خبرنمبر1

صدر سے ملنے سے انکار نہیں کیا، ملاقات نہ کرنے کا فیصلہ کمیشن کا تھا، ہم نے سپریم کورٹ اور صدر کو خط میں 11 فروری کی تاریخ دی تھی ، پھر متفقہ فیصلہ ہوا، انتخابات 8 تاریخ کو ہوں گے ، ہر کوئی شفاف الیکشن کا کہتا ہے پھر مداخلت بھی کی جاتی ہے ، انتخابات میں فوج ہماری مدد کرے گی، نگران حکومت بنانا الیکشن کمیشن کا کام نہیں ، لیکن چیک کرنا ہمارا کام ہے ۔ پہلے بھی فروری میں الیکشن ہوتے رہے ہیں، سکندر سلطان راجہ کی صحافیوں سے گفتگو

خبرنمبر2

پاکستان میں 1997میں بھی عام انتخابات فروری کے مہینے میں ہوئے تھے ، ملک بھر میں 3فروری کو پولنگ ہوئی ، نوازشریف کی قیادت میں مسلم لیگ ن نے دو تہائی اکثریت حاصل کی ۔ وفاق پنجاب اور اس وقت کے صوبائی سرحد میں ن لیگ نے حکومت بنائی ۔ عام انتخابات میں ٹرن آئوٹ 36فیصد رہا تھا۔ وزیراعظم کا انتخاب 1997کو ہوا، نوازشریف قومی اسمبلی سے 177ووٹ حاصل کر کے دوسری بار وزیراعظم منتخب ہوئے تھے ۔

خبرنمبر3

عدم اعتماد لانے سے پہلے کہا تھا، فوری الیکشن کرائو ، ملک کو دوبارہ اٹھانا مشکل ہوگا، ہمارے سیاسی زعما کہتے تھے 6 ماہ میں حالات بہتر کر دیں گے ، دوستوں کی رائے تھی اس لیے ساتھ چلنا پڑا، انتخابات غیر یقینی صورتحال میں ہونگے ، خدا کرے وقت پر ہوجائیں ۔ 2018کے جعلی انتخابات ہوئے جن کے جعلی نتائج آئے ، ہم 2018سے اسرائیلی ایجنٹ کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں ۔ معذرت خواہانہ سیاست کا دور ختم ہو چکا ، اب آمنا سامنا ہوگا، جے یو آئی ف کے صدر مولانا فضل الرحمان کا کراچی میں امن مارچ سے خطاب

خبرنمبر4

سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں درخواست ضمانت دائرکر دی ، وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ، کیس چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سیاسی مقدمات کی کڑی ہے ۔ سائفر کیس اور فارن فنڈنگ کیس ایف آئی اے کی بدنیتی کو ظاہر کرتے ہیں ۔ عدالت سے چیئرمین پی ٹی آئی کو مقدمے میں ضمانت پر رہا کرنے کی استدعا

خبرنمبر5

اسرائیل کے اسپتالوں ، اسکولوں اور پناہ گزین کیمپس پر حملے ، اسرائیلی مظالم انتہا کو پہنچ گئے ۔ صیہونی فورسز نے جبالیہ کے بعد البریج کیمپ پر بھی بم برسا دئیے ، جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر لگا رتار تیسرے روز بھی حملے ، شہدا کی تعداد200ہو گئی ، مغربی کنارے میں بارودی سرنگوں سے متعدد فلسطینی شہید،

خبرنمبر6

بے رحم اسرائیلی فوجیوں کی بربریت جاری، بمباری میں مزید 300فلسطینی شہید، غزہ کے القدس اسپتال کے قریب بھی بمباری ، ہر طرف لاشیں ، ملبے کے ڈھیر ، شہید فلسطینیوں کی تعداد 9ہزار سے تجاوز کر گئی ۔ شہدا میں 3700سے زائد بچے ، 2326خواتین بھی شامل ۔ 32ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ، حماس ہتھیار ڈالے یا مرنے کے لیے تیار رہے ، اسرائیلی وزیر دفاع کی ایک اور دھمکی ، کہا فلسطینیوں کے پاس اب تیسراکوئی آپشن نہیں بچا،۔