اسلام آباد(عابدعلی آرائیں) سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے چیئر مین سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اور سپریم کورٹ کے دیگر ججز کے نام کھلا خط لکھا ہے۔ 12 دسمبر، 2023 کو لکھا گیا خط 4 صفحات اور 7 پیراگرافس پر مشتمل ہے۔
پیراگراف نمبر 1:
جسٹس مظاہر نقوی اپنے خط میں لکھتے ہیں کہ میں یہ خط اس ادارے کی عزت اور وقار کے لئے لکھ رہاہوں جہاں آپ اور میں ان حالات میں عوامی عہدہ سنبھالے ہوئے ہیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے میرے کیس سے متعلق غلط معلومات کا حجم حیران کن ہے میں آج آپ کو اس غلط معلومات سے متعلق بتانا چاہتا ہوں اور آپ کے علم میں بدقسمت تفصیلات لانا چاہتا ہوں تاکہ سپریم کورٹ کے اندر سے انصاف کی فراہمی میں آنے والی رکاوٹوں کو بطور ثبوت ریکارڈ پر لا سکوں۔ تاکہ کل کسی کو بھی یہ موقع نہ ملے کہ وہ کہے اسے اس معاملے میں علم نہیں تھا۔
پیراگراف نمبر 2:
قابل احترام ججز جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس سردار طارق مسعود نے 3 اپریل 2023 کو سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو خط لکھا جس میں انہوں نے میرے خلاف فوری طور پر کارروائی شروع کرنے کے لئے کہا ۔ یہ خط آڈیو لیکس کا تنازع آنے کے بعد لکھا گیا جس میں کہا گیا کہ
"ہمیں مدعا علیہ جج کو اس الزام سے ضرور نکالنا اور اس کے وقار کو مکمل طور پر بحال کرنا ہو گا یا ہمیں آئین کے مطابق رپورٹ پیش کرنی چاہئے۔ مدعا علیہ جج کو غیر یقینی صورتحال میں چھوڑنے سے نہ صرف اس جج بلکہ عدلیہ کی ساکھ بھی متاثر ہو گی عوامی اعتماد عدلیہ کا وقار اور آزادی ہم سے اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اس معاملے میں بلاتاخیر کارروائی شروع کی جائے”۔
جسٹس مظاہر علی نقوی نے جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس سردار طارق مسعود کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ آج میں وہ کہہ رہا ہوں جو پہلے نہیں کہا۔ کیا قابل احترام چیف جسٹس آف پاکستان اس لمحے تک اس جج کو الزام سے بری کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں اور عدلیہ اور اس جج کی ساکھ پر منڈلاتے غیر یقینی کے بادل ختم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں؟ جسٹس مظاہر نقوی نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کیوں ہے کہ جب چیف جسٹس کو اپنی غیر ظاہر کردہ پراپرٹیز پر بھی اس طرح کی کارروائی سے استثنا حاصل ہے تو پھر کیوں سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے اس جج کو بلایا جا رہا ہے جس کے اثاثے قانونی طور پر حاصل کئے گئے ہیں اور وہ اثاثے ٹیکس ریٹرنز میں ظاہر کئے گئے ہیں۔ جسٹس مظاہر نقوی سوال اٹھاتے ہیں کہ اس غیر معقول تفریق کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز موجود ہے؟
پیراگراف نمبر 3:
جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی لکھتے ہیں کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے 28 اکتوبر 2023 کو مجھے جاری کئے گئے شوکاز نوٹس میں قانونی آئینی اور دائرہ اختیار سے متعلق بہت سے نقائص پائے جاتے ہیں ان نقائص کی نشاندہی میں نے 10 نومبر کو سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس جمع کرائے گئے ابتدائی جواب میں کی ہے۔ کونسل نےانصاف کے تقاضے پورے کرنے اور اجلاس میں جائیداد کی تفصیلات مانگنے کی بجائے 20، 21 اور 22 نومبر کو مسلسل اجلاس بلا کر میرے ابتدائی جواب کا جائزہ نہیں لیا اور مجھے دوبارہ شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے نادانستہ طور پر اپنے پہلے شوکاز نوٹس کے خامیوں سے بھرپور ہونے کا اعتراف کر لیا ہے اور جو کارروائی بغیر تحقیقات کے میرے خلاف شروع کی گئی تھی سپریم جوڈیشل کے ممبران اس کارروائی کو دیکھنے کے لئے ان فٹ ہیں کیونکہ وہ اپنی جانبداری ظاہر کر چکے ہیں۔
پیراگراف نمبر 4:
