خبرنمبر1

تحریک انصاف کا قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں حصہ لینے کااعلان ، تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد اعلامیہ میں کہا گیا ہے تحریک انصاف ملک بھر میں ہر حلقے میں اپنا امیدوار نامزد کرے گی ، چیئرمین پی ٹی آئی جیل سے رہا ہو کر انتخابات میں قوم کی قیادت کریں گے ۔ چیئرمین پی ٹی ائی کو قید رکھا گیا تو وہ جیل سے قوم کی قیادت کریں گے۔ انتخابات میں مداخلت اور دھاندلی نہ قوم نہ دنیا تسلیم کرے گی ۔

خبرنمبر2

کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار کھلاڑی ٹائمڈ آئوٹ، سری لنکا ، بنگلا دیش کے ورلڈ کپ میچ میں واقعہ ، اینجلومیتھیوز کے لیے وقت پر تیار نہیں تھے۔ انہیں کوئی گیند کھیلے بغیر آئوٹ قرار دے دیا گیا ۔ میتھیوز بیٹنگ کو آئے تو ہیلمٹ کا اسٹرپ نکلا ہوا تھا۔ ہیلمٹ تبدیل کرنے میں وقت ہاتھ سے نکل گیا۔ بنگلا دیشی کپتان شکیب الحسن نے آئوٹ کی اپیل کی امپائرز نے مشاورت پر میتھیوز کو ٹائمڈ آئوٹ قرار دےدیا ، آئی سی سی کے قوانین کے مطابق نئے آ نے والے بیٹرز کو دو منٹ کے اندر اندر پہلی گیند کا سامنا کرنا لازم ہے ۔

خبرنمبر3

سپریم کورٹ نے بہاولنگر کے پولیس کانسٹیبل کی بحالی کے خلاف آئی جی پنجاب کی اپیل خارج کر دی ، کانسٹیبل کی برطرفی کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل تھی ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا مخبری پر کانسٹیبل کا پیچھا کر کے ریڈ کیا، تو کانسٹیبل کو خاتون کے نازیبا حرکات میں ملوث پایا ۔ چیف جسٹس نے کہا خاتون تو کہتی ہے کہ کانسٹیبل اس کا شوہر ہے ، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ نجی گھر میں بغیر وارنٹ چھاپایا کیسے مار سکتے ہیں ؟جسٹس اطہر من اللہ چھاپا مار کر پولیس نےا ختیارات کا ناجائز استعمال کیا، عدالت ، چیف جسٹس کا ایس پی کی موجودگی پر برہمی کااظہار، کہا بہاولنگر میں کرائم زیرو ہو گیا جو ایس پی یہان آئے ؟ایس پی کی اس کیس میں کیا ذاتی دلچسپی ہے ؟ذاتی خرچ پر آئے یا ٹی اے ڈی اے لیں گے ؟آئے تو ایسے ہیں جیسے کیس سے پاکستان کی دیواریں ہل جائیں گی ۔
خبرنمبر4

گوادر کی سرنگوں سے 1800کلو منشیات بازیاب ، اے این ایف کی بڑی کارروائی برآمد کی گئی منشیات میں 28 کلو آئس بھی شامل، منشیات سرنگوں لکڑیوں جھونپڑیوں میں تھی ، ترجمان اے این ایف کے مطابق منشیات چھپانے والی جگہیں جلا دیں ۔ منشیات بیرون ملک سمگل کرنے کے لیے تھی ۔

خبرنمبر5

نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ سے نگران وزیراعلیٰ سندھ مقبول باقر کی ملاقات، کراچی سرکلر سے ملیر ایکسپریس وے اور کے فور پراجیکٹس کی رکاوٹوں سے آگاہ کیا۔ کے سی آر کے لیے ساورن گارنٹی دینے کی استدعا، وزیراعظم کا معاملات دیکھنے کے لیے ، کے فور کی فنڈنگ کا جائزہ لینے کی بھی یقین دہانی ،

خبرنمبر6

کوہاٹ میں ٹک ٹاک بناتے ہوئے گولی چل گئی ۔ بھائی جاں بحق، گولی چلانے والے بھائی نے والدین کے ڈر سے خود کو گولی مار کر خود کشی کر لی ۔ دونوں بھائیوں کا تعلق خانیوال سے ہے ۔

خبرنمبر7

وانا میں اکاؤنٹس افسر پر پولیس اہلکاروں کا تشدد، ڈی پی او کے مطابق تنخواہ کی عدم اادائیگی پر اکائونٹس آفیسر کو مارا، تشدد کرنے والے 7پولیس اہلکار معطل

