1
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ریٹرننگ افسران اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو آج ہی الیکشن شیڈول جاری کرنے کا حکم دے دیا۔سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کو مزید کسی کارروائی سے روک دیا، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عدالت حکم دیتی ہے لاہورہائی کورٹ اس درخواست پر مزید کارروائی نہ کرے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ضلعی انتظامیہ کو ڈی آر اوز اور آر اوز تعینات کرنے کا لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جس پر چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔
2
اگر انتخابات بروقت نہ ہوئے تو ملک انارکی کی طرف چلا جائے گا۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا جندول خزانہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب ،کہا اس وقت معیشت تباہ حال ہے اور پاکستان میں بیروزگاری عام ہے، ملک کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے نکالنے کا واحد راستہ 8 فروری کو انتخابات کا انعقاد ہے۔ بروقت شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے، ملکی استحکام کیلئے شفاف انتخابات کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے، جو لوگ الیکشن کو ملتوی کرنے کی تجویز دے رہے ہیں وہ اس ملک کو اندھیروں کی جانب دھکیل رہے ہیں۔
3
سابق صدر آصف زرداری 18 دسمبر کو کراچی سے تربت کے دورہ پر پہنچیں گے جہاں وہ فٹبال سٹیڈیم میں ورکرز کنونشن سے خطاب کریں گے۔دورہ تربت کے موقع پر مکران کی اہم سیاسی شخصیات کی پیپلز پارٹی میں شمولیت متوقع ہے، آصف علی زرداری کی آئندہ ہفتے جنوبی پنجاب کے امیدواروں سے ملاقات کا بھی امکان ہے۔
4
مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ہمارا موقف بڑا سادہ ہے کہ 8 فروری کو الیکشن ہونے چاہئیں، پی ٹی آئی نے رخنہ ڈالنے کی کوشش کی۔ جب سب کچھ ٹھیک چل رہا ہوتا ہے تو پی ٹی آئی رخنہ ڈال دیتی ہے، 8 فروری کو الیکشن ہونا ہے اسے ہونے دیں۔پی ٹی آئی نے لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کر کے انتخابات کے انعقاد میں رخنہ ڈال دیا، باہر ہم پر الیکشن روکنے کا الزام لگاتے ہیں اور پٹیشن انہوں نے دائر کی۔ لاہور ہائی کورٹ کا لارجر بینچ بن گیا ہے، اسی لیے ہم لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کریں گے۔سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کی میڈیا ٹاک
5
کمشنرز کھاد کی شفاف تقسیم یقینی بنائیں، وزیر اعلیٰ سندھ کا مراسلہ،ہ عوام الناس کیلئے کھاد کی شفاف تقسیم یقینی بنائی جائے۔ بدعنوانی کے مرتکب افسران کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کریں، انہوں نے استفسار کیا کہ صوبے میں کھاد کی منصفانہ تقسیم کے خدشات روز بروز کیوں بڑھتے جا رہے ہیں؟ کھاد کی ذخیرہ اندوزی یا حکومت کے منظورشدہ نرخوں سے زائد پر فروخت کو فوراً روکا جائے، کھاد کی تقسیم کو مؤثر طریقے سے مانیٹر اور ریگولیٹ کرنے کیلئے ضروری اقدامات کئے جائیں، صوبے بھر میں کھاد کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کو روکا جائے۔وزیراعلیٰ سندھ مقبول باقر کی کمشنرز کو ہدایت
6
نگران حکومت پنجاب نے عام انتخابات سے قبل بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنرز کو ایک بار پھر دفعہ 144 کے نفاذ کا اختیار دے دیا ہے۔ڈپٹی کمشنرز اضلاع میں قیام امن یقینی بنانے کیلئے دفعہ 144 نافذ کر سکیں گے، ڈپٹی کمشنرز کے پاس دو ماہ کیلئے دفعہ 144 نافذ کرنے کا اختیار ہوگا، ڈپٹی کمشنرز کو دفعہ 144 کے نفاذ کا اختیار دینے کیلئے آرڈنینس بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
7
محمد سلیم خان ڈائریکٹر جنرل تعلقات عامہ محکمہ اطلاعات سندھ تعینات،محمد سلیم خان کی تعیناتی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، محمد سلیم خان کو گزشتہ ماہ ریگورلر بنیادوں پر گریڈ 20 میں ترقی دی گئی تھی۔محمد سلیم خان تعلقات عامہ اور میڈیا مینجمنٹ میں 34 سال سے زائد عرصے کا تجربہ رکھتے ہیں۔
8
8 فروری کو انتخابات: آئینی و قانونی طور پر الیکشن کمیشن کو کل تک شیڈول جاری کرنا ہوگا۔آئینی اور قانونی طور پر انتخابی شیڈول 54 دن کا ہوتا ہے، سپریم کورٹ نے 8 فروری کو انتخابات کرانے کا حکم دے رکھا ہے، انتخابی شیڈول کے مطابق 17 دسمبر پہلا دن اور 8 فروری 54 واں دن بنتا ہے۔لاہور ہائیکورٹ نے بدھ کی رات ضلعی انتظامیہ افسران کو ڈی آر او اور آر او تعینات کرنے سے روکا تھا، لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد گزشتہ روز الیکشن کمیشن نے آر اوز اور ڈی آر اوز کی ملک بھر میں تربیت روک دی تھی۔اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ انتخابی شیڈول جاری ہوگیا توکاغذات نامزدگی کون دے گا اور کون وصول کرے گا؟
9
چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی، پی سی بی اور آئی سی سی کے درمیان معاہدے پر دستخط،یئرمین پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی ذکا اشرف نے آج دبئی میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے جنرل کونسلر جوناتھن ہال سے آئی سی سی ہیڈ کوارٹر میں ملاقات کی جس میں پاکستان کو چیمپئنز ترافی 2025 کی میزبانی کے حقوق کے معاہدے پر دستخط کئے گئے، ذکا اشرف نے معاہدے کے موقع پر آئی سی سی حکام کو تفصیلی بریفنگ دی۔
10
سٹاک مارکیٹ میں تیزی، 66ہزار کی نفسیاتی حد دوبارہ بحال،سٹاک ایکسچینج میں تیزی کے سبب 67فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں 1کھرب 29ارب 24کروڑ 5لاکھ 61ہزار 525روپے کا اضافہ ہوگیا۔کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 679.83 پوائنٹس کے اضافے سے 66130.02پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا، کاروباری حجم گزشتہ روز کی نسبت 77فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر 1ارب 74کروڑ 14لاکھ 61ہزار 525 حصص کے سودے ہوئے۔گزشتہ روز سٹاک مارکیٹ میں ٹریڈنگ کے دوران ایک ہی دن میں 1146 پوائنٹس کی کمی ہوئی اور 100 انڈیکس 65 ہزار 280 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔


