خبر نمبر 1
اسلام آباد میں جج کے گھرکام کرنے والی تشددکاشکار کمسن بچی رضوانہ نے انکشاف کیا ہے کہ جج بھی مارتا تھا اور انکی بیوی کے علاوہ بچے بھی تشدد کرتے تھے۔رضوانہ 5 ماہ جنرل اسپتال لاہور میں زیر علاج رہنے کے بعد آج ڈسچارج ہوگئی جس پر اسے چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے تحویل میں لے لیا۔کمسن رضوانہ کا کہنا تھاکہ امی کی یاد آرہی ہے امی کو بتایا ہے کہ میں اسپتال سے جارہی ہوں۔ گلا دبا کرماراجاتا تھا اور آنکھوں میں سیدھی انگلیاں ماری جاتی تھی، سرپر ڈنڈے مارتے تھے اورپرانے زخموں پر بھی ڈنڈے مارے جاتے تھے، مجھے کبھی بھی کسی ڈاکٹر یا اسپتال نہیں لے جایا گیا۔
2
سپریم کورٹ نے فاٹا میں گھی، آئل اور اسٹیل انڈسٹری پر سیلز ٹیکس غیرآئینی قرار دیدیا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ قبائلی علاقوں کے انضمام کے بعد 30 جون 2024 تک سیلز ٹیکس وصولی غیرآئینی ہے، آئینی ترمیم کے ذریعے قبائلی علاقوں کا انضمام ہوا۔قبائلی علاقوں میں انڈسٹری کو فروغ دینے کیلئے سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔
3
بجلی صارفین کو زائد بل بھجوانےکامعاملہ، پاورڈویژن نے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی۔پاور ڈویژن کی جانب سے کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق سابق سیکرٹری پاور ڈویژن عرفان علی کمیٹی کی سربراہی کریں گے، پاور ڈویژن کی جانب سے کمیٹی کے ٹی او آرز بھی جاری کردیےگئے۔ کمیٹی اراکین میں ایم ڈی نیسپاک زرگام اسحاق خان، عابدلودھی کنسلٹنٹ یو ایس ایڈ، سابق ایم ڈی این ٹی ڈی سی ڈاکٹر فیاض چوہدری کمیٹی میں شامل ہیں۔
4
سندھ میں کارپوریٹ فارمنگ کیلئے 52 ہزار ایکڑ سرکاری زمین مختص کرنے کی منظوری،نگران سندھ حکومت نے اس منصوبے کے لیے 52713 ایکڑ سرکاری زمین مختص کرنے کی حتمی منظوری دی، جس میں خیرپور میں 28 ہزار ایکڑ، مٹھی میں 10 ہزار ایکڑ، دادو میں 9 ہزار305 ایکڑ، سجاول میں 3 ہزار 408 ایکڑ اور ٹھٹھہ و بدین میں ایک ایک ہزار ایکڑ اراضی حوالے کی جائے گی۔
5
لاہور ہائیکورٹ کا پولیس اہلکاروں کو شہریوں کو لائسنس کے نام پر ہراساں نہ کرنے کا حکم،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی ضیا باجوہ نے ایک صفحے پر مشتمل تحریری حکم جاری کیا جس میں عدالت نے پولیس اہلکاروں کو شہریوں کو لائسنس کے نام پر ہراساں کرنے سے روک دیا۔


