1

افغان شہری کا دہشت گردی میں ملوث ہونے کا ایک اور ثبوت، بنوں  کا خیل میںخودکش حملہ کرنے والا افغان شہری نکلا، خود کش بمبار کاتعلق گل بہادر گروپ سے تھا، موٹرسائیکل سوار بمبار فورسز کے قافلے سے ٹکرا گیا۔ حملے میں 2شہری شہید، 3 اہلکاروں سمیت 10افراد زخمی ہو گئے ۔

2

نوازشریف نے ایٹمی دھماکے کیے تو بھارتی وزیراعظم خود چل کر لاہور آیا، بات چیت آگے بڑھنے لگی تو کارگل کا پنگا لے لیا گیا، کشمیر سمیت تمام مسائل مل بیٹھ کر حل کرنے کے لیے دستاویز پر دستخط ہوئے تھے۔ لیگی رہنما اسحاق ڈار کا سینیٹ میںاظہار خیال، بولے روپے کی بے قدری تمام مسائل کی ماں ہے ، پہلی بار وزیر خزانہ بنا تو ڈالر کو 52روپے پر مستحکم رکھا، دسمبر 2017میں پاکستانی روپیہ ایشیا کی مستحکم ترین کرنسی تھی،

3

آرمی چیف سید عاصم منیر سے سعودی بری فوج کے کمانڈر کی ملاقات، باہمی دلچسپی سمیت دفاعی ، سیکورٹی اور فوجی تعاون پر تبادلہ خیال، علاقائی سیکیورٹی اشتعال اور مشرق وسطی میں جاری تنازعہ پر بھی بات چیت، سعودی کمانڈر نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے کردار کو سراہا، آرمی چیف نے کہا پاکستان سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، سعودی وفد کی جی ایچ کیو آمد پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

4

غزہ میں عارضی جنگ بندی کا آج آخری روز،حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے تین دور چل چکے ہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے لیے جنگ میں کیے جانے والے 4 دن کے وقفے کے معاہدے کا آج آخری دن ہے۔مصر، قطر اور امریکا اس جنگ بندی کو پیر سے آگے بڑھانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں جب کہ نیتن یاہو نے غزہ میں اسرائیلی افواج سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہمیں کوئی چیز نہیں روک سکے گی۔‘‘

5

غزہ میں فلسطینیوں کا تاریخ کا تیز ترین قتلِ عام، نیویارک ٹائمز کی دل دہلا دینے والی رپورٹ،اسرائیلی فوجیوں نے 48 دن میں جتنے فلسطینی شہید کیے، تیز رفتار قتل عام کے حساب سے ان کی تعداد امریکا کی 20 سالہ افغان جنگ سے زائد ہے، صہیونی فورسز نے 7 ہفتوں کے فضائی حملوں میں عراق جنگ کے پہلے سال کے مقابلے میں بھی دو گنا شہریوں کو قتل کیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کی شہادتیں یوکرین جنگ میں 2 سالہ اموات سے بھی زائد ہیں۔ واضح رہے کہ غزہ میں 7 اکتوبر سے اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں اب تک 14 ہزار 850 فلسطینی شہید اور 36 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ میں ہونے والی ہلاکتوں کے اعداد و شمار کا محتاط جائزہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل کے حملوں کے دوران اموات کی جو شرح ہے، صدی میں اس کی بہت کم نظیر ملتی ہے۔