چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سائفر کیس میں ضمانت کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا
اسلام آباد (عابد علی آرائیں ) بیرسٹر سلمان صفدر کے توسط سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی آئینی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہے۔ 19 صفحات پر مشتمل درخواست میں 16 اکتوبر 2023 کو محفوظ کیا گیا وہ فیصلہ بھی ساتھ منسلک کیا گیا ہے جو 27 اکتوبر کو سنایا گیا تھا۔ درخواست میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت کی طرف سے 14 ستمبر 2023 کو ضمانت منسوخی کا سنایا گیا فیصلہ بھی ساتھ شامل کیا گیا ہے۔
درخواست میں وفاقی سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر کی طرف سے 15 اگست کو درج کی گئی ایف آئی آر بھی شامل کی گئی ہے۔ جس میں 4 ملزمان نامزد کئے گئے جن میں عمران احمد خان نیازی، شاہ محمود قریشی، اسد عمر اور اعظم خان کے نام شامل ہیں۔ درخواست میں وقوعہ کی تاریخ 7 مارچ سے 28 مارچ 2022 تک درج کی گئی ہے۔
درخواست میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان کو 15 اگست 2023 کو گرفتار کیا گیا۔ 16 اگست کو عمران خان کو جسمانی ریمانڈ کے لئے عدالت میں پیش کیا گیا لیکن خصوصی عدالت نے جسمانی ریمانڈ دینے سے انکار کر دیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ 16 اگست سے اب تک عمران خان سے کوئی چیز بھی برآمد نہیں کی گئی اور نہ ہی عدالت کی طرف سے جسمانی ریمانڈ سے انکار کا حکم چیلنج کیا گیا۔
استغاثہ کا کیس بتاتے ہوئے درخواست میں ایف آئی آر کا متن شامل کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی سیکرٹری داخلہ نے یہ شکایت درج کرائی جس میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی شق 5 اور 9 جب کہ مجموعہ ضابطہ فوجداری کی شق 34 لگائی گئی ہے۔
ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ 5 اکتوبر 2022 کو ایف آئی اے کی انسداد دہشت گردی ونگ نے انکوائری مکمل کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سابق وزیراعظم عمران احمد خان نیازی، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کے 3 معاونین امریکہ سے 7 مارچ 2022 کو وصول ہونے والے سائفر کی معلومات غیر متعلقہ شخصیات کو اور عوام کو پہنچانے میں ملوث رہے ہیں اور یہ کام انہوں نے حقائق کو مسخ کرتے ہوئے اس لئے کیا کہ وہ اپنے مذموم مقاصد اور ذاتی فوائد حاصل کرنا چاہتے تھے اور اس مقصد کے لئے انہوں نے ریاستی سیکورٹی کو داؤ پر لگایا۔ انہوں نے 28 مارچ 2022کو بنی گالہ میں سازش کرنے کے لئے اجلاس منعقد کیا تاکہ اپنے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے سائفر کے مندرجات کا غلط استعمال کیا جا سکے۔ ملزم عمران خان نے بدنیتی سے اپنے سابق سپیشل سیکرٹری محمد اعظم خان کو ہدایت کی کہ اس اجلاس کے منٹس تیار کریں جس میں سائفر پیغام کے متن کو مسخ کر کے پیش کیا جائے۔ یہ سارا کام انہوں نے ملکی سلامتی کی قیمت پر صرف اپنے مفادات حاصل کرنے کے لئے کیا۔
