خبرنمبر1

انتخابات انشاء اللہ 8فروری کو ہوں گے، وفاقی حکومت انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے ، سپریم کورٹ کا حکم، اس تاریخ پر الیکشن ہونے چاہیں جس پر اتفاق ہوا، اٹارنی جنرل کو انتخابات کرانے پر کوئی اعتراض نہیں ، تمام ضروریات پوری ہونے کے بعد الیکشن کمیشن انتخابی شیڈول کا اعلان کرے ۔ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے قومی اسمبلی وزیراعظم کی ایڈوائس پر تحلیل کی گئی ۔ یہ اس وقت ہوا جب وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد آئی ، وزیراعظم کو قومی اسمبلی تحلیل کرنےکا اختیار نہیں تھا، وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کرکے آئینی بحران پیدا کر دیا۔ انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کرنے پر پورا ملک تشویش کاشکار ہوا، الیکشن کمیشن اور صدر آئین کے پابند ہیں ، ہم صدر اور الیکشن کمیشن کے اختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتے ، فیصلے کا متن ، سپریم کورٹ نے انتخابات کے حوالے سے تمام درخواستیں نمٹا دیں۔

خبرنمبر2

الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں کے بعد الیکشن شیڈول جاری کرے گا۔ میڈیا کو الیکشن پر منفی کردارادا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ، آزاد میڈیا ہے ہم ان کو بھی دیکھ لیں گےاگر میڈیا نے شکوک و شبہات پیدا کئے تووہ بھی آئین کیخلاف ورزی ہو گی ۔ میڈیا پر انتخابات کے حوالے سے مایوسی پھیلانے پر اٹارنی جنرل پیمرا کے ذریعہ کارروائی کریں ، اگر کسی سے فیصلے نہیں ہو پا رہے تو وہ گھر چلا جائے ۔ چیف جسٹس نے خدشے کا لفظ استعمال کرنےسے روک دیا، علی ظفرکا پتھر پر لکیر ولا جملہ بھی حکم نامے میں لکھوا دیں۔

خبرنمبر3

پی ٹی آئی کے وکیل نے صدر کا الیکشن کمیشن کو لکھا گیا خط دکھایا، خط میں صدر نے کمیشن کو سیاسی جماعتوں اور صوبوں سے مشاورت کا کہا، صدر نے لکھا الیکشن کمیشن صوبائی حکومتوں سے مشاورت کر کے تاریخ کا اعلان کرے ۔ صدر کے اس خط پر الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ صدر مملکت کو رائے چاہیے تھی تو آرٹیکل186کے تحت لے سکتے تھے ۔ الیکشن کمیشن اور صدر آئین کے پابند ہیں ، آئین کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج ہوتے ہیں ، حکم نامےکا متن

خبرنمبر4

عام انتخابات کی تاریخ فائنل، الیکشن کمیشن نے 8فروری کو عام انتخابات کا نوٹیفکشین جاری کر دیا، قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے پولنگ کے لیے 8فروری کا دن مقرر، الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن میں سپریم کورٹ کی سماعت اور احکامات کا بھی حوالہ

خبرنمبر5

انتظار میں ہوں الیکشن ہوں اور نئی پارلیمنٹ وجود میں آئے ، آج خوشی کا دن ہے ہمیں مستقبل کو دیکھنا چاہیے ، ہم چاہتے ہیں ای سی پی آنے والے وقت میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے ، خوشی ہے تمام سیاسی جماعتیں ملک میں انتخابات چاہتی ہیں ، اب قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی روز ہوں گے ۔ تمام مسائل کا حل الیکشن ہیں ، بیرسٹر علی ظفر کی میڈیا
ٹاک

خبرنمبر6

آئین کاغذوں میں موجود لیکن عملی طورپر معطل ہو چکا ، دو سے تین ماہ بعد نگران سیٹ اپ غیر آئینی ہوجاتا ہے ، صدر کی تاریخ تجویز کرنے کے باوجود الیکشن نہیں ہوئے ، 8 فروری کی تاریخ تجویز ہوئی مگر کیا الیکشن ہوں گے ؟تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین کی میڈیا ٹاک

خبرنمبر7

معیشت میںبہتری کے ثمرات ، اسٹاک مارکیٹ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ، 100انڈیکس 53ہزار263پوائنٹس کی سطح تک گیا۔ اس سے قبل مئی 2017میں انڈیکس 53ہزار127کی سطح تک پہنچا تھا ۔ انٹر بینک میں ڈالر 57پیسے مہنگا، 284روپے پر ٹریڈ،