الیکشن تاریخ پتھر پر لکیر اور اہلیت کا خمیر
نیوز بیٹ
پارس جہانزیب کے ساتھ

دیر بہت کر دی مگر آئے تو ہو
واسطے ہمارے نوید صبح تم لائے تو ہو

بھلے دیر ہی صحیح لیکن قوم کو مبارک ہو کے الیکشن کی تاریخ آگئی صدر مملکت الیکشن کمیشن اور پاکستان کے اعلیٰ ترین انصاف کے ادارے کا شکریہ کہ سب نے مل کے اس قوم پر احسان کر دیا اور آٹھ فروری کی تاریخ عام انتخابات کے لیے سامنے آگئی چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کا شکریہ کہ انہوں نے اس اہم سیاسی مسئلے کا حل دو سماعتوں میں ہی نکال کر ملک میں جاری سیاسی حجان کا خاتمہ کر دیا

چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کا شکریہ کہ انہوں نے چیف الیکشن کمیشن کو ان کی ذاتی انا سے بالاتر ہو کر ان کے آئینی فرائض اتنی آسانی سے یاد کرا دئیے

چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کا شکریہ کہ انہوں نے صدر پاکستان کو بھی نیند سے جاگتے ہوئے بتایا کہ الیکشن کی تاریخ دینا انہی کا اختیار تھا لیکن انہوں نے یہ اختیار استعمال نہ کر کے آئین کیخاف ورزی کی ہے

چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن اور صدر کی مشاورت سامنے آنے والی متفقہ تاریخ پر پولنگ کو پتھر پر لکیر قرار دے کر ہر پاکستانی شہری اور پارلیمانی جمہوریت پر یقین رکھنے والے ووٹر کو سسٹم پر اعتماد اور امید کی روشنی دکھائی ہے
چیف جسٹس صاحب اس ملک میں ویسے تو بہت کچھ ایسا ہے جس میں پتھر پر لکیر والے حل کی ضرورت ہے لیکن آنے والے الیکشن کے حوالے سے بھی بہت کچھ اسی پتھر کی لکیر کا تقاضہ کر رہا ہے
چیف جسٹس صاحب الیکشن کی تاریخ آگئی تو ہمیں ماضی کے بجائے آگے ہی بڑھنا چاہیے لیکن 90 دن سے اگے الیکشن لے جا کر آئین کے خلاف ورزی تو ہوئی ہے
کیا ہی اچھا ہو کہ اپ آئین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی نشاندہی اور ممکن ہو تو سزا کا حکم سنا کر اس معاملے میں بھی پتھر پر لکیر کھینچ دیں
الیکشن سے پہلے ایک کے علاوہ تمام سیاسی جماعتیں لیول پلینگ فیلڈ نہ ملنے کی شکایت کر رہی ہیں
چیف جسٹس صاحب جیسے آپ نے الیکشن کی تاریخ کا مسئلہ حل کیا ہے ویسے ہی سب کے لیے لیول پلینگ فیلڈ یقینی بنانا ہر سیاسی جماعت کو ایک جیسے مواقع ایک جیسی سہولتیں اور ووٹرز تک مہم چلانے کے فیئر چانس کی فراہمی میں بھی پتھر پر لکیر کھینچ دیں
ہمارے ملک میں کوئی بھی الیکشن کبھی شفاف نہیں ہوا چیف جسٹس صاحب آپ اس ملک میں آئین پر عمل اس کے محافظ اور پارلیمانی بالادستی پر یقین رکھنے والے مسیحا کے طور پہ سامنے آئے ہیں تو اس الیکشن کو شفاف بنانے کے لیے بھی پتھر پر ایسی لکیر کھینچ دیں کہ کوئی چاہتے ہوئے بھی پری پول دھاندلی کرنے کی جرات اور ہمت نہ کر سکے
کوئی نگران حکومت انتظامی اور سرکاری مشینری کو کسی امیدوار یا جماعت کے حق میں استعمال نہ کر سکے
کوئی پولیس اہلکار کوئی بیوروکریٹ کوئی ریٹرننگ افیسر اپنے اختیارات سے تجاوز نہ کر سکے
پتھر پر ایسی لکیر کھینچ دیں کہ الیکشن والے دن جلعسازی کا دروازہ بند ہو جائے جان بوجھ کر کسی جگہ پولنگ نہ روکی جائے اور نہ تیز کی جائے
پتھر پہ کوئی ایسی لکیر کھینچ دیں کہ نتائج کے وقت کوئی آر ٹی ایس نہ بٹھا سکے کوئی اس الیکشن کو آراوزس کا الیکشن نہ کہہ سکے
ہارنے والے بھی الیکشن کے نتائج کو دھاندلی زدہ نہ کہہ سکیں
جیت کرآنے والی پارٹی کو کوئی بھی کنگز پارٹی نہ کہہ سکے
کوئی کسی کو لاڈلا نہ کہہ سکے ا
ور کوئی پتھر پر ایسی لکیر کھینچ دیں
کہ الیکشن اتنے شفاف ہوں کہ جیت کرآنے والے کسی وزیراعظم کو بھی سلیکٹڈ سلیکٹڈ نہ کہہ سکیں
چیف جسٹس صاحب اپ نے الیکشن تاریخ کے فائنل ہونے پر تو پتھر کی لکیر کھینچ دی ہے
کیا الیکشن سے جڑے ان مسائل پر بھی پتھر پر لکیر کھینچی جا سکتی ہیں؟؟؟؟