اسلام آباد (ای پی آئی ) لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن کو عام انتخابات میں آر اوز ، ڈی آر اوز کی تعیناتی روکنے کے حکم کے خلاف الیکشن کمیشن کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت ،
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں ، جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس منصور علی شاہ نے سماعت کی ۔دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی سے سوال کیا کہ کیا جلدی تھی کہ اس وقت آنا پڑا؟ جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ انتخابات 8 فروری کو کروانے کے لیے آج درخواست لازم تھی
چیف جسٹس نے کہا کہ اگر میں فلائیٹ لے کر چلا جاتا تو آپ کیا کرتے؟ خیر .ہم خدمت کے لیے حاضر ہیں ۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ آر اوز ڈی آر اوز بیورو کریسی سے لینے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ لاہور ہائیکورٹ نے معطل کیا، لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے سے انتخابی عمل رک گیا ہے، پی ٹی آئی کے عمیر نیازی نے ہائیکورٹ میں اپیل کی، پی ٹی آئی نے کہا کہ جائے،
اس حوالے سے لاہور ہائیکورٹ نے حکم امتناعی دے دیا، معذرت خواہ ہیں آپ کو تکلیف دی۔وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ریٹرننگ افسران کے لیے پہلی ترجیح اپنے افسران ہیں۔
وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے کہا ہے آئین کے آرٹیکل 218 تھری کے تحت شفاف الیکشن کرائے جائیں۔جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ کیا آرٹیکل 218 تھری میں کچھ ایسا ہے کہ انتخابات شفاف نہیں ہو سکتے؟وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی کاموقف ہے آر اوز ڈی آر اوز کی تعیناتی کے لیے چیف جسٹس ہائیکورٹ سے مشاورت کی جائے۔
وکیل نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن نے عدلیہ کو فروری میں جوڈیشل افسران کیلئے خط لکھا تھا، عدلیہ نے زیر التوا مقدمات کے باعث جوڈیشل افسران دینے سے معذوری ظاہر کی تھی۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہائیکورٹ کے خط کے بعد درخواست گزار کیا انتخابات ملتوی کروانا چاہتے تھے؟ وکیل نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے جواب نہیں دیا،
پشاور ہائیکورٹ نے کہا جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی سے رجوع کریں۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ درخواست گزار کہتے ہیں انتظامی افسران کی آر او تعیناتی ہمیشہ کیلئے ختم کی جائے، درخواست میں استدعا تھی کہ الیکشن کمیشن کو عدلیہ سے ریٹرننگ افسران لینے کی ہدایت کی جائے۔
سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو آج ہی عام انتخابات کا شیڈول جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے لاہور ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی درخواست پر حکمنامہ جاری کردیا ۔ حکمنامے کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے عجلت میں غیر ضروری فیصلہ دیا ، کیوں نہ درخواست گزار کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔
الیکشن کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیاتھا، اپیل میں الیکشن کمیشن نے استدعا کی تھی کہ سپریم کورٹ 8 فروری کو انتخابات کروانے کے فیصلے پر عمل درآمد کروائے۔


