اسلام آباد (ای پی آئی ) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کے خلاف 190 ملین پائونڈز اسکینڈل میں احتساب عدالت اسلام آباد نے چیئرمین پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ میں 2 روزہ توسیع کا 4 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی جانب سے جاری تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی 4 دن نیب کی تحویل میں رہ چکے ہیں، نیب کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی کے مزید 5 روز جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی، نیب کے مطابق جسمانی ریمانڈ کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی سے تفتیش کی گئی، تفتیش کے دوران نئے حقائق سامنے آئے ہیں جن میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ نیب کے مطابق تفتیش کے حتمی نتیجے پر پہنچنے کیلئے چیئرمین پی ٹی آئی کا مزید جسمانی ریمانڈ ضروری ہے، مقدمے سے متعلق اصل دستاویزات مطلوب ہیں جو علی ظفر ایڈووکیٹ کی تحویل میں ہیں، ان دستاویزات سے متعلق جرح کے بعد تفتیش مکمل کر لی جائے گی۔

تحریری حکم نامہ کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے موقف اپنایا ہےکہ نیب پہلے ہی کیس سے متعلق تمام دستاویزات تحویل میں لے چکا ہے، نیب کو تفتیش کیلئے پہلے ہی مناسب وقت دیا جا چکا ہے، نیب کے پاس مزید جسمانی ریمانڈ کا کوئی قانونی جواز نہیں بنتا۔

عدالت کے مطابق دستاویزات سے متعلق جرح کیلئے چیئرمین پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ میں 5 کے بجائے 2 روز کی توسیع کی جاتی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو 23 نومبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