رہے ہیں، آپ لوگوں سے مساوی سلوک نہیں کرتے، آپ نے عملدرآمد رپورٹ میں جو کچھ لکھا وہ فیصلے سے پہلے کا ہے، ہمارے فیصلے کے بعد کیا اقدامات اٹھائے وہ بتائیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ تحریک لبیک کو آئی فنڈنگ کی تفصیل میں ایک بھی راونڈ فگر نہیں، ظاہر ہوتا ہے یہ فنڈز بیرون ملک سے ہی آئے تھے جو کرنسی تبدیل کر کے ایک بھی راونڈ فگر نہیں بنا۔
وکیل الیکشن کمیشن اگر کوئی 1820 روپے دینا چاہتا ہے تو ہم اسے نہیں کہہ سکتے کہ پورے 1800 دو، وقت دیا جائے تو ہم اس کا جائزہ لیں گے۔
چیف جسٹس کا الیکشن کمیشن کے وکیل سے مکالمہ میں کہنا تھاکہ کہ اگر آپ نے عدالتی فیصلے پرعملدرآمد نہ کیا تو بتائیں ہم کیا کریں گے جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ میں یہ کہہ ہی نہیں سکتا کہ ہم عملدرآمد نہیں کریں گے۔اٹارنی جنرل نے کہاکہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور میرا خیال ہے انہیں اس بات کا ادراک ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ بھی عجیب حسن اتفاق ہے کہ ایک ہی دن آئینی اداروں نے نظرثانی درخواستیں دائر کیں جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ یہ بھی حسن اتفاق ہے کہ چار سال بعد نظرثانی درخواست مقرر ہوئی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اچھا آپ اس حسن اتفاق پر شعر ہی سنا دیں جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ بات نکلے گی تو بڑی دور تلک جائے گی۔
جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ ہم نہیں کہتے کہ فلاں کو جیل میں ڈال دو، فلاں پارٹی پر پابندی لگا دیں، ہمارے ساتھ غلط بیانی کی گئی، ایک منظم طریقے سے ملک کے ادارے تباہ کیے گئے۔
اس موقع پر چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ آپ ٹی ایل پی کی وکالت کر رہے ہیں، اب انتخابات آنے والے ہیں اور اچانک پورا ماحول بن جاتا ہے، یہ سب حسن اتفاق ہی ہے کیا۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ٹی ایل پی سے متعلق رپورٹ کس کو فائدہ پہنچانے کی کوشش ہے، آپ اپنے ادارے کے بجائے کسی اور کی وکالت کر رہے ہیںالیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ ایک ڈونر کے بجائے کسی اور ڈونر نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کیا الیکشن ایکٹ پر عمل کیا گیا، آئینی ادارہ تو کسی اور کا دفاع کر رہا ہے، ٹی ایل پی نے 33 فیصد آمدن کا ذریعہ بھی نہیں بتایا۔اٹارنی جنرل نے کہاکہ میرے خیال میں الیکشن کمیشن کو ٹی ایل پی کے اثاثوں کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اسکروٹنی تشکیل دے کر عدالت کو دھوکا دینے کی کوشش کی، اگر ہم الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کر دیں تو آپ کو اچھا لگے گا۔کیا الیکشن کمیشن ملک کے ساتھ مخلص ہے؟ ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ باقاعدہ سسٹم کے تحت ادارے تباہ کیے جائیں تو کوئی ملک سے کیا مخلص ہو گا، جن کی تحقیقات ہونی تھیں ان کی وکالت الیکشن کمیشن کے وکیل کر رہے ہیں۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا ہر سال ہر جماعت کی فنڈنگ کی تحقیقات ہوتی ہیں؟ الیکشن کمیشن کی اپنی شفافیت ہو گی تو ہی شفاف انتخابات کروا سکے گا۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ انشااللہ شفاف انتخابات کرائیں گے جس پر چیف جسٹس نے انہیں خبردار کیا کہ موضوع کو تبدیل نہ کریں۔
اس دوران پی ٹی آئی اور ایم کیوایم کی جانب سے دائر نظرثانی کی درخواستیں واپس لے لی گئیں اور مسلم لیگ ضیا الحق کے وکیل نےاپنی نظرثانی درخواست پر اپنا موقف رکھتے ہوئے کہا کہ وہ درخواست واپس نہیں لے رہے وکیل نے کہاکہ درخواست گزار سابق آرمی چیف اور صدر پاکستان کے بیٹے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آرمی چیف کہیں میں ضیاالحق کو صدر پاکستا ن نہیں کہوں گا ۔ وکیل نے کہاکہ وہ واحد صدر ہیں جن کا نام آئین میں لکھا گیا ہے
جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہاکہ آئین میں کسی نے اپنا نام لکھوایا اس سے آئین مجروع ہوا ، ایک جنرل کا بیٹا کہہ رہا ہے کہ ایک جنرل نے رپورٹ میں ان کے خلاف کچھ لکھاہے اللہ تعالی کو یہ بات پسند نہیں ایک دن کا علم نہیں اور ضیاالحق نے کہا کی پانچ سال صدر رہیں گے ، اپنا نام آئین میں لکھوالیا
فیصلہ
فریقین کے وکلا کو سننے کے بعد تین بج کر پانچ منٹ پرچیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج کی سماعت کا حکمنامہ لکھوانا شروع کر دیا جو ایک گھنٹہ 15منٹ میں مکمل کرایا گیا
عدالت نے فیصلے میں لکھاہے کہ اٹارنی جنر نے جواب جمع کرایا ہے جس سے ظاہرہوتا ہے کہ حکومت سنجیدہ نہیں ہے اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ وہ تجویز دیں گے کہ وفاقی حکومت اس معاملے میں کمیشن قائم کرے اٹارنی جنرل نے مختصر التوا مانگا ہے ۔
عدالت نے وزرات دفاع اورآئی بی کی درخواستیں واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دیں
سپریم کورٹ نے اعجاز الحق کی حد تک نظرثانی کی درخواست نمٹاتے ہوئے حکمنامے میں کہا کہ اعجاز الحق نے آئی ایس آئی رپورٹ میں ذکر ہونے پر نظرثانی درخواست دائر کی۔حکمنامے میں کہا گیا کہ اعجاز الحق نے بیان حلفی دیا ہے جس پر یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں، اعجاز الحق کی درخواست نمٹائی جاتی ہے۔
عدالت نے شیخ رشید احمد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے موقف طلب کیا ہے کہ شیخ رشید درخواست واپس لینے پر موقف دیں بصورت دیگر ان کی درخواست عدم پیروی پر خارج کی جائے گی۔
عدالت نے اس کے علاوہ سماعت میں دیگر امور پر حکم نامہ لکھواتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تحریک لبیک سے متعلق رپورٹ پیش کی، رپورٹ کے مطابق تحریک لبیک نے کچھ فنڈز فراہم کرنے والوں کی تفصیل مہیا نہیں کی۔
عدالت نے حکم میں لکھوایا کہ یہ حیران کن ہے کہ اس کے باوجود الیکشن کمیشن کو کچھ غیر قانونی نہیں لگا، الیکشن کمیشن نے پندرہ لاکھ کی فنڈنگ کو ’پی نٹ‘ کہا، عدالت نے تحریک لبیک کے اکاونٹس کی سکروٹنی بارے الیکشن کمیشن کی رپورٹ مسترد کردی جس پرکمیشن نے معاملے کا قانون کے مطابق دوبارہ جائزہ لینے کی مہلت مانگی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے تین ماہ کی مہلت مانگی جس پر اسے ایک ماہ کی مہلت دی جاتی ہے، آپ یہ سب الیکشن سے پہلے پہلے کریں۔
عدالتی حکم میں کہا گیا کہ سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم نے بیان حلفی جمع کرایا، بیان حلفی میں ایک انفرادی شخص اور ان کے نامعلوم ماتحت اہلکاروں پر سنگین الزامات عائد کیے۔
حکمنامے میں قراردیا گیا کہ پیمرا وکیل سے پوچھا گیا کہ وہ ابصار عالم کے الزامات پر کیا کہیں گے جس پر پیمرا کے وکیل ایس اے رحمٰن نے کہا انہیں کاپی ہی آج ملی، پیمرا کے وکیل سے پوچھا گیا کہ عملدرآمد رپورٹ میں فیصلے پر عمل کہاں ہے، جس پر انہوں نے کہا وہ اس عدالت کے سامنے دلائل نہیں دینا چاہتے۔
حکمنامے کے مطابق چیئرمین پیمرا سلیم بیگ سے پوچھا گیا کہ نظرثانی کی درخواست کیوں دائر کی جس پر انہوں نے متضاد بیانات دیئے، چیئرمین کی توجہ پیمرا قانون کے سیکشن پانچ کی جانب دلائی گئی۔حکمنامے میں چیئرمین پیمرا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ آپ کی مہر پر نام کے ساتھ بیگ موجود نہیں اور چیف جسٹس کا حکمنامہ میں نام سے ’بیگ‘ کا لفظ ہٹانے کی ہدایت کی۔
حکمنامے میں کہا گیا کہ چیئرمین پیمرا سے پوچھا گیا انہوں نے نظرثانی درخواست کیوں دائر کی، چیئرمین پیمرا نے عدالت کو گمراہ کرنے اور معلومات چھپانے کی کوشش کی۔
عدالت نے فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کے حوالے سے کمیشن کے قیام سے متعلق اٹارنی جنرل سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 15نومبر تک ملتوی کر دی ہے ۔