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے جان بوجھ کر سائفر کی کاپی اپنے پاس رکھی اور بدنیتی کے ساتھ وزارت داخلہ کو واپس نہیں بھجوائی ۔ ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا کہ خفیہ دستاویز سائفر کی کاپی ابھی تک عمران خان کی تحویل میں ہے۔ ملزمان نے سائفر کو اپنی تحویل میں رکھ کر اور اس کا غلط استعمال کر کے ریاست کے مکمل سائفر سیکورٹی نظام پر کمپرومائز کیا ہے اور بیرون ملک پاکستانی مشنز کے درمیان ہونے والے خفیہ معلوماتی تبادلے کے عمل کو نقصان پہنچایا ہے۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزمان کی طرف سے اٹھائے گئے ان اقدامات کی وجہ سے غیر ملکی طاقتوں کو ڈائریکٹ یا ان ڈائریکٹ فائدہ ہوا اور ریاست پاکستان کو بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔ انکوائری میں کہا گیا ہے کہ مجاز اتھارٹی نے مقدمہ درج کرنے کی اجازت دی ہے اس لئے ایف آئی اے کے انسداد دہشت گردی ونگ کے خانے میں بادی النظر میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سابق وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے سائفر کا غلط استعمال کیا۔ انکوائری میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم کے سابق سیکرٹری اعظم خان اور سابق وفاقی وزیر اسد عمر سمیت دیگر ایسویسی ایٹس کا کردار انویسٹی گیشن میں دیکھا جائے گا۔
تفتیشی نے ایف آئی آر میں لکھا ہے کہ وہ اس کیس کی تفتیش کریں گے اور ایف آئی آر کی کاپیاں متعلقہ دفاتر کو بھجوائی گئی ہیں۔
پیراگراف نمبر 1
آئین کے آرٹیکل 185( 3) کے تحت دائر اپیل میں عمران خان نے ریاست کو بذریعہ پراسیکوٹر جنرل اسلام آباد اور وفاقی سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر کو فریق بنایا ہے۔ درخواست میں 15 قانونی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عدالت ان سوالات کا جائزہ لے۔
سوال نمبر 1: کیا ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ سائفر کیس کا اس پہلو سے جائزہ لینے میں ناکام رہی ہیں کہ کیا سابق وزیر اعظم پاکستان کے خلاف دائر یہ کیس سیاسی طور پر بنائے گئے کیسز کی سیریز میں ایک اوراضافہ نہیں ہے؟
سوال نمبر 2: کیا اس کیس میں وزارت داخلہ کے ماتحت کام کرنے والی تفتیشی ایجنسی ایف آئی اے بدنیتی اور مذموم مقصد حاصل کرنے کے لئے اپنے اختیارات استعمال نہیں کر رہی؟
سوال نمبر 3: کیا ایف آئی اے کی طرف سے فارن فنڈنگ کیس سمیت دیگر مقدمات میں بار بار پراسیکیوٹ کرنے کی کوششیں یہ ظاہر نہیں کرتیں کہ درخواست گزار کو اس کیس میں بھی بدنیتی اور مذموم مقاصد کے لئے ملوث کیا جا رہا ہے؟
سوال نمبر4: کیا 10 ماہ کی تاخیر سے فوجداری کیس داخل کرنا درست ہے اور کیا تاخیر سے انکوائری نمبر 111 شروع کرنا استغاثہ کے لئے نقصان دہ نہیں ہوتا؟
سوال نمبر5: کیا ایف آئی آر کا اندراج اور ایف آئی اے کے دائرہ اختیار پر سوال نہیں اٹھتا؟ کیونکہ آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی شق 12 سی کے تحت اس شکایت کی وجہ اور ساکھ نہیں ہے۔
سوال نمبر6: کیا وزارت داخلہ نے وفاقی وزارت خارجہ کو سائفر معاملے سے باہر کرکے صرف درخواست گزار کا کردار ثابت نہیں کیا ؟ کیا وزیر داخلہ جس کے ماتحت ایف آئی اے کام کرتی ہے وہ عمران خان کا سیاسی مخالف نہیں تھا؟
سوال نمبر7: کیا اسلام آباد ہائی کورٹ کے فاضل جج یہ بات سمجھنے اور پرکھنے میں ناکام نہیں رہے کہ درخواست گزار نے بطور وزیراعظم پاکستان اپنے حلف کی خلاف ورزی نہیں کی اور انہیں آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنی بھی حاصل ہے؟
