لاہور (ای پی آئی ) سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کے خلاف ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں کیس کی سماعت ہوئی دوران سماعت وکیل فیصل چوہدری نے فواد چوہدری کے خلاف درج مقدمے کا متن پڑھا اور کہا کہ فواد چوہدری کے خلاف مدعی راولپنڈی کا رہائشی ہے، فواد چوہدری کو کون سا نیا نوٹ اینٹی کرپشن محکمۂ نے دیا ہے؟
تفتیش نہیں کی گئی، نوٹس دیا گیا لیکن واپس لے لیا گیا، پراپرٹی بلڈوز کرنے کی کوشش کی، سیاسی انتقام لینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو سیاستداں اچھا نہیں لگتا اسے ہتھکڑیوں میں رکھ دیا جاتا ہے۔ فواد چوہدری سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ممبر ہیں، ملک آئین اور قانون کے تحت نہیں چل رہا۔
پراسیکیوٹر عدنان علی نے ایک روزہ راہداری ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ضمانت اسلام آباد میں دائر نہیں ہو سکتی کیونکہ فواد چوہدری گرفتار ہیں، راہداری ریمانڈ کے اسٹیج پر کیس کے میرٹ کا فیصلہ نہیں ہو سکتا، فواد چوہدری پر بطور وزیر کرپشن کرنے کا الزام ہے۔
بعد ازاں عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے فواد چوہدری کا ایک روزہ راہداری ریمانڈ منظور کر لیا


