خبر نمبر 1

سائفر کیس سابق چیئرمین پی ٹی آئی کا جنرل (ر) باجوہ کو گواہ بنانے کا اعلان،جنرل باجوہ نے ڈونلڈ لو کے کہنے پر سب کیا، انہیں عدالت بلاؤں گا۔ا مجھ سے کسی نے مذاکرات نہیں کیے، لکھ کر دینے کو تیار ہوں کہ الیکشن پی ٹی آئی جیتے گی۔مجھے جس طرح پکڑا گیا، سب ایک پلان تھا، نواز شریف لندن پلان کے بعد پاکستان آئے، جیل میں کسی مشکل میں نہیں، جیل میں رہنا عبادت سمجھتا ہوں۔خاور مانیکا کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا میں نے بشریٰ بی بی کی شکل دیکھی ہی تب تھی جس دن نکاح کیا تھا، بچوں کو اپنی والدہ کے خلاف بیان دینے کا کہا جا رہا ہے۔
خبر نمبر 2
سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت کے معاملے پر رجسٹرار سپریم کورٹ کے نوٹس کا جواب جمع کرادیا۔جسٹس مظاہرنقوی نے جواب کی کاپی سپریم کورٹ کی 3 رکنی کمیٹی کوبھی بھجوادی جس میں کہا گیا ہےکہ میں نے دو آئینی درخواستیں سپریم کورٹ میں دائرکر رکھی ہیں، میری درخواستوں پر تاحال نمبر نہیں لگایا گیا، یہ آئینی درخواستیں تین رکنی کمیٹی کے سامنے رکھی جائیں اور اور میری دونوں آئینی درخواستوں کو سماعت کیلئے مقرر کیا جائے۔جسٹس مظاہر نے جواب میں استدعا کی ہےکہ 20 نومبرکو دائرپہلی آئینی درخواست کی بھرپورپیروی کروں گا، میرے خلاف جاری شوکاز نوٹس واپس لیا جائے۔جسٹس مظاہر نے جواب میں کہا کہ اسسٹنٹ رجسٹرارنے پوچھا میں اپنی درخواست کی پیروی چاہتاہوں یا نہیں؟ رجسٹرارکو اختیار نہیں کہ آئینی درخواست کے قابل سماعت ہونےکا فیصلہ کرے، قانون کےمطابق ججزکی 3 رکنی کمیٹی ہی درخواست کا جائزہ لے سکتی ہے، میرے وکیل نےکبھی نہیں کہا تھا کہ الزامات واضح ہونےکے بعد قانونی اعتراض نہیں کریں گے، میری سپریم کورٹ تعیناتی کی مخالفت والےاعتراض پرچیف جسٹس نے وضاحت کی تھی، چیف جسٹس کی وضاحت کے بعد صرف اس اعتراض سے دستبرداری اختیارکی تھی اور اعتراض واپس یہ سمجھ کرلیا تھاکہ جوڈیشل کونسل غلطی تسلیم کرتے ہوئے شوکاز واپس لےگی۔
خبر نمبر 3
(آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے 14 دسمبرتک کا شیڈول جاری کردیا۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کے شیڈول میں پاکستان کا کیس شامل نہیں۔ذرائع کا کہنا ہےکہ وزارت خزانہ کے حکام نے 70 کروڑ ڈالرکی اگلی قسط کیلئے اجلاس 7 دسمبر کوبلانےکا امکان ظاہرکیا تھا، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ 15 نومبر کو طے پایا تھا۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس معاہدےکے 6 سے 8 ہفتے بعد بلانے کا امکان ہے جب کہ دسمبر کے آخری عشرےمیں کرسمس تعطیلات شروع ہو جائیں گی۔
خبر نمبر 4
سائفر کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت، 6 میڈیا نمائندگان کو جانے کی اجاز ت،اڈیالہ جیل میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس کی سماعت کررہے ہیں جس سلسلے میں ملزمان کی طرف سے بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے جب کہ نیب پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس دلائل دیں گے۔
خبر نمبر 5
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے اسموگ کے تدارک کےلیے دائر درخواستوں پر سماعت کی جس سلسلے میں ڈی جی ماحولیات عدالت میں پیش ہوئے۔،لاہور ہائیکورٹ: باربار آلودہ دھواں چھوڑنے والی فیکٹریوں کو 10،10لاکھ جرمانے کی ہدایت، دوران سماعت عدالت نے سیل ہونے والی فیکٹریوں کو ڈی سیل کے لیے جوڈیشل واٹر کمیشن سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔عدالت نے باربار آلودہ دھواں چھوڑنے والی فیکٹریوں کو 10،10لاکھ جرمانہ کرنےکی ہدایت کی جب کہ اس دوران ڈی جی ماحولیات نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ ماحولیات نے جو فیکٹریاں سیل کیں مالکان نے خود ڈی سیل کردیں، خود سے انڈسٹریز والے فیکٹریاں ڈی سیل کر لیتےہیں۔
خبر نمبر 6
بھارتی ائیرفورس کا تربیتی طیارہ دوران پرواز کریش، 2 پائلٹ ہلاک،بھارتی میڈیا کے مطابق یہ حادثہ ریاست تلنگانہ کے ضلع میدک میں پیش آیا، تربیتی طیارے نے حیدرآباد کی ائیر فورس اکیڈمی سے معمول کی تربیتی اڑان بھری تھی اور دوران پرواز طیارے کو فضا میں ہی حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں ٹرینر اور زیر تربیت پائلٹ ہلاک ہوگئے۔
خبر نمبر 7
مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ ٹکٹ دیتے وقت سیاسی جماعتوں کو پلِ صراط اور اصولوں کی بھول بھلیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں دانیال عزیز کو شوکاز نوٹس اور شاہد خاقان عباسی کی تنقید نظر انداز کرنے سے متعلق سوال پر خرم دستگیر نے کہا کہ شاہد خاقان کی تنقید عمومی تھی اور اس سے پارٹی میں جمہوری کلچر کی عکاسی ہوتی ہے تاہم دانیال عزیز نے دو افراد کا نام لے کر ذاتی تنقید کی جس پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔
خبر نمبر 8
یوسف رضا گیلانی نے ’فیورٹ‘ کا تاثر ختم کرکے فری اینڈ فیئر الیکشن کا مطالبہ کردیا،لاول بھٹو معروضی حالات کے مطابق اپنے بیان دے رہے ہیں، آصف زرداری اور بلاول بھٹو دونوں ایک پیج پر ہیں، کوئٹہ جلسے کے بعد آصف زرداری اور بلاول بھٹو کے درمیان اختلاف کا تاثر زائل ہوگیا ہے۔ لودھراں میں میڈیا سے گفتگو، کہا مجھے نہیں لگتا کہ پیپلز پارٹی کسی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرے گی، پارٹی کا مؤقف ہے کہ اپنے منشور کے ساتھ الیکشن لڑیں گے۔