سوال نمبر 8: کیا ماتحت عدالتیں 100 سالہ پرانے قانون کو سمجھنے میں یکسر ناکام نہیں رہیں یہ قانون مسلح افواج کے اندر ہونے والی خلاف ورزیوں سے متعلق تھا جس کے دائرہ کار میں جاسوسی ، مخبری اور دشمن ریاستوں سے تعاون کے جرائم آتے ہیں۔
سوال نمبر 9: کیا ماتحت عدالتوں نے اس پہلو کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا کہ مقدمے کے حقائق اور ریکارڈ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس ایکشن سے قومی سلامتی کو کوئی نقصان اور کسی دشمن ریاست کو کوئی فائدہ نہیں ہوا؟
سوال نمبر 10: کیا آفیشل سیکرٹس ایکٹ 1923 کی شق 2 میں دی گئی تاریخوں کو پڑھنے سے واضح نہیں ہوتا کہ اس کیس میں یہ خصوصی قانون لاگو ہی نہیں ہو سکتا؟
سوال نمبر 11: کیا ماتحت عدالتوں نے عمران خان کی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت مسترد کر کے ضمانت دینے کے اصولوں کی خلاف ورزی نہیں کی؟
سوال نمبر 12: کیا ایف آئی اے کی طرف سے 2 شریک ملزمان کو مقدمے سے الگ کر کے ایک کو عمران خان کے خلاف گواہ بنانا وہ مضبوط بنیاد نہیں ہے جس کی بنا پر عمران خان کو ضمانت بعد از گرفتاری دی جائے؟
سوال نمبر 13: کیا سائفر کی برآمدگی نا ہونے کے باوجود ٹرائل کورٹ کی طرف سے جسمانی ریمانڈ نہ دینا یہ ظاہر نہیں کرتا کہ اس معاملے میں مزید انکوائری کی ضرورت ہے؟ کیا اسی بنیاد پر عمران خان کو ضمانت پر رہا نہیں کیا جا سکتا؟
سوال نمبر 14: کیا کابینہ کی میٹنگ میں سائفر کو ڈی کلاسیفائی کرنا اور قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کی تفصیلات کو عدالت سے چھپانے سے استغاثہ کی بدنیتی ظاہر نہیں ہوتی؟ استغاثہ کی طرف سے اتنی اہم شہادت چھپانہ بددیانتی نہیں ہے؟
سوال نمبر 15: کیا فاضل ہائی کورٹ نے درخواست گزار کے خلاف تعصب پر مبنی ٹرائل کورٹ کے حکم کو ضرورت سے زیادہ گہرائی سے نہیں دیکھا؟
کیس کے حقائق
کیس کے حقائق بتاتے ہوئے درخواست میں ایف آئی آر کا متن اور درخواست گزار سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے 15 اگست کو مقدمہ درج کرایا۔
حقائق میں بتایا گیا ہے کہ درخواست گزار کا شمار ملک کے چند ایماندار اور معزز سیاستدانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے قومی اور عالمی سطح پر ملکی وقار کو بلند کیا۔ بطور 22ویں وزیراعظم پاکستان ان کو ملنے والے مینڈیٹ اور عوامی سپورٹ کی وجہ سے پرانی سیاسی طاقتوں کو خطرات لاحق ہو گئے ۔ اپریل 2022 میں ایک منصوبے کے تحت درخواست گزار کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ اس کے بعد وفاقی حکومت کا کنٹرول سنبھالنے والوں نے سیاسی مخالفین کے خلاف اقدامات اٹھانے شروع کئے اسی طرح درخواست گزار اور اس کی پارٹی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا یہ بھی اسی نوعیت کا مقدمہ ہے ۔
