نجی ٹی وی کے پروگرام نیوز بیٹ کی میزبان پارس جہانزیب نے کہا ہے کہ الیکشن کی تاریخ فائنل ہونے اور چیف جسٹس صاحب کی طرف سے اس کو پتھر پہ لکیر بنانے کے بعد الیکشن کی تاخیر کے حوالے سے باتیں تو ختم ہو گئی ہیں لیکن کچھ باتیں ہیں جو ابھی جاری ہیں یہ باتیں سچی ہیں یا جھوٹی لیکن باتیں تو بہرحال باتیں ہیں یہ باتیں پھیلتی رہی ہیں اور شاید پھیلائی بھی جا رہی ہیں پھیل کیسے رہی ہیں اور پھیلا کون رہا ہے مقصد کیا ہے مفاد کس کا ہے اور اس وقت کیوں پھیلائی جا رہی ہیں یہ سب سوالات ایک طرف لیکن حقیقت یہ ہے کہ باتوں کے پتنگڑ بنانے اور افواہ ساز فیکٹریاں اپنی پروڈکشن دو گناہ نہیں بلکہ تین گناہ کر چکی ہیں بنائی اور پھیلائی جانے والی باتیں چاہے ڈرائنگ رومز کی سرگوشیاں ہوں ٹی وی ٹاک شوز کا حصہ ہو یا تحریر اور تقاریر کا موضوع ہوں ان کا تعلق میاں محمد نواز شریف کی پراسرار واپسی سے ہو یان لیگ کی سیاست سے ہے
باتیں یہ ہیں کہ میاں نواز شریف کی بات تھی کسی ڈیل کا نتیجہ ہے کسی سمجھوتے کا حصہ ہے کسی خفیہ انڈرسٹینڈنگ کا ثمر ہے
باتیں یہ بھی ہیں کہ
میاں صاحب پر ریلیف کی برسات بلا وجہ تو نہیں ہے
نیب کا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے بیٹھنا بلا وجہ تو نہیں ہے
عدالتوں کا گرفتاری کی بجائے ضمانتوں پر ضمانت بلا وجہ تو نہیں ہے
سرکاری پروٹوکول آگے پیچھے سیکیورٹی کی گاڑیاں اور ہوٹرز کا شو ہو بلا وجہ تو نہیں ہے
باتیں یہ بھی ہیں کہ
سسٹم کا لاڈلہ تبدیل ہو چکا ہے جو کل لاڈلا تھا وہ سسٹم کے دل سے اتر گیا ہے
اور جو کل تک دل سے اترا ہوا تھا وہ اب لاڈلے کا درجہ حاصل کر چکا ہے
باتیں یہ بھی ہیں کہ
ایک بڑا پروجیکٹ بند ہوا ہے تو دوسرا پروجیکٹ لانچ کیا جا رہا ہے پہلے اگر چیئرمین پاکستان تحریک انصاف ایک پروجیکٹ تھے تو اب میاں محمد نواز شریف بھی پروجیکٹ کی ہیں
باتیں تو یہ بھی ہیں کہ
میاں صاحب کی باحفاظت واپسی اور جیل کا دروازہ بند ہونا ہی اصل میں ترازو کے پلڑے برابر کرنا تھا جو مطالبہ پورا کر دیا گیا ہے
باتیں تو یہ بھی ہیں کہ
لیول پلینگ فیلڈ ایک پارٹی کو اس طرح تشتری میں رکھ کر پیش کر دی گئی ہے کہ لیول شدہ فیلڈ میں کوئی دوسرا مقابل نہیں
باتیں تو یہ بھی ہیں کہ
میاں صاحب کو واپس لا کر دوبارہ تخت پر بٹھانا ہی زیرو رسک کی گارنٹی تھی جو دے دی گئی ہے
باتیں تو یہ بھی ہیں کہ
الیکشن میں یہ تاخیر بھی کسی ایک شخص کی فرمائش اور اس کو اہل بنانے کے لیے کی گئی ہے
باتیں تو یہ بھی ہیں کہ
اس ملک میں الیکشن کی تاریخ اب سب کو معلوم ہوئی ہے لیکن اس الیکشن کا نتیجہ پہلے سے ہی سب کو معلوم ہے
باتیں تو یہ بھی ہیں کہ
اس الیکشن میں پہلے جو مائنس تھے وہ پلس کر دیے جائیں گے اور جو پلس تھے وہ مائنس کر دیے جائیں گے
باتیں تو یہ بھی ہیں کہ
آنے والا وزیراعظم بھی الیکٹڈ نہیں بلکہ سلیکٹڈ ہی ہوگا
کیا یہ سب باتیں جھوٹی ہیں یا ان میں سچائی ہے
کیا ان باتوں کا الزام لگانے والوں کے پاس ان کا کوئی ثبوت بھی ہے یا پھر یہ محض مخالفین کے ایک دوسرے پر سیاسی الزامات ہی ہیں
جیسا کہ ابن انشا جی نے کہا تھا کہ
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں
یہ لوگوں نے پھیلائیں ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو
کیا ان شا جی سودائی ہیں