خبرنمبر1

آئی ایم ایف نے جون 2024تک 6670 ارب ٹیکس وصولی کا پلان دیاجائے ، کہا کس سیکٹرسے کتنا ٹیکس وصول کیاجارہا ہے؟تفصیلات دی جائیں، ایف بی آر ریونیو اہداف میں شارٹ فال نہیں کرے گا۔ زیر التوا ٹیکس کیسز میں پیشرفت پر ہیر کو رپورٹ طلب کر لی گئی ۔

خبرنمبر2

غیر قانونی مقیم غیرملکیوں کی ملک بدری، چمن اور طور خم بارڈر سے روزانہ ہزاروں افراد کی واپسی،گزشتہ روز 12 ہزار 500غیر ملکی واپس چلے گئے، اب تک 1لاکھ 75 ہزار سے زائد غیر قانونی مقیم غیر ملکی واپس جا چکے ۔

خبرنمبر3

پی ٹی آئی رہنما اسدقیصر کی عدالت میں پیشی، پولیس کی اسد قیصر کے جوڈیشل ریمانڈ کی استدعا، اسد قیصر کو کرپشن کیس میں گرفتار کیا گیا، ایس ایچ او، اسد قیصر کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے ، وکیل۔ کسی مقدمے میں گرفتار کرنے کا اختیار کس نے دیا؟جج نے کہا یہ عدالت اسد قیصر کی ضمانت نہیں دے سکتی۔

خبرنمبر4

تحریک انصاف کو قانون کے تحت جلسوں کی اجازت ہے، پی ٹی آئی قانونی حق استعمال کر کے انتخابی مہم چلا سکتی ہے ، کسی ایک جماعت کو اس کے سیاسی حق سے دور نہیں کیا جا سکتا، پشاور ہائیکورٹ نے 12صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ نگران حکومت کو شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے اقدامات کی ہدایت، لکھا پی ٹی آئی جلسے کے لیے پہلے انتظامیہ سے اجازت لے ، انتظامیہ قانون اور الیکشن ایکٹ کے مطابق جلسے کی اجازت دے ۔

خبرنمبر5

جو وزیراعظم کا ووٹ مانگے اس سے وزارت نہیں آئینی ترمیم کا کہیں گے ، اگر اختیارات نچلی سطح پر منتقلی کی بات نہ ہو تو کوئی اتحاد نہیںہوگا،ایم کیو ایم کے رہنما مصطفی کمال کہتے ہیں 18ویں ترمیم کے بعد ملک کو بہت نقصان پہنچا،ا تنا آج تک نہیں ہوا۔ ایسی ترمیم نہیں مانتے ۔

خبرنمبر6

پیمرا نے عام انتخابات کی کوریج کے لیے میڈیا کو ہدایت جاری کر دی، تمام میڈیا چینلز پیمرا قوانین کی پابندی یقینی بنائیں۔ عوامی رائے کی تشکیل جمہوری عمل کو مضبوط کرنا میڈیا کا کام ہے ۔ الیکشن نشریات میں تمام حقائق کو مدنظر رکھیں۔ ایسی خبر نشر نہ ہوجس سے عوام کے ذہنوں میں شکوک جنم لیں۔ کسی منفی یا غلط خبر سے الیکشن سبوتاژ نہیں ہونے چاہییں، ایسی کوئی خبر نشر کرنا پیمرا قوانین کی خلاف ورزی ہوگی۔

خبرنمبر7

پی آئی اے کی نجکاری کیخلاف درخواست کا تحریری حکم نامہ جاری، عدالت نے کہا فریقین 30نومبر کو درخواست پر جواب داخل کریں ، اٹارنی جنرل کو معاونت کے لیے نوٹس جاری کیا جاتا ہے ۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ نگران حکومت کو روز مرہ امور چلانے کا اختیار ہے ، نگران حکومت کو پی آئی اے کی نجکاری کااختیار نہیں،