درخواست میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے نہ صرف عمران خان بلکہ اس کی اتحادیوں اور اتحادی جماعتوں کو نشانہ بنایا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس عدالت کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ عمران خان کو اسلام آباد میں کام کرنے والی کریمنل مشینری کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سابق وزیراعظم ملک کی سب سے بڑی جماعت پی ٹی آئی کے سربراہ بھی ہیں ان کے خلاف تقریبا 200 فوجداری مقدمات قائم کئے گئے ہیں جن میں دہشت گردی، بغاوت، ممنوعہ فنڈنگ، توشہ خانہ، میڈیا پر بات چیت، تقاریر، تشدد اور ریاست کے خلاف فوجداری سازشوں کے الزامات شامل ہیں۔ یہ تمام مقدمات سیاسی انتقام کے ایجنڈہ کے تحت بنائے گئے ہیں تاکہ درخواست گزار کو سیاسی طور پر تنہا کیا جا سکے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ بدقسمتی سے دلخراش ٹرینڈ سامنے آیا ہے جس میں ریاستی مشینری اختیارات کاغلط استعمال کر رہی ہے۔ اور خودساختہ جھوٹے مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔ سائفر کیس بھی اس مذموم مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد عمران خان کو سبق سکھانا ہے۔
درخواست میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان کو 15 اگست کو اسی روز گرفتار کیا جس روز مقدمہ درج کیا گیا تھا حالانکہ وہ توشہ خانہ کیس میں دی گئی سزا کے نتیجے میں ڈسٹرکٹ جیل اٹک میں موجود تھے۔ 16 اگست کو ایف آئی اے سپیشل جج کے سامنے پیش ہوئے اور 14 روزہ جسمانی ریمانڈ مانگا لیکن ان کی استدعا مسترد کر دی گئی اور کہا گیا کہ 30 اگست کو عمران خان کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔ اس دوران عمران خان کی طرف سے بعد از گرفتاری کی درخواست خصوصی عدالت میں دائر کی گئی جو 14 ستمبر 2023 کو مسترد کر دی گئی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ میں کیس کے میرٹس کا جائزہ نہیں لیا حالانکہ کہ استغاثہ کے بیانیئے میں بے شمار تضادات پائے جاتے تھے۔ بے بنیاد الزامات پرٹرائل کورٹ کی طر ف سے درخواست ضمانت مسترد کی گئی ۔
ٹرائل کورٹ کے فیصلے سے متاثر ہو کر درخواست گزار نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے 16 اگست کو محفوظ کیا گیا فیصلہ 27 اگست کو سنا کر درخواست ضمانت مسترد کر دی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے متنازعہ تین پیراگراف کو اس درخواست ضمانت میں شامل کیا گیا ہے جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 5 کے تحت جرم کی سزا موت یا 14 سال قید ہے اس وجہ سے فوجداری قانون کی دفعہ 497 عائد ہوتی ہے اس لئے یہ معاملہ مزید انکوائری کا نہیں ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ عمران خان پر لگائے گئے الزامات سنگین اور بادی النظر میں ملزم کے جرم کے ساتھ لنک ہوتے ہیں اس لئے آفیشل سیکرٹس ایکٹ کے مقدمے میں ضمانت مسترد کی جاتی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں ایف آئی آر ختم کرنے اور ضمانت کی درخواستوں کو خلاف میرٹ قرار دیتے ہوئے خارج کیا تھا۔
عمران خان کی طرف سے مؤقف اپنایا گیا ہے کہ دونوں عدالتوں کے مقدمات سے متاثر ہوں اس لئے سپریم کورٹ ضمانت بعد از گرفتاری کے اس معاملے میں مداخلت کر ے۔
وجوہات
درخواست ضمانت میں 20 گراؤنڈز دئیے گئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ضمانت کے مقدمے میں معاملے کا تفصیلی موازنہ کیا ہے جو کہ ضمانت کے معاملے میں نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ضمانت کی درخواست پر 4 دن اور 10 گھنٹے طویل دلائل سنے گئے جس کی وجہ سے سماعت میں بھی تاخیر ہوئی اور ضمانت منسوخی کا حکم بھی غیر معمولی تاخیر سے جاری ہوا۔
