خبرنمبر1

مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمیں اپنے لئے اقتدار نہیں بلکہ خوش حال پاکستان چاہیے۔ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے کوئٹہ میں پارٹی ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بغض ، حسد ، گندی زبان اور نفرت نے معاشرے کو گندا کیا، باتیں کرنے والے بہت آئے، عملی طورپر کچھ نہیں کیا ، ن لیگ نے گوادر، کوئٹہ، ژوب سمیت سب علاقوں کے بارے میں سوچا۔ ہم نے بلوچستان میں سڑکوں کا جال بجھایا اور ڈیمز بنائے، کچی کنال کے لیے ہم نے پچاس ارب روپے دیے، کوئٹہ سے اسلام آباد جانے والا راستے کا منصوبہ 2018 میں مکمل ہونا تھا جو اب تک نہیں ہوا، بلوچستان کے طلباء کو بھی ملک کے بہترین تعلیمی اداروں میں پڑھنے کا حق ہے، ان لوگوں میں اور ہم میں کچھ تو فرق ہے۔

خبرنمبر2

سابق وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، ریاست بچ گئی سیاست بھی بچ جائے گی، رونے دھونے سے کچھ نہیں ہوگا ایک دوسرے پر الزامات کے بجائے آگے بڑھنا چاہیے۔کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مسلم لیگ ن اور سابق وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ آج اپنے بھائی نواب اسلم رئیسانی اور حاجی لشکری رئیسانی کو ملنے آیا ہوں، ہمارا اس خاندان سے 50سال سے تعلق ہے، سیاست اپنی جگہ خاندانی تعلق کا ہمیشہ احترام کیا ، حاجی لشکری رئیسانی کو دعوت دینے آیا ہوں ن لیگ میں شامل ہوں۔

خبرنمبر3

چیف آرگنائزر مسلم لیگ ن مریم نواز نے ورکرز کنونشن سے خطاب میں کہا کہ وعدہ ہے پنجاب کی طرح بلوچستان پر بھی توجہ دیں گے، نوجوان نسل میں بڑا جنون ہے ، تین چار سال میں بلوچستان کی حالت بدل جائے گی ، اچھی تعلیم بلوچستان کے بچوں کا حق ہے، اس تک ان کی رسائی ہونی چاہیے، برابر حق دیا جائے تو ان کا مستقبل سنور جائے گا۔قبل ازیں قائد ن لیگ کی زیر صدارت اجلاس میں شہبازشریف مریم نواز اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی ، اجلاس میں عام انتخابات کے حوالے سے بلوچستان میں تیاریوں پر مشاورت کی گئی جبکہ صوبے میں پارٹی کو مزید مضبوط اور فعال بنانے کے حوالے سے بھی غورکیا گیا ۔

خبرنمبر4

نواز شریف کیخلاف عدلیہ مخالف تقریر پر توہین عدالت کی درخواست خارج،اسلام آباد ہائیکورٹ میں ن لیگ کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست 2018ء سے زیر التواء تھی۔درخواست گزار شہری عدنان اقبال کی جانب سے کوئی بھی عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوا جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے نواز شریف کے خلاف درخواست عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کردی۔

خبرنمبر5

فیض آباد دھرنا کیس: حکومت نے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے انکوائری کمیشن تشکیل دیدیا۔فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔وفاقی حکومت نے ریٹائرڈ آئی جی اختر علی شاہ کی سربراہی میں انکوائری کمیشن تشکیل دیا ہے اور اس 3 رکنی کمیشن میں سابق آئی جی طاہر عالم اور ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ خوشحال خان شامل ہیں۔وفاقی حکومت کے گزٹ نوٹی فکیشن میں انکوائری کمیشن کے ٹی او آر بھی درج ہیں جس کے مطابق انکوائری کمیشن قیام کے 2 ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔

خبرنمبر6

شیخ رشید کی سپریم کورٹ آمد پر صحافیوں کے سوالات، شیخ صاحب چلہ پورا ہو گیا، صحافی کا شیخ رشید سے استفسار، چلہ تو پورا ہو گیا مگر اس کے اثرات ابھی تک ہیں ، شیخ رشید کا جواب ، شیخ صاحب چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں یا ہتھیار ڈال دئیے ، صحافی کا سوال ،زندگی میں دوستی اور دشمنی دونوں بھرپور نبھائی ، سابق وزیر کا جواب

