اسلام آباد (عابدعلی آرائیں) سپریم کورٹ میں ارشد شریف قتل کیس کے حوالے سے لئے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا ہے کہ اپریل تک ارشد شریف کیس کی تحقیقات مکمل ہونے کا امکان ہے. عدالت نے کہاہے کہ کینیا اور دبئی سے قانونی معاونت کےلئے خط لکھنے میں حکومت نے تاخیرکی ہے ،عدالت نے سپیشل تحقیقاتی‌ ٹیم میں ریٹائرڈ افسران شامل کرنے کی استدعا سے اتفاق نہیں کیا.

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجازلاحسن ،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی،جسٹس جمال خان مندو خیل اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل پانچ رکنی لارر بینچ کے روبرو سماعت شروع ہوئی تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ اسپیشل جے آئی ٹی نے 41 لوگوں کے بیانات ریکارڈ کئے ہیں، کینیاجانے کیلئے لکھا گیا گیا لیکن 27دسمبر کو جے ئی ٹی کینیا جانا چاہ رہی تھی لیکن کینیا کے حکام نے بتا یا کہ کرسمس کی چھٹیاں ہیں اس لئے پندرہ جنوری کے بعد آئیں اب پندرہ جنوری کو جے آئی ٹی جائے گی اور دو ہفتے وہاں تحقیقات کے سلسلے میں رکے گی ۔

جسٹس اعجازلا احسن نے استفسار کیا کہ کیا کنیاکے حکام متعلقہ لوگوں کو پیش کرنے کے لیے تیارہیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جن افراد سے تحقیقات کرنی ہیں ان کے نام باہمی قانونی تعاون کے خط میں لکھ دیئے گئے ہیں یہ خط دبئی اور کینیا کو لکھے گئے ہیں یہ خط کل لکھے گئے ہیں جان کا ابھی جواب نہیں آیا میوچل لیگل اسسٹنس کے خطووط ہی رابطے کا قانونی و موثر طریقہ ہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جن 41لوگوں کے بیانات لئے گئے ہیں وہ پاکستانی ہیں یا کسی کا ویڈیو لنک کے ذریعے بھی بیان لیا گیا ہے ؟ عامر رحمن نے کہاکہ ارشد شریف کے خاندان ، رشتہ داروں ، دوستوں اور کچھ ماہرین ، حکومتی اداروں کے افسران کے بیانات لئے گئے ہیں ، چیف جسٹس نے کہا کہ یہاں ایک تاثر یہ تھا کہ کچھ لوگ ملک سے باہر ہیں ان سے رابطے کیا گیا یا نہیں ، عامر رحمن نے کہاکہ ان سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا ۔

عدالت کے استفسار پر انھوں نے بتایا کہ جے آئی ٹی کو وزارت خارجہ کی مکمل مدد حاصل ہے،کینیا کی اتھارٹیز کے ساتھ رابطے میں ہیں، جو لوگ باہر ہیں ان سے پہلے کینیا جاکر انکوائری ہوگی، کینیا میں ان لوگوں سے تحقیقات کے بعد انٹرپول سے رابطہ کیا جائیگا۔اس موقع پر جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اس تحقیقات کے تین مراحل ہیں پہلا مرحلہ پاکستان سے متعلق تحقیقات کا ہے کہ ارشد شریف کو کن حالات میں پاکستان چھوڑنا پڑا، دوسرا مرحلہ دبئی اور تیسرا مرحلہ کینیا میں تحقیقات کا ہے.

جسٹس اعجازالاحسن نے سوال اٹھایا کہ کیا پہلے مرحلے کی تحقیقات مکمل ہوگئی ہیں کیونکہ یہ تفتیش اہم ہے کہ وہ کیاعوامل تھے جس کے باعث ارشد شریف کو ملک چھوڑنا پڑا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ فیز ون کی تحقیقات تقریبا مکمل ہوچکی ہیں لیکن جب تک تفتیش مکمل نہیں ہوتی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کیا تحقیقات مکمل ہونے کا کوئی ٹائم فریم ہے؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ تحقیقات مکمل ہونے کی ٹائم لائن نہیں دی جاسکتی، جے آئی ٹی پہلے دبئی، پھر کینیا تحقیقات کریگی۔جسٹس مظاہر علی نقوی نے اس موقع پر پوچھا کہ کیاجے آئی ٹی نے فوجداری قانون کی شق 161کے بیانات ریکارڈ کئے ہیں، جس پر جے آئی ٹی کے سربراہ نے بتایا کہ تمام لوگوں کے بیانات سیکشن 161 کے تحت ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ جے آئی ٹی کے سربراہ نے بتایا کہ 41 لوگوں کے بیان سیکشن 161 کے تحت ریکارڈ ہوئے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کیا امکان ہے کہ تحقیقات میں اقوام متحدہ کو شامل کیا جائے گا جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ضرورت پڑے گی تو یہ آپشن بھی موجود ہے.

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اقوام متحدہ کوبھی ممکن حد تک اس معاملے شامل کریں کیا کینیا کی حکومت کو بتایا گیا ہے کہ اس معاملے کا نوٹس سپریم کورٹ آف پاکستان نے لیا ہے تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس بات سے انہیں آگاہ کیا ہے تو انہوں نے 15جنوری کے بعد آنے کا کہاہے۔ جسٹس مظاہر علی نقوی نے میوچل لیگل اسسٹنس کے لیے تاخیر سے لکھنے پر اعتراض کیا اور کہا کہ وزارت خارجہ کی طرف سے کینیا کی اتھارٹی کو ایک روز قبل خط کیوں لکھا گیا،وزارت خارجہ خط پہلے بھی لکھ سکتی تھی۔جسٹس نقوی نے کہا تحقیقات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کر رہے ہیں،چاہتے ہیں تحقیقات آزادانہ ہو،عدالت صاف شفاف تحقیقات کیلئے بہت سنجیدہ ہے۔اس موقع پر عدالت سے اجازت لئے کر مقتول ارشد شریف کی بیوہ سمیعہ ارشد نے کہا جے آئی ٹی کے دو ارکان ہمارے نامزد ملزمان کے ماتحت ہیں، اس کیس میں دہشت گردی اور قتل کی سازش کی دفعات شامل ہونی چاہیے۔ارشد شریف کی اہلیہ نے سازشی نظریے کی بات کی تو جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جے آئی ٹی معاملہ کی تحقیقات کر رہی ہے.