خبرنمبر8

اسحاق ڈار نے جنرل (ر) باجوہ سے اختلافات کی وجہ بتادی
۔جیونیوز کے پروگرام جرگہ میں میزبان سلیم صافی نے اسحاق ڈار سے سوال کیا کہ جنرل باجوہ کو آرمی چیف بنوانے میں زیادہ کردار آپ کا تھا لیکن اس کے باوجود آپ دونوں کے درمیان اختلافات کی وجہ کیا بنی؟اس کے جواب میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ’میں زیادہ پرسنلی نہیں بتانا چاہتا لیکن سابق آرمی چیف جنرل (ر ) باجوہ سے اختلافات کی وجہ فنانشنل (مالیاتی) تھی‘۔جنرل باجوہ کو آرمی چیف بنائے جانے پر تعاون سے متعلق سوال پر سابق وزیر خزانہ نے بتایاکہ ’ابتدائی طور پر میں نے ہمیشہ جنرل (ر) باجوہ کو تسلیم کیا، جنرل (ر ) باجوہ نے ڈان لیکس کی انکوائری رپورٹ کے حوالے سے مجھے بیلنس پوزیشن کیلئے سپورٹ کیا تھا، ڈرافٹ رپورٹ میں پانامہ کی جے آئی ٹی کی طرح کے ایجنسی کے دو بریگیڈیئر اور 4 سول سرونٹس تھے، انہوں نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت اس میں ایکشن لینے کیلئے recommend کیا ہوا تھا؟ جو کہ غیر شفاف عمل تھا‘۔اسحاق ڈار کے مطابق ’اس حوالے سے نواز شریف نے واضح کردیا تھا کہ میں نے پرویز رشید سے استعفیٰ لے لیا ہے، شناخت ہونے والے طارق فاطمی سے استعفیٰ ہم لے لیں گے، ہم صحافی سرل المیڈا کی اے پی این ایس کو رپورٹ کریں گے لیکن اس سے آگے ہم نہیں جائیں گے، اس بات پر میں نے جنرل (ر) باجوہ کوراضی کیا تو انہوں نے تعاون کیا تھا جس پر آج بھی ہم ان کو کریڈٹ دیتے ہیں‘۔انہوں نے بتایاکہ ’ڈان لیکس کے حوالے سے آئی ایس پی آر کی ’ریجیکٹڈ‘ ٹوئٹ وائرل ہونے پر بھی میں نے انہیں راضی کیا کہ آپ کے لوگو ں نے اچھا نہیں کیا، اس کے بعد انہوں نے اپنے ایک دو ساتھیوں کو over ruled کیا، اس کے بعد کی ساری چیزیں آپ کے سامنے ہیں، جنرل باجوہ کو سوشل میڈیا پر اٹیک کیا گیا میری ان سے تب تک ہی بات چیت کی تھی‘۔ میزبان کے سوال پر اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ ’میں زیادہ عتاب میں اس لیے آیا کہ میں ڈان لیکس کی رپورٹ ٹھیک کرواتا تھا،جنرل باجوہ سے دونوں چیزیں میں نے ڈیل کیں جو کہ مجھ سے پہلے چوہدری نثار، فواد حسن فواد، جنرل بلال اکبر اور جنرل نوید مختار کرتے تھے لیکن اس سب کے بعد بھی جب ٹوئٹ کا مسئلہ حل نہ ہوسکا تو میرے جنرل باجوہ اور نوید مختار سے مذاکرات ہوئے اور پھر وہ راضی ہوگئے جو کہ اچھی بات ہے کہ جو غط کام ہوئے انہوں نے اس کو ٹھیک کیا لیکن اس کے بعد وہ پریشر میں آگئے‘۔ سابق وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ ’اس کے بعد ہماری کچھ پاکستان کے ذرائع استعمال کرنے پر پرابلم تھی جس کا آئیڈیا کئی لوگوں کو ہے‘۔ جنرل (ر ) باجوہ کی جانب سے دفاعی بجٹ زیادہ مانگنے پر سامنے آنے والے اختلاف کے سوال پر اسحاق ڈار نے کہا ’کسی بھی حکومت نے اپنے ایک دور میں دفاعی بجٹ میں 550 بلین کا اضافہ نہیں کیا، ہمارے اختلافات کی وجہ فنانشلی (مالیاتی) تھی لیکن وہ پیسے میری یا ان کی جیب میں نہیں جانے تھے‘۔