خبرنمبر7

میرے خاندان یا میں نے کبھی منہ نہیں چھپایا، مشرف آمریت میں جیلیں کاٹیں ، جسمانی تشدد سہا، بھٹو مرحوم کی سول آمریت میں والد نے جان دیدی، ضیا آمریت میں مجھے 3بار جیل جانا پڑا،چیئرمین پی ٹی آئی قمر جاوید باجوہ اور ثاقب نثار کا نقاب پوش مارشل لا بھی بھگتا، بطور وزیر اپنے کام پر ضمیر مطمئن ہے ۔ ہمیں نہ ہی چھیڑیں تو بہتر ہے ۔ بلاول بھٹو کے بیان پر خواجہ سعد رفیق کا ردعمل ، 16ماہ کی حکومت میں کئی منصوبے شروع کئے ، متعدد ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی اور فنڈز جاری کئے ۔ بلاول بھٹو تھر منصوبے کیلئے نوازشریف کے تعاون کا ذکر کرتے تو اچھا ہوتا، احسن اقبال کا جواب،

خبر نمبر8

احسن اقبال کو تھر کول پراجیکٹ کی تاریخ کا نہیں معلوم ، پروجیکٹ کا آغاز ہی 92-1991میں ہوا تھا 1988سے 90میں کام کیسے شروع ہوتا؟1995میں ہانگ کانگ کے سرمایہ کار کے ساتھ 2پاور پلانٹس کا معاہدہ ہوا۔ بعد میں آنے والی ن لیگ کی حکومت نے اس منصوبے پر مزید کام نہیں کیا، اگر کریڈٹ کی بات ہے تو نوازشریف تھر چلے جائیں ۔ بلاول کے جلسے کی طرح 5فیصد بھی لوگ جمع کیے تو انہیں جلسے کا کریڈٹ دیدیں گے ۔ مراد علی شاہ کی احسن اقبال کے بیان پر تنقید

خبرنمبر9

بادی النظر میں چیئرمین پی ٹی آئی کے جیل ٹرائل کو اوپن ٹرائل نہیں کہا جا سکتا، جیل ٹرائل کیلئے پیشگی شرائط پوری کرنے کی کوئی دستاویز ریکارڈ پر نہیں لائی گئی، اگر ایسی کوئی دستاویز موجود ہے تو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کی جائے۔عدالت نے فیصلے میں لکھا اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے چیئرمین پی ٹی آئی کے جیل ٹرائل کی منظوری دی ہے، اٹارنی جنرل وفاقی کابینہ کے فیصلے کی کاپی عدالت کے سامنے پیش نہیں کر سکے، اٹارنی جنرل وہ سمری بھی پیش نہیں کر سکے جس کی بنیاد پر کابینہ نے فیصلہ کیا۔تحریری حکمنامے میں مزید کہا گیا ہے کہ کیس کے انصاف پر مبنی فیصلے کیلئے مطلوبہ دستاویزات ریکارڈ پر لانا لازم ہیں، انہی دستاویزات کی روشنی میں اپیل کنندہ کے بنیادی حقوق متاثر کرنے کے قانونی نکتے پر بھی فیصلہ کرنا ہے، سائفر کیس چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل روکنے کا تحریری حکم جاری

خبرنمبر10

190 ملین پاؤنڈ، توشہ خانہ کیسز: بشریٰ بی بی کی ضمانت میں توسیع، اسلام آباد کی احتساب عدالت میں سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کیخلاف 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل اور توشہ خانہ کیسز کی سماعت ہوئی، بشریٰ بی بی کی جانب سے کوئی بھی وکیل عدالت پیش نہ ہوا۔کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی، نیب کی جانب سے سپیشل پراسیکیوٹر عرفان بھولا اور سہیل عارف، تفتیشی افسر میاں عمر اور محسن ہارون پیش عدالت پیش ہوئے۔دوران سماعت جج نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ کہاں ہیں بشریٰ بی بی کے وکلاء؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ معلوم نہیں، اس کیس میں سردار لطیف کھوسہ وکیل ہیں۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ریمارکس دیئے کہ کوئی آیا نہیں ہے تو سماعت پھر جمعہ کو رکھ لیں، بعدازاں عدالت بشریٰ بی بی کی ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے کیس کی سماعت 17 نومبر تک ملتوی کر دی۔

خبرنمبر11

چیف جسٹس پاکستان پولیس کی ناقص تفتیش پر برہم، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا اور پولیس افسران کی سرزنش ، صاحب صاحب کہنے پر سب کا دماغ خراب کر دیا گیا۔ افسروں کے عہدے کے ساتھ صاحب کا لفظ استعمال نہ کیا جائے ۔ صاحب کا لفظ سرکاری افسران و ملازمین کو احتساب سے بالاتر بناتا ہے ۔ چیف جسٹس کے 10سالہ بچے کے قتل کیس کی سماعت میں ریمارکس