خبر نمبر 1

قیاس آرائیاں اور بے یقینی ختم ملک میں عام انتخابات 11 فروری کو ہوں گے 30 نومبر تک حلقہ بندیاں مکمل ہو جائیں گی الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو آگاہ کر دیا الیکشن کمیشن کو صدر مملکت سے مشاورت کا حکم توقع ہے صدر اور الیکشن کمیشن تاریخ پر متفق ہو کر کل عدالت کو آگاہ کریں گے صدر نا بھی بلائیں تو چلے جائیں خود جا کر ان کے دروازے پر دستک دیں صدر کے ملٹری سیکٹری کو فون کر کے ملاقات کا کہیں تحریری طور پر رابطہ کرنے کی ضرورت نہیں چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی ہدایت۔۔۔

خبر نمبر 2

صدر کو انتخابات کی تاریخ کے لیے الیکشن کمیشن کو خط لکھنے میں اتنا وقت کیوں لگا ؟خط کا متن کافی مبہم ہے جس خط میں تاریخ تھی وہ کہاں ہے 90 روز نام انتخابات سے متعلق ہے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کے استفسار کہا صدر کہتے ہیں فلاں سے رائیلی فلاں کا یہ کہنا ہے شاید الیکشن کمیشن بھی خلاف ورزی کر رہا ہوں مگر صدر بڑا ہے۔۔۔

خبر نمبر 3

ہم الیکشن کمیشن کا کردار خود ادا نہیں کریں گے آج ہم نے پی ٹی آئی کے علی ظفر اور فاروق ایچ نائک کو اکٹھا کھڑا کر دیا ایسا نہ ہو کہ کل سرخی لگی ہو کہ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کا اتحاد ہو گیا ہے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کا مکالمہ۔۔۔

خبر نمبر 4

بادی النظر میں حکومت الیکشن کمیشن اور صدر انتخابات میں التوا کی ذمہ دار جسٹس عطہر من اللہ کے ریمارکس کہا الیکشن کمیشن جواب دے صدر کے ساتھ مشاورت سے انکار کیوں کیا؟ جو بھی انتخابات نہیں کرا رہا اس نے آئین کو معطل کر رکھا ہے آئین کو معطل کرنے پر آرٹیکل چھ بھی لگ سکتا ہے۔۔۔

خبر نمبر 5
اور 11 فروری کو عام انتخابات ملکی تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پر الیکشن کمیشن کوشش کرے کہ اب کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو نون لیگ، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، جے یو ائی ف، اور استحکام پاکستان پارٹی کے رہنماں کی سما سے گفتگو الیکشن کی تاریخ کا خیر مقدم۔۔۔