سیکرٹری داخلہ کی طرف سے ایف آئی آر کا اندراج اور ایف آئی اے کی طرف سے اس کی تحقیقات عمران خان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی ایک اور مثال ہے اسی طرح یہ کریمنل جسٹس سسٹم کا غلط استعمال بھی ہے جو سیاسی مخالفین کی ہدایات پر کیا جا رہا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ سائفر ٹیلی گرام کا معاملہ وزارت خارجہ سے متعلقہ ہے۔ وزارت خارجہ کو اس معاملے سے دور رکھتے ہوئے وزارت داخلہ نے یہ مقدمہ درج کرایا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزارت خارجہ کا حق دعوی وزارت داخلہ نے ہائی جیک کر لیا ہے جو براہ راست ایف آئی اے کو کنٹرول کرتی ہے اس طرح وزارت داخلہ نے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ صرف اسی قابل اعتراض قابل کنڈکٹ پر عمران خان کو ضمانت دی جا سکتی ہے۔
عمران خان کے خلاف ایف آئی اے کے کنڈکٹ میں آزادی اور شفافیت نہیں ہے اس سے پہلے فارن فنڈنگ سمیت متعدد مقدمات دائر کئے گئے عمران خان نے فارن فنڈنگ کیس میں بھی بینکنگ کورٹ سے ضمانت حاصل کر رکھی ہے۔ بار بار ایف آئی اے کی طرف سے عمران خان کو پراسیکیوٹ کرنے کی کوششیں بھی ایف آئی اے کی جانبداری کو مشکوک بناتی ہیں۔
مقدمے کا تاخیر سے اندراج بھی معاملے کو مشتبہ بناتا ہے کیونکہ ایک طویل عرصے کی مشاورت کے بعد یہ مقدمہ درج کیا گیا ہے مبینہ واقعہ 7 مارچ 2022 سے 28 مارچ 2022 کے درمیان ہوا تاہم 15 اگست 2023 کو 17 ماہ بعد یہ مقدمہ درج کیا گیا اتنی تاخیر مذموم مقاصد ظاہر کرتی ہے جس کی بنیاد پر عمران خان رہائی کا حقدار ہے۔
ماتحت دونوں عدالتوں نے سیاسی طور پر درج کئے گئے مقدمات کا پہلو نہیں دیکھا عمران خان 71 سال کے ہو چکے ہیں اور 22ویں وزیراعظم رہے وہ نہ صرف فارن کوالیفائیڈ اور ملک کی سب سے بڑی اور مشہور جماعت کے سربراہ ہیں۔ گزشتہ 14 ماہ میں انہوں نے بنیادی حقوق کی بہت سی خلاف ورزیوں کا سامنا کیا انہیں سیاسی مقدمات کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے خلاف 200 سے زائد مقدمات بنائے گئے جن میں سے صرف 40 مقدمات عمران خان کے خلاف اسلام آباد کی حدود میں دائر کئے گئے ہیں۔ عمران خان محب وطن ہیں اور کسی بھی سطح پر انہوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی نہیں کی جس کی بنیاد پر کہا جا سکے کہ انہوں نے ملکی مفاد کے خلاف کام کیا۔ یہ پہلو خصوصی عدالت اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے بھی رکھے گئے تھے۔
شکایت کنندہ یہ بات ثابت کرنے میں ناکام ہیں کہ کس طرح عمران خان نے قومی سلامتی کو نقصان پہنچایا یا غیر ملکی طاقتوں کی مدد کی ۔ متعلقہ اتھارٹی سیاسی مخالفین کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا غلط استعمال کر کے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔
ایف آئی اے کی طرف سے درج مقدمہ میں بنیادی خامیاں پائی جاتی ہیں جو الزامات لگائے گئے ہیں ان کا آفیشل سیکرٹ ایکٹ کوئی تعلق نہیں ہے۔
