اسلام آباد(ای پی آئی ) مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نےسیالکوٹ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وزیراعظم جیلوں میں جائیں اور روز روز انہیں بدلا جائے تو ملک کیسے چلے گا؟

انہوں نے کہا کہ ہنستا ہوا ملک اجاڑ دیا، پانچ ججوں نے کروڑوں عوام کے نمائندے کو نکال کر پھینکا، ہمیں تو آپ آنکھیں بند کرکے نکالتے ہو لیکن نوازشریف کو نکال کر لاتے کس کو ہو؟ اور ایسے بندے کو لاتے ہو جسے گالیاں دینے کے سوا کچھ نہیں آتا، جب بولتا ہے گالیاں دیتا ہے۔

سابق وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ ظلم ہوالیکن ملکی مفاد کیخلاف کوئی کام نہیں کیا، سازشیں کرکے ملک اجاڑدیاگیا،اب بھی سبق نہ سیکھاتونقصان اٹھائیں گے ۔

انھوں نے کہا کہ عمران خان آیا نہیں تھا، لایا گیا تھا، اُس کو لانے والے بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں جتنا وہ خود ذمہ دار ہے، جہاں آئے دن وزیر اعظم بدلتے ہوں، جھوٹے مقدمے اور سزائیں ہوں، ایسے میں تو گھر نہیں چل سکتا تو ملک کیسے چلے گا؟

نواز شریف نے کہا کہ یہ اتنا خوبصورت اور قیمتی ملک تھا اور ہے کہ ہم اسے جنت بناسکتے تھے لیکن کلہاڑا چلاتے وقت کچھ نہیں دیکھتے، ہم اس ملک کو رپیئر کریں گے، ایسے لوگوں کے ہاتھ ملک نہیں دیں گے، نواز شریف نے کہا کہ میری جیلوں، جلاوطنی اور مقدمات کا دور اقتدار سے زیادہ ہے ،میں نے مشکل اور اچھا وقت دیکھا، 2017سےلیکر آج تک مسلسل ہمارے خلاف سزاؤں کا سلسلہ چلتا رہا، یہ سلسلہ کچھ ہی دیرپہلےختم ہوا، وزارت عظمیٰ دیکھی تو ملک بدری، مقدمات اور جیلوں کا سامنا بھی کیا لیکن کبھی ہمت نہیں ہاری۔

انھوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ ظلم ہوا ہے، جو ہوا سو ہوا لیکن پاکستان کے مفاد کے خلاف کوئی کام نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر وہی کام ہوتا رہتا تو آج پاکستان بہت مضبوط ہے، ہم نے خود ملک کو پٹڑی سے اتارا بلکہ پٹڑی اکھاڑ دی، ہمارے پاس کوئی موقع نہیں ہم نے اگر سبق نہ سیکھا تو داستان تک نہ رہے گی داستانوں میں۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے اس لیے قربانی دی، 1999ء اور 1997ء کو چھوڑیں، 2017ء میں ملک خوشحال تھا مگر کلہاڑا چلاتے وقت بغیر کسی وجہ سے نکال دیا گیا، یہ کس کو لائے میری جگہ پر؟ آر ٹی ایس کیوں بند ہوا؟ ہمارے ڈبے دوسروں سے کیوں بدلے؟نواز شریف نے مزید کہا کہ اتنا خوبصورت ملک ہے کہ اسے جنت بنا رہے تھے، لوگوں میں ہنر ہے سیالکوٹ میں اس قدر ترقی ہوسکتی ہے ملک کو یہ شہرسپورٹ کرسکتا ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ دیکھیں تو ملک کتنا خوشحال تھا، ڈالر 104روپے پر تھا اور اس وقت پاکستان میں مہنگائی بھی نہیں تھی، ہم نے لوڈشیڈنگ اور دہشتگردی کا خاتمہ کردیا گیا جبکہ بیروزگاری بھی ختم ہوتی جا رہی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت بچے سکول جاتے تھے، ان کی امیدوں میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا مگر ہمارے خلاف سازش کرکے اچھا بھلا ملک اجاڑ دیا، ملک کا جوحال ہوگیا ہےدس دفعہ سوچتا ہوں کیسےدوبارہ ڈگرپرلائیں گے پاکستان باربارغلطیوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

سابق وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ آیا نہیں بلکہ لایا گیا تھا، اس لیے لانے والے بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں جتنا وہ ذمہ دار ہے ، ملک کا بھاری نقصان ہوگیا ہے، اس نقصان کا ازالہ کرنا ہم سب کا فرض اورڈیوٹی ہے، ہم اپنےملک کوایسےلوگوں کےحوالےنہیں کرسکتے جو کلچرکوبرباد کردیں۔