اسلام آباد (ای پی آئی )پی ڈی ایم کے زمانے میں ایک وقت ایسا آیا اور بڑی پراسرار صورتحال تھی جب پاکستان میں ہر چند دنوں کے بعد کسی نہ کسی سیاستدان بیوروکریٹ یا اعلی ادلیہ یا اس کے ججز سے منسلک شخصیات کی مبینہ آڈیو لیکس یا آڈیو ٹیپس سامنے آتی تھی

دو افراد کی پرائیویسی سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی ہے الزامات کا طوفان بپا ہوتا رہا اور خود بخود معاملہ بھی دبتا رہا بہرحال سابق خاتون اول بشریٰ بی بی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کی درخواستوں پر آڈیو لیکس کا معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے

جسٹس بابر ستار کی جانب سے جواب طلبی پر وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری نے عدالت کو تحریری طور پہ آگاہ کیا کہ شہریوں کی ٹیلی فون نے گفتگو ریکارڈ کرنا غیر قانونی نہیں اس کا لیگل فری م ورک موجود ہے وفاق کے جواب میں بتایا گیا کہ وزیراعظم آفس انٹیلی جنس ایجنسیز کے حساس روز مرہ امور میں مداخلت نہیں کرتا ایسا کرنا قومی سلامتی کے مفاد میں نہیں ہے

پچھلے ہفتے جسٹس بابر ستانے اٹارنی جنرل منصور عثمان عوان کو ہدایت کی تھی کہ وہ نگرانی کا قانونی طریقہ کار وضع کرنے کے لیے آڈیو لیکس کے معاملے کو کابینہ کے سامنے اٹھائیں

جسٹس بابر ستانے ریمارکس دیے تھے کہ الیکٹرانک نگرانی کیسے کی جا رہی ہے کون کر رہا ہے ان کا کہنا تھا کہ فون کالز ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کرنے کی مجاز اتھارٹی کون ہے کیونکہ پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ اس نے کسی کو کسی کی بات چیت سننے کی اجازت نہیں دی ہے تعجب کی بات تو یہ ہے کہ لینڈ لائن کالز ٹیپنگ یا ڈیوائس سے فون ریکارڈنگ کرنے کے بعد اب واٹس ایپ کی آن ٹو اینڈ انکرپٹڈ کالز اور میسجز بھی لیک ہوتی تھیں اور یہ جو کالز سامنے آئی ہیں ان میں سے اکثریت واٹس ایپ کال کی ہوتی تھی نہ صرف یہ کہ کالز کا ریکارڈ ہوئی بلکہ لیک ہوئی بلکہ سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہوتی رہی

آڈیو لیک سے عمران خان مریم نواز بشریٰ بی بی سمیت کوئی نہ بچا سابق چیف جسٹس کی مبینہ خوشدامن اور سپریم کورٹ کے ایک موجودہ جج کی مبینہ آڈیوز بھی منظر عام پہ آتی رہی یہ سلسلہ تھا جو ہر چند روز بعد جاری ہوتا تھا مجموعی طور پہ اس کا نشانہ پی ٹی آئی سے منسلک شخصیات رہیں اور ایسے ججز رہے جو کہ حکومت پی ڈی ایم حکومت کے حوالے سے اس کے حامی نظر نہیں آتے تھے یا ان کے لیے وہ بہت ہی فیورایبل نظر نہیں آتے تھے یا ان کو ان سے شکایات تھیں

ان ججز کے رشتہ داروں کی یا ان کے قریبی شخصیات کی آڈیو لیکس سامنے آتی رہی ہیں آڈیو لیکس کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ کالز میں گفتگو کرنے والے زیادہ تر افراد نے اپنی مبینہ آڈیوز کو نہ صرف یہ کہ جعلی قرار دیا بلکہ اس سے لا تعلقی کا بھی اظہار کیا بلکہ ان کا صرف اتنا کہنا تھا کہ ان کی گفتگو کو توڑ مروڑ کے پیش کیا گیا

آڈیو لیکس نے وقتی طور پہ سیاسی درجہ حرارت کو بڑھایا بگنگ اور سائبر سیکیورٹی پر سوالات اٹھائے فرانزک تحقیقات کے بھی چرچے ہوتے رہے گفتگو کی رازداری کو محفوظ بنانا واٹس ایپ کا دعویٰ تھا لیکن پاکستان میں واٹس ایپ کے اس دعوے کا بھانڈا پھوٹ گیا

چند ماہ پہلے موجودہ نگران وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر عمر صاحب کا کہنا تھا کہ واٹس ایپ میں لائیو کال سننا مشکل ہے لیکن کالز ریکارڈ کر کے اس کو انکرپٹ کرنایا اس کو ڈسکرپٹ کرنا جو ہے پچھلے ہفتے اسلام آباد ہائی کورٹ میں آڈیو لیکس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس بابر ستار نے نقطہ اٹھایا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ ہمارے دفاتر اور چیمبرز میں ہماری گفتگو بھی ریکارڈ ہو رہی ہو

جسٹس بابر ستا نے معلوم کیا تھا کہ اگر ہمارے فونز کی نگرانی کی جا رہی ہے تو ہمیں پتہ ہونا چاہیے کہ کون ایسا کر رہا ہے اہم بات یہ ہے کہ چھ ماہ قبل شہباز شریف حکومت کے پی ڈی ایم حکومت نے آڈیو لیکس پر تحقیقات کے لیے جسٹس قاضی فائض عیسیٰ کی سربراہی میں ایک تین رکنی جوڈیشل کمیشن بھی تصویر دیا تھا جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو شامل کیا گیا تھا تاہم سابق صدر سپریم کورٹ بار کی درخواست پر سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے پہلی ہی سماعت پر اس کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا تھا

تاہم قابل غور بات یہ ہے کل وفاقی حکومت کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں یہ بتایا گیا کہ جوڈیشل کمیشن آڈیو لیکس آڈیوز کے مصدقہ ہونے کی انکوائری کرے گا گویا سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے فیصلے کے برعکس نگرا ں حکومت جوڈیشل کمیشن کو قائم و دائم سمجھتی ہے یہ گفتگو سینئر صحافی ،اینکرپرسن کامران خان نے اپنے ٹی وی پروگرام میں کی۔