درخواست گزار نے کوئی جرم نہیں کیا اور نہ ہی کوئی شہادت مبینہ جرم سے درخواست گزار کا لنک جوڑ سکتی ہے یہ قانون مسلح افواج کے ارکان کے خلاف کارروائی کے لئے 1923 میں بنایا گیا ہے جس کو پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ قانون مخبری، خفیہ معلومات شئیر کرنے جن میں فوٹو گرافس، نقشے اور پلانز دشمن ریاست کو فراہم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لئے بنایا گیا تھا اس لئے اس ایف آئی آر میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق غیر متعلقہ ہے۔
دوسری صورت میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی شق 5 تین بی کے تحت 2 سال قید یا جرمانے کی سزا یا دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جا سکتی ہیں اگر یہ قانون بھی اپلائی کیا جائے تو یہ قابل ضمانت معاملہ ہے صرف اس بنیاد پر بھی ضمانت دی جا سکتی ہے۔ ہائی کورٹ نے اس کیس کو سزائے موت یا 14 سال قید کا مقدمہ قرار دے دیا ہے اس گراؤنڈ کی ہائی کورٹ نے غلط تشریح کی ہے ۔
درخواست میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی شق 5 اور 9 شامل کرتے ہوئے ضابطہ فوجداری کی شق 34 بھی شامل کی ہے۔
آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی شق 5
معلومات کی غلط ترسیل: اگر کوئی شخص جس کے پاس خفیہ سرکاری کوڈ، پاسورڈ، کوئی اسکیچ، پلان، ماڈل، آرٹیکل، نوٹ، ڈاکیومنٹ یا معلومات کا کنٹرول یا یہ چیزیں اس کے قبضے میں ہوں یا ممنوعہ جگہ یا کوئی ایسی چیز جو اسے قابل اعتماد سمجھ کر دی گئی ہو یا کوئی بھی ایسا شخص جو حکومتی دفتر میں موجود ہو یا وہ شخص جو حکومت کی طرف سے کوئی معاہدہ کرتا ہے یا وہ شخص جو کسی شخص کا ملازم ہے یا وہ شخص جو کوئی ایسا دفتر یا معاہدہ رکھتا ہو ۔
آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی شق 9
اشتعال دلانے کی کوشش: کوئی بھی شخص جو اس قانون کے تحت جرم کرنے کی کوشش کرتا ہے یا جرم میں معاونت کرتا ہے اس کو وہی سزا دی جائے گی اور اس کے خلاف کارروائی بھی اسی انداز میں چلائی جائے گی جس طرح جرم کرنے والے کے خلاف چلائی جاتی ہے۔
مجموعہ فوجداری کی شق 34
کوئی عمل جو مختلف لوگوں نے مل کر ایک ہی ارادے سے کیا ہو: جب مختلف لوگ مل کر مشترکہ ارادے سے کوئی جرم کرتے ہیں تو ہر شخص کے خلاف اسی طرح کارروائی ہو گی جس طرح کسی فرد واحد کے خلاف وہی جرم کرنے پر ہوتی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ خفیہ معلومات کو ظاہر کرنے کا الزام درست نہیں ہے کیونکہ وزیراعظم اور اس کی کابینہ کے ممبران نے سائفر کو ڈی کلاسیفائی کرنے کا فیصلہ کیا تھا یہ ڈی کلاسیفیکیشن منتخب لوگوں کے لئے کی گئی تھی جن میں صدر پاکستان، اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی اور چئیرمین سینٹ شامل تھے۔سائفر ٹیلی گرام ڈی کلاسیفائی کرنے کے دعوے کی سپورٹ اس بات سے ہوتی ہے کہ یہ قومی سلامتی کمیٹی کے سامنے بھی پیش کیا گیا جس کے بعد ڈی مارش کیا گیا۔
استغاثہ کا کیس 4 فیکڑز پر کھڑا ہے ایک سائفر لہرانا اور دوسرا اس کا غلط استعمال تاہم سابق وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے سرعام یہ دعوی کیا تھا کہ سائفر وزارت خارجہ کے قبضے میں ہے۔ سابق وزیراعظم کے معاون خصوصی عطاءاللہ تارڑ نے بھی یہ اعتراف کیا تھا کہ سائفر کابینہ کے محدود ارکان کی حد تک ڈی کلاسیفائی کیا گیا تھا۔ 2 بڑے حکومتی ذمہ دار افسران کا یہ اعتراف ایف آئی اے کے مؤقف سے متضاد ہے ان بیانات سے استغاثہ کے سائفر لہرانے اور غلط استعمال کے دونوں الزامات ختم ہو جاتے ہیں اس طرح یہ کیس مزید انکوائری کا بنتا ہے۔