عدالتی استفسار پر جے آئی ٹی کے سربراہ نے بتایا کہ انہوں نے جے آئی ٹی بنتے ہی میوچل لیگل اسسٹنس کا خط لکھنے کا کہا تھا ، جس پر چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے خط تاخیر سے لکھا گیا ہے یہ دیکھ لیں ۔ جسٹس محمد علی مظہر نے سوال اٹھایا کہ میوچل لیگل اسسٹنس کیلئے اتنی تاخیر سے کیوں لکھا گیا جس پر سربراہ جے آئی ٹی نے بتا یا کہ ہم نے فوری میوچل لیگل اسسٹنس کا کہہ دیا تھا جسٹس مظاہر علی اکبر نے آبزرویشنز دیتے ہوئے کہا کیا یواین کے حوالے سے کوئی تحریری طور پر بھی اقدامات کئے گئے ہیں ہم فی الحال جے آئی ٹی کو مکمل آزادی دے رہے ہیں عدالتی تحمل کا مظاہر ہ کر رہے ہیں معاملہ کی آذاد تحقیقات ہونی چاہیئے ہمارے پاس مداخلت کا اختیار ہے لیکن ہم مداخلت نہیں کر رہے سب کو بتادیں کہ ہم تحقیقات میں بہت سنجیدہ ہیں چیف جسٹس پاکستان نے کہایہ ایک سنگین جرم ہے عدالت سے ابھی کیا تعاون چاہیئے ۔

جس کے بعد ارشد شریف کی اہلیہ سمیعہ ارشد عدالت میں پیش ہوئیں اور موقف اپنایا کہ انہیں جے آئی ٹی میں شامل دو اداروں کے نمائندوں کے شامل ہونے پر اعتراض ہے کیونکہ یہ دو افراد ہمارے نامزدملزمان کے ماتحت ہیں بہتر ہو گا عدالت اے ڈی خواجہ، لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈطارق خان اور لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ ہارون اسلم کو شامل کر نے کا حکم دے جس پر چیف جسٹس نے کہا ہم ریٹائرڈ ملازمین کو شامل نہیں کریں گے بد اعتمادی پر مت چلیں ، آپ جب چاہیں ہم آپکو سنیں گے اعتماد سے ہی ادارے چلیں گے بعض دفعہ ماتحت بھی بہت کچھ کر جاتے ہیں جے آئی ٹی نے جو اقدامات کئے وہ 20دن پہلے ہونے چاہیئں تھے.

چیف جسٹس نے کہاکہ رپورٹ میں کچھ باتیں بہت گہری ہیں جو ابھی نہیں کر سکتے جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا تحقیقات پر ہماری مکمل نظر ہے سمیعہ ارشد نے کہا کیس میں ضابطہ فوجداری کی سازش کے حوالے سے شق 109 اور انسداد دہشتگردی ایکٹ کی شق 7 اے ٹی اے کو بھی شامل کیا جائے جس پر جسٹس مظاہر علی اکبر نے کہا شق109 سے پہلے شق 107 لگے گی لیکن یہ تحقیقات کے بعد لگیں گی اگر کچھ غلط ہوگا تو ہم بیٹھے ہیں. جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا جے آئی ٹی کا کام یہ ہے کہ کون لوگ تھے کس کے تعاون سے یہ سب ہوا پتہ لگائیں .

چیف جسٹس نے کہا ارشد شریف کے کچھ ڈیجیٹل آلات ہیں جو ابھی تک نہیں ملے، کیا جے آئی ٹی کو یہ پتہ چلا کہ وہ آلات کدھر ہیں،پتہ چلائیں وہ ڈیجٹل آلات کینین پولیس، انٹیلیجنس یا ان دو بھائیوں کے پاس ہیں،یہ جے آئی ٹی کیلئے ٹیسٹ کیس ہے ،اقوام متحدہ کو تحقیقات میں شامل کرنے کیلئے وزارت خارجہ سے ڈسکس کریں اور دبئی اور کینیا جانے سے پہلے ہر حوالے سے مکمل تیاری کرکے جائیں ایسا نہ ہو کہ تحقیقاتی ٹیم کا دورہ ناکام جائے اور جے آئی ٹی کی اس میں مفید پیش رفت ہونی چاہیئے ، وفاقی حکومت نے جے آئی ٹی کو تحقیقات کیلئے فنڈز فراہم کئے ہیں.

عدالت نے فیصلہ لکھواتے ہوئے قرار دیا کہ وفاقی حکومت نے چار دسمبر کو میوچل لیگل اسسٹنس کے خطوط لکھے ہیں وفاقی حکومت پرامید ہے کہ باہمی قانونی تعاون کے خطوط پر ممالک سے اچھا رسپانس آئے گا،جے آئی ٹی نے ابتک 41 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کئے ہیں،اصل ایشو ارشد شریف قتل کی تحقیقات اور شواہد کا ہے، امید کرتے ہیں جے آئی ٹی معاملے پر اچھی طرح تیار ہو کر تحقیقات کیلئے بیرون ملک جائے گی. عدالت نے مزید سماعت فروری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی ہے۔