اسلام آباد (ای پی آئی )پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء علی محمد خان نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت اور ملک کے سب سے بڑے لیڈر جن کا امت مسلمہ میں اہم مقام ہے کو پابند سلاسل کردیا گیا ہے اور ان کا جیل میں ٹرائل کیا جارہا ہے جس طرح کسی بڑے دہشت گردوں کو ہوتا ہے
انھوںنے کہا کہ کسی صحافی ،پولیٹیکل کور کمیٹی ممبران تک کو رسائی حاصل نہیں ہے اورجماعت کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی ہے اس وقت ملک میں نو بال پر نوبال ہورہی ہے الیکشن کمیشن کی ذمہ داری اور اس پر فرض ہے کہ وہ پہلے انیبلنگ ماحول بنائے ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اور کے پی کے میں 90دن کی آئینی لیمٹ مکمل ہونے کے باوجود نگران وزرائے اعلیٰ آئین کی کس شق کے تحت کام کررہے ہیں یہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے.
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف آئندہ عام انتخابات کے انعقاد میں کوئی مدد نہیں چاہتی بلکہ ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ تمام جماعتوں کو سیاسی سرگرمیوں کی برابر اجازت ہونی چاہئیے اس جماعت کو الیکشن کی دوڑ سے آؤٹ کرنے کی کوشش کرنا جس نے مرکز میں حکومت بنائی ،کے پی کے میں دو مرتبہ حکومت کی ،پنجاب،گلگت بلتستان میں عوام کی طاقت سے حکومت بنائی ،سندھ میں دیگر بڑی سیاسی جماعتوں کے مقابلہ میں اپوزیشن لیڈر بنا ،
انھوںنے کہا کہ چیئرمین سینٹ ہماری حمایت سے بنا ،بلوچستان میں مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی کو سیاسی میدان سے آئوٹ کرنا کسی صورت بھی درست نہیں ہے الیکشن کمیشن ہمیں سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھے ہوئے ہے میاں نواز شریف لاہور میں جلسہ کررہے اور ہماری ایک کارنر میٹنگ سے ہی خوفزدہ ہوکر نگران حکومت اجازت تک نہیں دے رہی
علی محمد خان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت جو حالات ہیں اس میں فری اینڈ فیئر ازاد شفاف الیکشن کے ایک نقطے پہ ہماری جماعت جو ہے انگیج کر رہی ہے مختلف جماعتوں سے لیکن اس میں الحاق کی بات کوئی نہیں ہے سیاسی کولیشن کی کیونکہ عمران خان نے اس کے بارے میں کوئی حکم ابھی تک نہیں دیا اور ظاہر ہے چیئرمین کے حکم اور ان کی اجازت کے بغیر آپ الیکشن الائنس کی طرف تو نہیں جا سکتے لیکن پولیٹیکل جماعتیں آپس میں الیکشن پہ ضرور بات کر سکتی ہیں اور ہم نے کی ہے کچھ اسٹیک ہولڈرز سے درانی صاحب آئے ہمارے پاس ،سولنگی صاحب دیگر ملاقاتیں ہوئی ہیں
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ملاقات تعزیت کی حد تک تھی کسی بھی جماعت کے ساتھ الائنس عمران خان کی منظوری کے بغیر نہیں ہوگا
انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان ملک کو تباہ کرنے والی اور ملکی اداروں کو تباہ کرنے والی جماعتوں کے ساتھ کبھی بھی الائنس نہیں بنائیں گے کیوں کہ اگر ہم ایسا کریں گے تو پھر پی ٹی آئی بنانے کی ضرورت ہی نہیں تھی انہوں نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ حالت کے کے ذمہ دار صرف سیاستدان نہیں ہیں گزشتہ 76سالوں میں جتنی حکومتیں سویلینز نے کی ہیں اتنی ہی ملٹری ڈکٹیٹرشپ بھی آئی ہیں اور جب سویلین حکومتی آئی ہیں وہ کتنی آزاد تھی وہ سب پتہ ہے اور جو سویلین گورنمنٹس میں لوگ آئے انہوں نے جتنا مال بنایا وہ ایک علیحدہ چیپٹر ہے کسی کے ایون فیلڈ ہیں کسی کے سوئس اکائونٹس ہیں کسی کے سر محل سیاست دانوں نے بھی کچھ نہیں چھوڑ
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان کی حکومت کاکڑ صاحب کے پاس ہے لیکن اس وقت جو بھی وہ فیصلے لے رہے ہیں وہ ان کے فیصلے تو ہو سکتے ہیں عوام کے نہیں ہیں کیونکہ عوام کا مینڈیٹ اس حکومت کے پاس نہیں ہے جو حکومت آئے گی وہ جب سخت فیصلیلے گی عوام ان کے ساتھ اس لیے کھڑی ہوگی کہ عوام نے ووٹ دیا ہوگا باقی ایک بات اپنی میں ضرور کرنا چاہوں گا اپنی جماعت کی ہمیں یہ کہا گیا طعنہ دیا گیا کہ آپ کے پاس یعنی آپ کے پاس پلان نہیں تھا اسد عمر صاحب کی بات ہوئی یہ ہوا وہ ہوا پہلی بات تو یہ ہے میں میاں نواز شریف صاحب کو ڈائریکٹ مخاطب کر کے بات کرنا چاہ رہا ہوں کہ انہوں نے مینار پاکستان سے بات کی کہ میرے دور میں یہ تھا آپ کے دور میں آپ کا دور آپ کے دور میں پاکستان کوریا بن گیا تھا یا جو ہے آپ کے دور میں جاپان بن گیا تھا میں ایکسیپٹ کرتا ہوں بن گیا تھا آپ مجھے یہ بتائیں کہ اتنا اگر خزانہ بھرا ہوا تھا تو حکومت کے آنے کی پہلے مہینے میں ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانے کی باتیں کیوں کرنی پڑیں اس کا مطلب ہے کہ خزانہ خالی پڑا ہوا تھا
انہوں نے الیکشن کے حوالہ سے گفتگو کے دوران کہا کہ اگر اس طرح کی صورتحال ہوگی جیسے ابھی ہے کہ ملک کا سب سے بڑا لیڈر جو ہے وہ غداری کے مقدمے آپ نے اندر کیا ہوا ہے تو پھر آزاد اور شفاف انتخابات کا انعقاد کیسے ممکن ہوسکتا ہے
ان کا کہنا تھا کہ نہ عمران خان غدارہو سکتے ہیں نہ زرداری صاحب نہ میاں صاحب نہ میں نہ آپ ہم سبمحب وطن ہیں آئیں بات کریں اس ملک کو اس مشکل سے نکالیں ایک دوسرے کو غدار غدار نہ کریں الیکشن کی طرف جائیں ماحول بنائیں اور ایک دوسرے کواختیار دیں کہ وہ جا کے ملک کے لیے مضبوط فیصلے کریں اور اس کے ساتھ ملکی تمام طاقتیں کھڑی ہوں