درخواست میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سے پہلے بھی سائفر کیس کو ڈی کلاسیفائی کر کے کابینہ اور قومی سلامتی کے اجلاس میں پیش کرنے کے بارے میں سپریم کورٹ کو آگاہ کیا گیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے اس کو جرم قرار نہیں دیا۔ اس کیس میں سپریم کورٹ کی آبزرویشن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بے بنیاد مقدمہ ہے جو عمران خان کو ہراساں اور اس کی تضحیک کرنے کے لئے بنایا گیا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان بدنیتی سے جاری اس تفتیش سے متاثر ہیں تفتیشی ایجنسی نے اسے بلاجواز اس مقدمے میں پھنسایا ہے۔ عمران خان اس معاملے میں بالکل معصوم ہیں اس لئے ضمانت بعد از گرفتاری ان کا حق ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے متعدد مقدمات میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ جہاں دستاویزی ثبوتوں سے متعلق تمام شواہد تفتیشی ایجنسی کی تحویل میں ہوں وہاں ضمانت نہیں روکی جا سکتی اس معاملے میں یہ خدشہ بھی نہیں ہے کہ عمران خان مفرور ہو جائیں گے یا پراسیکیوشن کے شواہد کو ٹیمپر کر لیں گے درخواست گزار سے تفتیش مکمل ہو چکی ہے اور کوئی چیز بھی برآمد نہیں ہوئی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان اپنے دفاع کے لئے اپنی نوعیت کے اس پہلے مقدمے میں اپنے وکلاء کو ہدایت بھی نہیں دے سکتے اس معاملے میں شامل اصل دستاویزات بدنیتی کے تحت چھپائی گئی ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ اگر جرم ثابت نہ ہو اور درخواست گزار معصوم ثابت ہو تو جتنا عرصہ وہ جیل میں رہتا ہے اس کا کوئی مداوا نہیں ہے یہ بھی طے شدہ قانون ہے کہ کسی شہری کو غیر معینہ مدت تک جیل یا تحویل میں نہیں رکھا جا سکتا۔
سپریم کورٹ کے فیصلوں میں یہ اصول طے کر دیا گیا ہے کہ ضمانت کو کبھی بھی سزا کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔ ضمانت کی فراہمی عدالتی صوابدید ہے جس کو انتہائی احتیاط سے استعمال کیا جانا چاہئے درخواست میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات و حقائق کی روشنی میں درخواست ضمانت کا جائزہ لیا جائے ۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ شہری کی آزادی کا تحفظ آئین کے آرٹیکل 7 اور 9 میں بتایا گیا ہے جو کہتے ہیں کہ کسی شہری کو زندگی اور آزادی کے حق سے محروم نہیں کیا جائے گا اور اسے قانون کے مطابق تحفظ دیا جائے گامجاز عدالت کی اجازت کے بغیر کسی ملزم کو حراست میں نہیں رکھا جا سکتا ۔
درخواست گزار عدالت کے اطمینان کے لئے مناسب ضمانت (شورٹی) جمع کرانے کے لئے تیار ہے اور حلف دیتا ہے کہ وہ مفرور بھی نہیں ہو گا اور نہ ہی استغاثہ کے شواہد کو ٹیمپر کرے گا۔
استدعا
عمران خان کے طرف سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے 16 اکتوبر کو جاری کئے گئے حکم کے خلاف درخواست ضمانت سماعت کے لئے منظور کی جائے اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج سائفر کیس میں ضمانت دیتے ہوئے عمران خان کو رہا کیا جائے۔