جسٹس مظاہر علی نقوی نے کہا ہے کہ یہ ایک تکلیف دہ سچائی اب تک سچائی ہے اور میں یہ سچائی بیان کرتا رہوں گا سپریم جوڈیشل کونسل کے چئیرمین اور اس کے ممبران کی طرف سے میرے ساتھ جو سلوک کیا گیا ہے وہ انتہائی ذلت آمیز ہے میں نے سیکرٹری کے توسط سے سپریم جوڈیشل کو نسل کو 11 مرتبہ لکھا ہے کہ مجھے اپنا دفاع تیار کرنے کے لئے ضروری دستاویزات فراہم کی جائیں میں نے سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل کو 2، 4، 6، 8، 10، 16، 20، 22، 30 نومبر اور 6 اور 8 دسمبر کو لکھا میری تمام درخواستوں پر ابھی تک عمل نہیں کیا گیا میں نے کم از کم 4 مختلف مواقع پر یہ تفصیلی طور پر لکھا ہے کہ چئیرمین سپریم جوڈیشل کونسل اور 2 ممبران میرے معاملے کی سماعت سے دستبردار ہو جائیں نا تو میری ان درخواستوں کو دیکھا گیا اور نہ ہی ان کا جواب دیا گیا ہے کیا چئیرمین سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس قاضی فائز عیسی نے ماضی میں اپنے خلاف ریفرنس میں سپریم کورٹ کے سامنے جسٹس اعجاز الااحسن اور جسٹس سردار طارق مسعود کی دستبرداری کا مطالبہ نہیں کیا تھا میں دوبارہ کہتا ہوں کہ آئین پاکستان میں یقینی بنائے گئے میرے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور امتیازی سلوک کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز موجود ہے میں اپنے معاملے میں ملک کے سب سے بڑے اور محترم قانونی فورم سے انصاف کی راہ میں آنے والی رکاوٹ دور کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔
پیراگراف نمبر 5:
جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے خط میں لکھا ہے کہ آخر کار میری طرف سے آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت دائر کی گئی 2 آئینی درخواستیں 15 دسمبر 23 جمعہ کے دن 3 رکنی بینچ کے سامنے سماعت کے لئے مقرر کی گئی ہیں اس بینچ کی تشکیل پر اعتراض اٹھائے بغیر مجھے اس بات کی اجازت دیجئے کہ آپ کی توجہ 11 دسمبر کو جسٹس اعجاز الااحسن کی طرف سے رجسٹرار سپریم کورٹ کو لکھے گئے خط کی طرف مبذول کراؤں۔ جسٹس اعجاز الااحسن کا نوٹ ایکسپوز کر رہا ہے کہ متعلقہ اتھارٹی کی طرف سے کس انداز میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے جمعرات کے دن 7 دسمبر کو کمیٹی کے تینوں ارکان نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ میرا معاملہ سننے والا بینچ سنیارٹی کی بنیاد پر بنایا جائے گا صرف اس جج کو بینچ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا جو رضا مندی ظاہر نہیں کرے گا جسٹس مظاہر نقوی نے 3 رکنی کمیٹی کے فیصلے کا متعلقہ حصہ اپنے جواب میں شامل کرتے ہوئے کہا ہے کہ فاضل چیف جسٹس نے کیوں اپنے فیصلے کے خلاف بینچ بنانے کا فیصلہ کیا ۔
پیراگراف نمبر 6:
میں اس بات پر رائے دینے کی آزادی رکھتا ہوں کہ 11 دسمبر کو آدھی رات کے وقت میری رہائش گاہ پر ایک خط پہنچایا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونس کا اجلاس 14 دسمبر جمعرات کے دن ڈھائی بجے ہو گا یہ ہماری بدقسمت تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ سپریم کورٹ میں آئینی پٹیشنز دائر ہونے اور ایک بینچ کے سامنے وہ درخواستیں سماعت کے لئے مقرر ہونے کے باوجود سپریم جوڈیشل کونسل نے اپنی کارروائی روکنے سے انکار کیا ہے اور مزید ایک اجلاس طلب کر لیا ہے حالانکہ میری پٹیشنز میں سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا سپریم کورٹ آف پاکستان سپریم جوڈیشل کونسل سے زیادہ بااختیار فورم نہیں ہے ؟ کیا اس معاملے میں کی مینجمنٹ کے حوالے سے یہ کنڈکٹ قابل قبول ہے بالکل بھی نہیں! سپریم جوڈیشل کونسل کے چئیرمین واضح طور پر بار بار قانون اور آئین کے تحت مجھے حاصل بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں صرف یہی عمل چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف جانبداری کا میرا مقدمہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔ میں بالکل واضح طور پر کہتا ہوں کہ مجھے اس جاری کارروائی پر کوئی اعتماد نہیں ہے ان کا مقصد واضح اور پہلے سے طے شدہ ہے۔
پیراگراف نمبر 7:
میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی سروس میں ہوں میں صرف پاکستان کے عوام کا خدمتگار ہوں اس کے علاوہ کسی کا خدمتگار نہیں میں نے سیاسی اشرافیہ کے ہاتھوں کاکھلونا بننے سے انکار کیا جس کی وجہ سے میں اس انکار کے اثرات بھگت رہا ہوں میں سپریم جوڈیشل کونسل کی بوگس کارروائی کو چیلنج کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہوں اور اسے منطقی انجام تک پہنچاؤں گا میری ساکھ اہمیت کی حامل ہے لیکن میری سیٹ کی ساکھ اس سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے اسی لئے یہ خط لکھا ہے کہ اب یہ معاملہ میری ذات کا نہیں ہے یہ اصول کا معاملہ ہے میرا مسئلہ اب ایک ادارے کا مسئلہ ہے کیا سپریم کورٹ آف پاکستان کسی چیز کے لئے بھی کھڑی نہیں ہو گی


